تحریر: علی ناصرزادہ

عالم اسلام کو کمزور کرنے کیلئے سعودی اسرائیل گٹھ جوڑ

خبر کا کوڈ: 1341778 خدمت: مقالات
علی ناصر

ہم توکب سے کہہ رہے تھے لیکن چلیں دنیا کو اب تو پتہ چل ہی گیا ہوگا جب ایک ہی روز ایک ہی کانفرنس میں سعودی عرب اور اسرائیل نے ایک جیسے بیان دیتے ہوئے ایران کے خلاف لب کشائی کی۔

خبر رساں ادارہ تسنیم:

عجیب اتفاق ہے کہ دنیا بھرمیں دہشت گردی، بدامنی، قتل وغارت، انسانی حقوق کی پامالی اور نفرتوں کو پروان چڑھانے والے یہ ممالک اب کھل کرشیروشکر ہوچکے ہیں اور اب انہوں نے اپنی خفیہ دوستی کا برملا اظہارکرنا بھی شروع کردیا ہے، اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ دھوکے کا شکارہونے والے ہمارے جیسے سادہ لوح لوگ مزید غلط فہمی میں نہیں رہیں گے۔

داعش کی مشترکہ تخلیق کے بعد سعودی عرب اپنے اس نومولود، نمک خوار بچے کومارنے کے نام پر اسلامی ممالک کے اتحاد کا ڈرامہ رچاتا ہے اور کبھی ایسی فوج کی تشکیل کیلئے اپنے وسائل استعمال کرتا ہے جس کا واضح مقصد امت مسلمہ میں تفریق، فرقہ واریت اور نفرتوں میں اضافے کے سوا کچھ نظرنہیں آتا، داعش کے خاتمے کے نام پر قائم کئے جانے والے لشکر کے حقیقی مقاصد آئی ایس آئی ایس کی سرکوبی سے زیادہ اس کی مدد اور حمایت ہے ورنہ کبھی ایسابھی ہوتا ہے کہ عراق، شا م اور ایران جیسے وہ ممالک جن کو داعش کھلے عام للکار رہی ہے وہ اس سے باہر ہوتے اور لطیفہ یہ ہے کہ جبوتی اس کا حصہ ہے، سبحان اللہ۔

سعودی عرب کی نئی بدلتی ہوئی ترجیحات کا ہی شاخسانہ ہے کہ عراق میں امن وامان تباہ کرنے والوں کی بھرپورمالی اورعملی مدد کے بعد عراقی وزیراعظم سے ملاقاتیں کی جارہی ہیں، شاید انہوں نے عراقی وزیراعظم کویاد دلایا ہو کہ ماضی میں صدام کے دور حکومت میں ایران کے خلاف جنگ و جدل کیلئے ہم ہی آپ کے اتحادی رہے ہیں جس میں لاکھوں بے گناہ شہری مارے گئے اور اب پھر دہشت گردی کے خاتمے کیلئے آپ کی مدد کو تیار ہیں اور سعودی عرب عراق میں آئے روز کے دھماکوں پر تشویش کا اظہار کرتا ہے، اب یہ توشاہ سلمان ہی بتا سکتے ہیں کہ پالیسی میں یہ بدلاؤ واشنگٹن اور تل ابیب کی اجازت سے آیا ہے یا کہیں وہ اپنی سوچ میں کچھ آزاد ہوگئے ہیں، ٹرمپ کے راگ میں کورس کے ساتھ گانے والے کی آزادی مبصرین کیلئے حیرت کا باعث ہوگی۔ نئے امریکی صدر کوعالمی طاقتوں کے ساتھ اوبامہ حکومت کے معاہدے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی صیہونیت نواز پالیسیوں کو آگے بڑھانے کیلئے تو بڑھکیں مارنے کی ضرورت تھی ہی کیونکہ امریکی اسٹیبلشمنٹ میں یہودی اثرونفوذ کے باعث ممکن ہے انکل سام کی کچھ مجبوریاں ہوں لیکن اس موقع پر سعودی عرب نے ٹرمپ کے ہم آہنگ جو بھجن گایا اسے اسلامی دنیا میں کسی طور اچھے انداز سے نہیں دیکھا گیا، یہ تو اللہ بھلا کرے حالت نزاع میں پڑی ہوئی اپنی اقوام متحدہ کا جس نے کم ازکم یہ توسچ بول ہی دیا کہ ایران عالمی برادری کے معاہدوں کی پاسداری کررہا ہے اس لئے کانگرس پر نئی پابندیوں کیلئے دباؤ ڈالنے اور منفی پروپیگنڈہ کرنے کی بجائے معاہدے کے مطابق پابندیاں ختم کرنے اور ایران کے منجمد اثاثے واپس کرنے کی ضرورت ہے۔

بات سعودی عرب اوراسرائیل کی مسلسل بڑھتی ہوئی دوستی سے شروع ہوئی تھی جس پرحزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ سمیت مختلف اسلامی ممالک کے متعدد سربراہان مملکت، دانشور اور حالات حاضرہ پر نظر رکھنے والے اظہار خیال کرتے ہوئے اسے عالم اسلام کے خلاف گہری سازش قرار دے چکے ہیں، ہم کسی تعصب کا شکار نہیں کہ ضرور ہی ہم سعودی عرب کی نیت پر شک کریں کہ وہ یہودیوں کے ساتھ مل کر ایک بار پھر اسلام اورعالم اسلام کے خلاف گھناؤنی سازش میں مصروف ہے لیکن کیا کیجئے سعودی عرب کی معلوم تاریخ یہی بتاتی ہے کہ آل سعود نے اپنے اقتدار کی راہ ہموار کرنے کیلئے صیہونیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے سازشیں کیں اور اب بھی ان کا اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ یہی غیراعلانیہ معاہدہ ہے کہ عرب دنیا میں آپ ہمیں نہ چھیڑیں، ہمارے اقتدار اور معاشرے میں جاری گھٹن کی وجہ سے عوامی تحریکوں کو ہم جیسے بھی دبائیں آپ نے شہنشاہیت اور آمریت کے خلاف بات نہیں کرنی اور ہم آپ کے ایجنڈے کی تکمیل میں کوئی کسر روا نہیں رکھیں گے، امریکہ اور اسرائیل مشرق وسطی اور خطے کے دوسرے حصوں میں جو مرضی کھیل کھیلیں سعوی عرب اور اس کے ساتھیوں کی طرف سے کسی قسم کی لب کشائی نہیں ہوگی، یہ بات مانے بنا اس لئے بھی کوئی چارہ نہیں کہ خلافت عثمانیہ کی معتدل حکومت گرانے کیلئے جب عالم اسلام میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو اسے مسلمانوں کے باہمی معاملات اور عقائد کی بجائے نسلی بنیادوں پر ابھار کر عرب ترک اختلاف کے ذریعے پروان چڑھایا گیا حالانکہ یہ معتدل، امن و آشتی پر مبنی اسلامی تعلیمات کی بجائے تشدد، نفرت اور ظلم کو پروان چڑھانے کی ابتداء تھی جسے آج پوری دنیا بھگت رہی ہے، لاکھ خامیوں کے باوجود خلافت عثمانیہ کے عہد میں مسلمانوں میں برداشت اور رواداری آج سے کئی گنا زیادہ تھی، اس مرکز کو توڑ کر آل سعود کو طاقت دینے کے عالمی کھیل نے دنیا کوعذاب سے دوچار کرکے رکھ دیا، پون یا ایک صدی قبل معاملہ یہ تھا کہ بحری قزاقوں کے اس خاندان کو برسراقتدار کیسے لایا جائے، اب مسئلہ ہے کہ گھٹن زدہ سعودی معاشرے میں جو تحریکیں پھوٹ رہی ہیں ان کو دبا کر آل سعود کے اقتدار کو بچایا کیسے جائے، یمن پر بوکھلاہٹ میں حملہ ہو یا شام اورعراق میں دہشت گردوں کی مبینہ پشت پناہی، القاعدہ کے قیام اور اسے چلانے کیلئے مالی مدد کا معاملہ ہو یا النصرہ فرنٹ، پاکستان میں لشکرجھنگوی کا معاملہ ہو یا افغانستان میں طالبان اورجماعۃ الاحرار، سعودی تانے بانے، مالی امداد اور نفرت پر مبنی مسخ شدہ نام نہاد اسلامی تعلیمات کہاں نہیں ملتیں، یہ توبھلا ہو ہیلری کلنٹن کا جس نے برسر بزم کئی برس پہلے ہی کہہ دیا کہ دنیا میں وہابی برانڈ اسلام پھیلانے کیلئے ہم نے کوشش کی اور دنیا میں حالیہ بدامنی، دہشت گردی، خود کش دھماکوں اورمسلمانوں کی موجودہ صورت حال کے ذمہ داربھی ہم (امریکہ)، سعودی عرب اور یہی وہابی برانڈاسلام ہے جو اپنے سوا سب کو کافر یا مشرک سمجھتا ہے، اسی لئے تو اہل سنت کے دنیا میں سب سے بڑے مرکز جامعۃالاظہر نے ان کی طرف سے خود کو سنی کہنے پر ہمیشہ شدید ردعمل کا اظہار کیا، اسی طرح کا ایک مقدمہ پاکستان میں ایک سابق رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ فضل کریم نے عدالت میں دائر کر رکھا تھا کہ اصلی اہل سنت والجماعت ہم ہیں، ملک میں دہشت گردی اورفرقہ واریت کی مرتکب وہابی اور سعودی برانڈاسلام کی حامل سپاہ صحابہ کو اہل سنت والجماعت کہلانے سے روکا جائے تاکہ یہ لوگ بھیس بدل کرعوام کو دھوکہ دینے میں کامیاب نہ ہوجائیں لیکن اب جب سعودی عرب اور اسرائیل مل کر علی الاعلان اسلامی دنیا کے امن کو تاراج کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو پردہ ہٹ چکا ہے، منافقت اورجھوٹ ویسے بھی زیادہ عرصہ نہیں چلتا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری