وزیراعظم پاکستان کا ای سی او اجلاس سے خطاب؛

دنیا کی 52 فیصد تجارت ای سی او کے خطے سے ہوتی ہے

خبر کا کوڈ: 1342918 خدمت: پاکستان
نوازشریف

اقتصادی تعاون تنظیم کے 13 ویں سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے اجلاس میں تمام معزز مہمانوں اور اجلاس کو کامیاب بنانے پر سیکرٹری جنرل اور ان کی ٹیم کا خیر مقدم کیا اور کہا: علاقائی روابط کو مضبوط بنانے کیلئے ای سی او اہم فورم ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اقتصادی تعاون تنظیم کے 13 ویں سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے سب سے پہلے ‏اجلاس میں تمام معزز مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور کہا: علاقائی روابط کومضبوط بنانے کیلئے ای سی او اہم فورم ہے۔

انہوں نے اجلاس کو کامیاب بنانے پر سیکرٹری جنرل اوران کی ٹیم کا بھی شکر ادا کیا اور کہا: ای سی او کا خطہ بےپناہ وسائل اور صلاحیتوں سے مالامال ہے‏ مشترکہ خوشحالی کیلئے رابطوں  کا فروغ  ضروری  ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم محمد نواز شریف  نے کہا ہے کہ ای سی او تنظیم خطے کا بہت بڑا احاطہ کرتی ہے اور دنیا کی 52 فیصد تجارت کا  مرکز  ای سی او تنظیم کے علاقے ہیں۔ ان علاقوں سے دنیا بھر کی 52 فیصد تجارت ہوتی ہے۔

وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ ہم  پاکستان آمد پر  اسلامی جمہوریہ ایران،  ترکمانستان، ترکی، تاجکستان اور آذربائیجان کے صدور سمیت تمام شرکاء کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں۔

انہوں نے اجلاس میں چین اور اقوام متحدہ کے نمائندوں کو بھی خوش آمدید کہا۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک سے جنوبی اور وسطی  ایشیاء کا خطہ منسلک ہوگا۔

پاکستان کی معیشت کی بہتری کا عالمی  ادارے اعتراف کر رہے ہیں۔

ای سی او فورم  حقیقی ترقی کے خواب کو پورا  کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے اس لئے ہم ان تمام ملکوں کو ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کے ذریعے جوڑنا چاہتے ہیں اور جوڑنے کا بہترین ذریعہ سی پیک کا پلان ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کو دنیا نے معاشی سرگرمیوں کے لئے تسلیم کر لیا ہے اور 20 کروڑ  آبادی کے ساتھ پاکستان دنیا کی بہت بڑی مارکیٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اقتصادی  اشاریے درست سمت میں جا رہے ہیں اور پاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔

اقتصادی تعاون تنظیم کے ساتھ مل کر  یہ سارے ممالک اقتصادی ترقی حاصل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایشیا تجارت کا بہترین مرکز بن رہا ہے اور اسلام آباد میں ہونے والا اجلاس اس سلسلے کی اہم کڑی ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم خطے میں تجارت اور ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

امن، استحکام اور خوشحالی ہمارے بنیادی اہداف ہیں۔

ریلوے، شاہراہیں، تیل اور گیس کی پائپ لائنیں خطے کو  ایک دوسرے کے قریب لا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مواصلات کے شعبے میں بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ سی پیک سے جنوبی اور وسطی ایشیائی خطے آپس میں منسلک ہو جائیں گے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری