مجلس وحدت مسلمین کی میزبانی میں آل پارٹیز کانفرنس + مشترکہ اعلامیہ کے نکات

خبر کا کوڈ: 1343232 خدمت: پاکستان
ایم ڈبلیو ایم

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی میزبانی میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی گئی۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، ملک میں دہشتگردی کی حالیہ لہر کے تناظر میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی میزبانی میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی گئی جس میں موجود تمام شرکا نے درج ذیل نکات پہ مکمل اتفاق کیا۔

1۔ آل پارٹیز کانفرنس وطن عزیز پاکستان کے تمام صوبوں، ریاست آزاد کشمیر و فاٹا میں جاری دہشت گردی کے ہر واقعہ ہر قسم کی دہشت گردی پرزور مذمت کرتی ہے۔

2۔ کانفرنس نیشنل ایکشن پلان کے اجرا اور آپریشن رد الفساد کے اعلان کو قومی سطح پہ بروقت خوش آئند اقدامات قرار دیتے ہوئے اس کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے نیز مطالبہ کرتی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ نافذ العمل بنایا جائے اور سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔

3۔ کانفرنس سرزمین افغانستان سے دہشت گردی کے اڈوں کے خاتمے کیلئے افواج پاکستان کی کاروائیوں کی مکمل حمایت کرتے ہوئے حکومت افغانستان سے مطالبہ کرتی کہ وہ مغربی سرحد پہ دہشت گردوں کی بیج کنی کرے۔

4۔ کانفرنس عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کو عالم اسلام اور بالخصوص وطن عزیز پاکستان کے لئے ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان اور ریاستی اداروں سے سے مطالبہ کرتی ہے کہ ملک بھر میں داعش کے ہم فکر عناصر اور دہشت گردی میں ملوث سہولت کاروں کے خلاف مکمل کریک ڈاؤن کرے۔

5۔ کانفرنس آئیڈیالوجی اور مسلک کے نام پر تکفریت کے پرچار کو پاکستان کی سلامتی اور فیڈریشن کے لئے زہر قاتل سمجھتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت ایسے تمام افراد اور ادارے جو تکفیری سوچ کو پروان چڑھانے میں ملوث ہوں ان کے خلاف آپریشن ردالفساد کے تحت بھر پور کاروائی کرے اور اس سلسلے میں رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پورے ملک میں مکمل اختیارات کے ساتھ کاروائی کا حکم دیا جائے۔

6۔ کانفرنس پاکستان میں استحکام کیلئے وزارت مذہبی امور سے مطالبہ کرتی ہے کہ بین المذہبی و بین المسلک ہم آہنگی کیلئے قومی کانفرنس بلائی جائے اور سرکاری سطح پر داعش کی فکر سے اظہار بیزاری کیا جائے۔

7۔ کانفرنس پاکستان میں سیاسی عمل کے استحکام اور جمہوریت کے فروغ کیلئے مطالبہ کرتی ہے کہ ملکی سلامتی کے تمام فیصلوں کی توثیق پارلیمنٹ سے لی جائے تاکہ ملک دشمن عناصر کو یہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ ملکی دفاع میں سیاسی و عسکری قیادت مکمل طور پر ہم آہنگ و متفق ہے۔

8۔ کانفرنس اس بات پر متفق ہے کہ پاکستان کی بقا، سلامتی اور اس کی ترقی و خوشحالی اس بات مضمر ہے کہ ہم بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ  اور علامہ اقبالؒ  کے نظریات پر عمل پیرا ہوں اور اس ملک کو صحیح معنوں میں قائد کا پاکستان بنائیں جس میں تمام مسالک کو آزادی اور ہر پاکستانی کو بنیادی حقوق حاصل ہوں۔

9۔ کانفرنس اس بات پر متفق ہے کہ نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن ردالفساد کے تحت کالعدم جماعتوں کو مختلف ناموں سے کام کرنے سے روکا جائے۔

علاوہ ازیں سابقہ آپریشنز کی کامیابیوں اور ناکامیوں اور اس کی وجوہات کو نہ صرف بیان کیا جائے بلکہ مختلف عدالتی کمیشنز کی رپورٹ کو بھی عوامی مفاد کیلئے جاری کیا جائے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری