علی آقا نوری:

پاکستان و ایران یک جان دو قالب ہیں، دونوں ممالک دوستی و محبت کے رشتوں میں بندھے ہیں

خبر کا کوڈ: 1343777 خدمت: پاکستان
پاک ایران

ایران کی یونیورسٹیوں میں طلبا کی تعداد میں بیحد اضافہ ہوا اور ان کی تعداد آج چار ملین تک جا پہنچ چکی ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، خانہ فرہنگ ایران راولپنڈی اور ادبی تنظیم مراسم کے زیر اہتمام پاک ایران دوستی کے رشتوں کو مستحکم تر کرنے کیلئے ایک روزہ مطالعہ ایران کا انعقاد کیا گیا۔

واضح رہے کہ خانہ فرہنگ ایران ایک ثقافتی مرکز ہے جو پاکستان کے علم و ادب ا ور ثقافت سے د لچسپی رکھنے والوں کے لیے خدمات سرانجام دے رہا ہے۔

ممتاز دانشور اور زبان و ادبیات فارسی کے استاد ڈاکٹر مظفر علی کشمیری نے’’مطالعہ ایران‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ایران کی تہذیب و تمدن ثقافت پر روشنی ڈالی۔

پروگرام کے میزبان ڈائریکٹر علی آقا نوری نے کہا پاکستان و ایران یک جان دو قالب ہیں دونوں ممالک دوستی و محبت کے رشتوں میں بندھے ہیں۔

ان ممالک کے عوام قدیم ثقافتی روایات کے امین ہیں، ایران نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا۔

انہوں نے ایران کی قدیم تاریخ بیان کرتے ہوئے انقلاب اسلامی کے بعد ہونے ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے اپنی داخلی ترقی اور خود مختاری پر توجہ دیتے ہوئے مختلف اداوار میں علمی، فنی، صنعتی، ورزشی اور ثقافتی میدانوں میں نمایاں ترقی کی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی یونیورسٹیوں میں طلبا کی تعداد میں بیحد اضافہ ہوا اور ان کی تعداد آج چار ملین تک پہنچ چکی ہے جو مختلف علمی میدانوں میں سرگرم عمل ہیں۔

انہوں نے ملک کی خواندگی کی شرح کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ملکی شرح خواندگی انقلاب سے پہلے صرف 48 فیصد تھی جو بڑھ کر 91 فیصد ہوگئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ثقافتی میدانوں میں ترقی کا یہ حال ہے کہ ایرانی فلم انڈسٹری جو کہ اخلاقی اور ٹیکینکل لحاظ سے منفرد ہے۔ ان میں سماجی اور اخلاقی مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے۔

ایرانی فلمیں بین الااقوامی فلمی میلوں میں اپنا لوہا منوا چکی ہے اور بیحد اہمیت کی حامل ہیں لہذا ایرانی فلموں کو برادر اسلامی اور پڑوسی ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مغرب کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ ایران کی علمی اور ثقافتی ترقی کو پوری دنیا میں منفی طور پیش کرے لیکن ایران کی انسان دوست پالیسیوں اور علمی و ثقافتی ترقی نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ ایران کے لوگ صلح پسند اور متمدن ہیں۔

انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دیرینہ برادرانہ اور دوستانہ تعلقات میں وسعت کے ساتھ ساتھ مختلف علمی اور ثقافتی میدانوں میں ملکر کام کرنے پر زور دیا اور دونوں اسلامی ممالک کی سلامتی امن اور کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

’مراسم‘ کے چیئرمین سید آل عمران نے کہا کہ ’مطالعہ ایران‘ کی ورکشاب سے ہم اپنے برادر اسلامی اور ہمسایہ ملک ایران کے بارے میں آشنا ہونگے۔

ایران ثقافت و تہذیب کی سرزمین ہے جہاں سے بزرگان دین اور اکابرین اسلام نے تبلیغ دین میں اہم کردار ادا کیا۔

شرکاء کو ملٹی میڈیا کے ذریعے ایران کے بارے میں معلومات فراہم کیں گئیں۔ ورکشاپ میں دستاویزی فلم، ایرانی دستکاریاں، آرٹ ٹورزم، ادبیات اور مشترکہ ثقافتی ورثے پر مشتمل نمائش کا اہتمام بھی کیا گیا۔

ان میں قلم زنی، منیاکاری، نقرہ کاری، لیدر ورک، پارچہ بافی وغیرہ شامل ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری