تسنیم کی خصوصی رپورٹ/

پی ایس ایل 2 فائنل سیکورٹی / دنیا کو مثبت تاثر جا رہا ہے کہ منفی؟؟

خبر کا کوڈ: 1343913 خدمت: پاکستان
پی ایس ایل

لاہور میں ٹاپ کلاس سیکورٹی میں پاکستان سوپر لیگ (پی ایس ایل) کے فائنل کرانے کا پاکستان کرکٹ کو فائدہ پہنچے گا یا نقصان؟

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، لاہور میں جاری ٹاپ کلاس سیکورٹی پلان سے محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان سوپر لیگ کا فائنل کسی جنگ زدہ علاقے میں ہونے جا رہا ہے۔

آیئے قذافی اسٹیڈیم اور فائنل کھیلنے والے کھلاڑیوں کے سیکورٹی پلان پر ایک نگاہ دوڑاتے ہیں۔

سیکورٹی پلان کے تحت پاک پولیس، فوج اور رینجرز کے 10 ہزار سے زائد اہلکاروں کو قذافی اسٹیڈیم کے اطراف تعینات کیا جائے گا۔ جبکہ باوردی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار بھی ڈیوٹی انجام دیں گے۔

میچ سے 2 روز قبل قذافی اسٹیڈیم کو مکمل بند کر دیا جائے گا اور اسٹیڈیم کی چپے چپے کی تلاشی کے بعد کلیئرنس دی جائے گی۔

سیکورٹی کے تناظر میں فیروز پور روڈ مکمل بند ہو گی اور نہر کے پل اور کلمہ چوک پر کنٹینر کھڑے کر کے ٹریفک بند کردی جائیگی۔

شائقین پیدل اسٹیڈیم تک جائیں گے جبکہ مین گیٹ سے صرف کھلاڑیوں اور بےحد اہم شخصیات (وی وی آئی پیز) کو گزارا جائے گا۔

شائقین  کی گاڑیاں لبرٹی مارکیٹ کی پارکنگ میں کھڑی کی جائیں گی جبکہ تمام افراد 5 درجاتی سیکورٹی سے گزریں گے۔

50 واک تھرو گیٹ نصب کیے جائیں گے اور ہر اینٹری پوائنٹ پر گزرنے سے پہلے مکمل جسمانی تلاشی ہوگی۔

میچ سے 3 گھنٹے قبل شائقین کو اسٹیڈیم کے اندر جانے کی اجازت ہوگی، موبائل فون، سگریٹ، ماچس، بیٹری، لائٹر ساتھ لانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اسی طرح ٹیموں کو ہوٹل سے اسٹیڈیم تک سربراہ مملکت کے معیار کی سیکورٹی دی جائے گی۔ ان کیلئے 4 ہیلی کاپٹرز موجود ہوں گے۔

کھلاڑیوں کو سیکورٹی کے حصار میں لانے کے ساتھ 3 مختلف راستوں کو روٹ پلان میں شامل کیا جائے گا۔

ایئرپورٹ سے ہوٹل اور ہوٹل سے اسٹیڈیم تک روٹ کو عام ٹریفک کیلئے مکمل طور پر بند کردیا جائے گا۔

اسٹیڈیم کے باہر ایلیٹ فورس کی30 سے زائد گاڑیاں ہمہ وقت گشت کرتی رہیں گی۔

ان تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود یا شائد بدولت، فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے تمام غیر ملکی کھلاڑیوں نے پی ایس ایل فائنل کے لیے لاہور آنے سے انکار کر دیا ہے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹر کی ٹیم میں کیون پیٹرسن، رائلی روسو، نیتھن میکلم، ملز اور لیوک رائٹ شامل ہیں۔

ان سب نے سیکورٹی وجوہات کی بناء پر لاہور میں فائنل کھیلنے سے انکار کیا ہے۔

ان کے ساتھ ساتھ شائقین کرکٹ کو تفریح فراہم کرنے کیلئے غیرملکی چیئرلیڈرز نے بھی پاکستان آنے سے انکار کردیا ہے۔

اسی طرح فائنل میچ کیلئے غیر ملکی کمنٹیٹرز لاہور نہیں آئیں گے۔  غیر ملکی کمنٹیٹرز این بشپ، ڈینی موریسن، ایلن ولکنز اور خاتون میل جونز نے فائنل کیلئے لاہور آنے سے معذرت کر لی ہے۔

اس قدر ٹاپ کلاس سیکورٹی پلان سے محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان سوپر لیگ کا فائنل کسی جنگ زدہ علاقے میں ہونے جا رہا ہے۔

سیکورٹی فراہم کرنا یقینا بہت اچھی بات ہے اور ملک کے موجودہ حالات میں تو لازم بھی ہے لیکن اس قدر سیکورٹی سے کہیں نہ کہیں دنیا کو نہ چاہتے ہوئے بھی یہ پیغام دے رہے ہیں کہ پاکستان ابھی (یا کم از کم ابھی) بین الاقوامی کرکٹ کے لئے تیار نہیں ہے۔

دوسری جانب، پاکستان سیکورٹی کی ان سرتوڑ کوششوں کے باوجود فیکا کو قائل نہیں کر سکا اور اس نے لاہور میں فائنل کے انعقاد کو ہائی رسک قرار دیا ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان بھی پاکستان میں فائنل کروانے کے حق میں نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ موجودہ ملکی حالات میں میچ کروانا سب سے برا فیصلہ ہے۔ سخت سیکورٹی اور بند سڑکوں سے کیا امن کا پیغام جائے گا؟ اس سے لوگوں کو تاثر جائے گا کہ ہم تو فوج کے ذریعے میچ کروارہے ہیں۔

تاہم چیئرمین پی سی بی شہر یار خان نے کہا ہے کہ لاہور میں فائنل سے غیرملکی ٹیموں کے لیے دروازے کھلیں گے۔

ان کے ساتھ ساتھ پی ایس ایل کے سربراہ نجم سیٹھی نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ اس فائنل کے لاہور میں کامیاب انعقاد سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی ہوگی۔

لیکن کیسے؟؟ انشاءاللہ لاہور میں امن کے ساتھ فائنل ہو جائے گا، لیکن اس کے بعد کیا ہوگا؟

کیا پاکستان کرکٹ بورڈ ہمیشہ ہر بین الاقوامی کھلاڑی کو پاکستان آ کر کھیلنے پر 10 ہزار امریکی ڈالر اضافی ادا کرے گا؟

کیا کھلاڑیوں کو ہر بار سربراہ مملکت کے برابر سیکورٹی دی جائے گی؟

یا جس شہر میں بھی میچ ہوگا آس پاس کے شہروں کی تمام پولیس وہاں تعینات کر کے وہاں کی تمام دکانیں 2 روز کے لئے بند کر دی جائیں گی؟

نجم سیٹھی نے چند روز پہلے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پی ایس ایل کا فائنل پاکستان میں کروانا اب انا کا مسئلہ بن چکا ہے۔

اگر تو واقعی یہ صرف انا کی بات ہے، تب تو ٹھیک ہے، سیٹھی صاحب اپنی ضد پوری کر لیں۔

لیکن ایسے حالات میں کہ جب ملک میں فوجی آپریشنز اور روزانہ سینکڑوں مشکوک افراد کی گرفتاری کے باوجود دہشتگرد کارروائیاں جاری ہیں، کیا واقعی لاہور میں پی ایس ایل کے فائنل کروانے سے پاکستان کی کرکٹ کو فائدہ ہوگا؟؟

پاکستان کی کرکٹ ملک میں پی ایس ایل کا فائنل کروانے سے نہیں بلکہ دہشتگردی ختم کرنے سے بحال ہوگی۔

کیونکہ دہشتگردی ہی وہ وجہ ہے جس کے سبب پاکستان سے بین الاقوامی کرکٹ رخصت ہوئی تھی۔

جہاں تک کرکٹ کا سوال ہے، تو زمبابوے کی ٹیم 2 سال قبل پاکستان کے دورے میں اسی شہر لاہور میں کرکٹ کھیل چکی ہے۔

تو کیا پاکستان میں کرکٹ بحال ہو سکی؟؟

نکتہ بہت ہی سادہ ہے، پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی صرف اسی دروازے سے ممکن ہے، جس دروازے سے بین الاقوامی کرکٹ، پاکستان سے رخصت ہوئی تھی؛ وہ دروازہ دہشتگردی کو مکمل کچلنے کے بعد خود بخود کھل جائے گا۔

پھر نہ تو پاکستان کے کرکٹ بورڈ کو بین الاقوامی کھلاڑیوں کو ہزاروں اضافی ڈالر دینے کی ضرورت پڑے گی، نہ پاکستان کی فوج کو کھلاڑیوں کی حفاظت کے لئے ملک کی مشرقی و مغربی سرحد چھوڑنے کی ضرورت پڑے گی، نہ پاکستان کی حکومت کو اسٹیڈیم کے اطراف کی دکانیں 2 روز تک جبرا بند کروانے کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی پاکستان کے عوام کو میچ پرامن ہو جانے کی دعائیں مانگنے کی ضرورت پڑے گی !!

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری