تو کون میں خوامخواہ !!! / فاٹا اصطلاحات میں افغانستان نے ٹانگ اڑا دی

خبر کا کوڈ: 1345064 خدمت: دنیا
پاکستان و افغانستان

وفاقی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں قبائلی علاقوں (فاٹا) کو صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم کرنے سے متعلق سفارشات پر افغانستان نے اپنی ٹانگ اڑا دی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق وفاقی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں قبائلی علاقوں (فاٹا) کو صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم کرنے سے متعلق سفارشات کی منظوری پر افغانستان کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے ہیں۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، پاکستان پر عالمی اور اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی سفارشیں کرنے والے اور بھارت کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کا الزام لگانے والے افغانستان نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی شروع کر دی ہے۔

فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کے مجوزہ منصوبے پر افغانستان کے قائم مقام وزیر برائے قبائلی امور غفور لیوال نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فاٹا کی حیثیت میں کسی بھی تبدیلی سے پہلے افغانستان سے اس بارے میں بات ہونی چاہیے تھی۔

غفور لیوال نے واضح کیا کہ فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بنانے سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحد یعنی ڈیورنڈ لائن کے بارے میں افغانستان کا مؤقف تبدیل نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد کی لمبائی تقریباً 2600 کلومیٹر ہے جسے ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے کیونکہ اس حد بندی کا تعین 1893 میں اس زمانے کے افغان بادشاہ امیر عبد الرحمٰن خان اور برصغیر میں برطانوی حکومت کے وزیر خارجہ مورٹمر ڈیورنڈ کے درمیان ایک معاہدے کے بعد کیا گیا تھا لیکن افغانستان نے آج تک ڈیورنڈ لائن کو پاکستان کے ساتھ اپنی سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کیا بلکہ وہ قیامِ پاکستان ہی سے یہاں کے قبائلی علاقوں پر اپنی ملکیت کا دعویدار ہے۔

اس کے برعکس پاکستان کا کہنا ہے کہ ڈیورنڈ لائن ایک طے شدہ معاملہ ہے جس کی رُو سے فاٹا، پاکستان میں شامل ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری