ایرانی فلمیں اب پاکستانی سینماؤں کی زینت بنیں گی + تصاویر

خبر کا کوڈ: 1345462 خدمت: ایران
ایرانی فلم 9

پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی جانب سے برادر اسلامی ملک ایران سے آئے ہوئے فلمی صنعت کے معزز مہمانوں کے استقبال میں دعوت کا انعقاد کیا جس میں پاکستانی فلم انڈسٹری کے نامور افراد بھی موجود تھے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی جانب سے برادر اسلامی ملک ایران سے آئے ہوئے ہوئے فلمی صنعت کے افراد کے استقبال میں دعوت کا انعقاد کیا جس میں پاکستانی فلم انڈسٹری کے نامور افراد بھی موجود تھے۔

یاد رہے کہ ایرانی فلمی صنعت کے یہ افراد مبشر لقمان پروڈکشنز کی دعوت پر پاکستان آئے اور رائل پام لاہور میں ایرانی فلموں کے فیسٹیول کا بھی انعقاد کیا گیا۔

مبشر لقمان نے مہمانوں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دو دنوں میں جو فیسٹیول منعقد کیا گیا حالانکہ حالات صحیح نہیں تھے اور جس دن ایرانی دوست آئے اسی دن بلاسٹ بھی ہوا لیکن یہ خوش آیند بات ہے کہ بہت سی فیملیز نے آکر یہ فلمیں دیکھیں اور ایرانی سینما کو بہت زیادہ پذیرائی ملی۔ خوشی اس بات کی ہے کہ ایرانی موویز ایسی ہیں کہ جو ہم گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے درمیان جو یہاں حضرات بیٹھے ہیں ان میں بہت بڑی تعداد پروڈیوسرز کی ہے۔ ڈسٹری بیوٹرز بھی ہیں، ایک ہیبیٹرز ہیں اور رایٹرز بھی ہیں۔ یعنی فلم انڈسٹری کی بھرپور طریقے سے یہاں نمائندگی ہو رہی ہے۔

مبشر لقمان نے مزید کہا کہ ہماری اور ایرانی فلم انڈسٹری کے فلم کی تاریخ کچھ ملتی جلتی ہے کیوں کہ جب ایران میں اسلامی انقلاب آیا تو وہاں پھر فحش اور فضولیات فلمیں بنانا ممکن نہیں رہا تو فلم انڈسٹری کے پاس صرف دو راستے تھے یا تو یہ مر جاتے خودکشی کر لیتے یا دوسری فلمیں بناتے اور پھر انھوں نے اچھے راستے کا انتخاب کیا اور معیاری اخلاق سے بھرپور فلمیں بنانا شروع کیں۔ اور آج ایرانی فلمیں آسکر ایوارڈ لے رہی ہیں۔ اور دنیا میں بہت نام پیدا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی فلمیں بنانا ناممکن ہوگیا تھا اور چند لوگ تھے جیسا کہ یہاں چوہدری اعجاز کامران صاحب بیٹھے ہیں جو ان حالات میں بھی دیوانہ وار فلمیں بناتے رہے ہیں۔ اور آج الحمد اللہ ایسے حالات بن گئے ہیں کہ پاکستان اور ایران دونوں کا اور فلم انڈسٹری کا باہم اشتراک بھی ہوسکتا ہے۔

آٓج کی اس محفل کا مقصد ایک تو یہ تھا کہ ہم مہمانوں کی آمد کا شکریہ ادا کریں دوسرے ان کے ساتھ ایک کھلی ملاقات ہو جس میں کوئی بھی پروڈیوسر، ڈائریکٹر وغیرہ ان کے ساتھ مل بیٹھ سکیں اور اگر کسی نے ان کے ساتھ فلم بنانی ہے یا سینما سے متعلق بات ہو تو وہ کریں۔ وہ اپنی فلمیں پاکستان میں ریلیز کروانا چاہتے ہیں اور ہم ایرانی فلموں کو اردو میں ڈب کر کے پاکستان میں دکھانا چاہتے ہیں اور پاکستان کی فلمیں ایران فیسٹیول میں جائیں۔ 5فلموں کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ جس کے لئے ایک میکر ہمارے درمیان بیٹھے ہیں۔ ایران میں دو ماہ بعد بڑا فلم فیسٹیول ہے وہاں پر انشاء اللہ ہماری فلمیں جائیں گی۔ میری ذاتی خواہش یہ ہے کہ اسے ایک تقریب پر ختم نہیں ہونا چاہئے آپ لوگ ایک دوسرے سے رابطہ بنائیں اس میں کوئی ججھک نہیں ہونی چاہئے یہ پورے پاکستان کے لئے یہاں موجود ہیں اور پورے پاکستان کو ان سے رابطے میں رہنا چاہئے۔ میں اکبر برخورداری صاحب کا بھرپور شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان کی محنت کے بغیر یہ فیسٹیول نہیں ہو سکتا تھا۔ میں یہ کہوں گا کہ پاکستان کے اندر کیوں کہ پاکستان کے باہر تو لوگ نہیں جانتے کہ ایک فرد واحد پاکستان فلم پروڈیوسر ایسوسی ایشن کا ہے جس نے باقاعدہ خون سے اس انڈسٹری کے جھنڈے کو اٹھا کر رکھا ہے۔

وہ چوہدری اعجاز کامران ہے۔ یہاں پر جو افراد بیٹھے ہیں ان کے درمیان 1500 فلمیں بن چکی ہیں۔ یہ پاکستان کی واحد انڈسٹری ہے جو اٹھ کر دوبارہ کھڑی ہوگئی ہے۔

مبشر لقمان نے کہا کہ ہم نے ایرانی فلم ڈائریکٹر شہریار بحرانی جو اس وقت یہاں موجود ہیں ان کا نام سنا تھا، مجید مجیدی کا بھی نام سنا تھا۔ ہم نے ان کی فلم ملک سلیمان دیکھی ہم سب وہاں موجود تھے اور آٓخر میں کھڑے ہوکر ان کے فلم کی داد دینی پڑی۔

خانہ فرہنگ کے ڈائریکٹر جنرل اکبر برخورداری نے اس دوران کہا کہ مبشر لقمان صاحب نے کہا کہ یہ میری کوششیں ہیں جبکہ میں کہتا ہوں کہ یہ خود بہت مہربان ہیں اور تمام زحمتیں ان کی ہیں۔ میں اعجاز چوہدری صاحب کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ اس فلمی صنعت کو دوبارہ بیدار کر رہے ہیں۔ میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ ہماری فلموں نے مسلسل دوبارہ آسکر ایوارڈ اس سال بھی لیا ہے اور یہ ہماری فلمی صنعت کے لئے باعث افتخار ہے۔

اکبر برخورداری کا کہنا تھا کہ میں جناب شہریار بحرانی صاحب کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ اپنے قیمتی وقت میں سے وقت نکال کر تشریف لائے۔ یہ ہماری فلم انڈسٹری کی قابل قدر شخصیت ہیں۔ جیسا کہ آپ نے ملک سلیمان فلم دیکھی اور اسے بہت پسند کیا ان کی ایک اور فلم مریم مقدس بھی ہے جو اگر آپ دیکھیں تو یقیناً اس سے زیادہ پسند کریں گے۔ ہماری انڈسٹری میں بہت کم لوگ پائے جاتے ہیں جو ڈائرکٹنگ کے علاوہ ٹریننگ بھی دیتے ہوں۔ لیکن جناب شہریار بحرانی ایسی شخصیت ہیں جو یونیورسٹی کی سطح پر باقاعدہ آرٹسٹوں کو تربیت بھی دیتے ہیں۔

یہ فیسٹیول واقعی نامساعد حالات میں منعقد کیا گیا لیکن لوگوں کی اس میں بھرپور طریقے سے شرکت میری خواہش ہے کہ اسے ابتدائی سمجھا جائے اور آگے چل کر ہم مل کر کام کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں برادر ممالک پاکستان اور ایران کے بہت سے ثقافتی مشترکات ہیں۔ اسی طرح ہمارا دشمن بھی مشترکہ ہے۔ جو ایران کے لئے سختیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں سازشیں کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے لئے بھی یہی مشکلات کھڑی کر رہے ہیں اس کا واحد حل یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر اکھٹے ہوکردشمن کامقابلہ کریں۔ ہماری سینما کے لوگوں نے جس طرح مشکلات کا سامنا کیا اور سختیوں کے باوجود بے پناہ کامیابیاں حاصل کیں اسی طرح مجھے خوشی ہے کہ آپ کی انڈسٹری بھی اسی کوشش میں پھر اُٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ ہم اس معاملے میں بہت کام کر رہے ہیں اور بڑی بڑی نمائشوں کا انعقاد کرتے ہیں اور میری خواہش ہے کہ دوست ملک پاکستان بھی اس سے فائدہ اُٹھائیں اور ان نمائشوں میں شرکت کریں۔ جب ہم ہر کسی کو ان نمائشوں میں شرکت کا موقع فراہم کرتے ہیں تو کیوں نہ ہمارے برادر مسلمان ملک پاکستان سے بھی ہنرمند ان فیسٹیولز میں شرکت کریں۔ اسی طرح ایرانی فلموں کو بھی پاکستانی نمائشوں میں شریک ہونا چاہئے جیسا کہ مبشر صاحب نے فرمایا کہ ہم آہنگی تعلقات پربہت اثر انداز ہوتی ہے۔ میں ایک دفعہ پھر مبشر صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ ان کو ہر قسم کے شر سے محفوظ رکھے۔

ادارہ حوزہ ہنری کے کلچرل ونگ کے سربراہ جواد سمنانی نے کہا کہ حوزہ ہنری ایران کا ایسا ادارہ ہے جہاں سینما کی تمام سہولیات موجود ہیں اور میں اپنی طرف سے اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان کے ساتھ ان اس صنعت میںشروع سے آخر تک تعاون کے لئے تیار ہیں۔ ایران میں حوزہ ہنری کے سربراہ جناب مومنی آپ کے اس استقبال سے بہت خوش ہیں اور انھوں نے آپ کو سلام بھیجا ہے۔

کریم خانی نے کہا کہ اگر میں سینما کی بات کروں توواقعاًسینما ملک کے لوگوں کی زبان بیان کرتا ہے۔اور ان کے جذبات بیان کرتا ہے۔میں نے کچھ دن یہاں رہ کر دیکھا کہ یہاں کے لوگوں کے پیغام کو پوری دنیا کے سامنے لانا چاہئے اور ہم اس میں ہر ممکنہ مدد کے لئے تیار ہیں۔

معروف ایرانی فلم ڈائریکٹر شہریار بحرانی نے کہا کہ میں آپ لوگوں کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں یہ چند دن جو میں نے آپ کے درمیان گزارے ہیں واقعی میں میں یادوں کا ایک مجمع میں اپنے ساتھ لئے واپس جا رہا ہوں۔ میں ایرانی آرٹسٹوں کی جانب سے چونکہ میں ان کا چھوٹا سا نمائندہ یہاں پر موجود ہوں۔ معذرت کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں یوں محسوس تو تھا کہ ہمارے پاکستانی بھائی کسی دور کے ملک میں رہتے ہیں۔ جن سے ہم مل نہیں پارہے۔ لیکن انشاء اللہ ہماری اس ملاقات کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہم ایک دوسرے کے مزید قریب آئیں گے۔ میری نظر میں سینما کسی بھی انسان کے دل اور روح پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس لئے اس اثر لوگوں تک لانا چاہئے کیونکہ سینما احساسات کو بیان کرنے کا بہترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

ہم نے ایک اچھا دوست ایک اچھا آرٹسٹ مبشر لقمان اس سفر میں پایا ہے۔ اور اسی طرح جو دوسرے دوست یہاں موجود ہیں اور وہ دوست جنہوں نے فیسٹیول کے انعقاد میں حصہ لیا اور ان کی محبتوں نے ہمارے دلوں کو روشن کیا اور ہم ایران میں ہمیشہ ان کو یاد رکھیں گے۔

چوہدری کامران نے کہا کہ میں پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی طرف سے ہم معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں ہم آپ سے ہر طرح تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ انشاء اللہ فلمیں لینے کے لئے بھی ہم آپ سے رابطے میں رہیں گے ۔
تقریب کے آخر میں مہمانوں کو ایوارڈ تقسیم کرتے ہوئے مبشر صاحب نے کہا کہ یہ ایوارڈز آپ کو اس لئے دئے جا رہے ہیں کہ آپ کو یہاں کی یاد دلاتے رہیں گے۔

 

 

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری