پرویز مشرف:

سعودی فوجی اتحاد کی قیادت کرنے سے پہلے راحیل شریف کو اچھی طرح سوچ لینا چاہیے

خبر کا کوڈ: 1345515 خدمت: پاکستان
پرویز مشرف

پاکستان کے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ سابق آرمی چیف راحیل شریف کو سعودی اتحاد کی قیادت کی پیشکش قبول کرنے سے پہلے سوچ لینا چاہیے جبکہ پاکستان کو بھی فرقہ وارانہ معاملے میں پڑنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا چاہیے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سابق صدر اور آرمی چیف مشرف نے کہا ہے کہ چونکہ پاکستان میں شیعہ برادری بڑی تعداد میں موجود ہے لہذا پاکستان کو ایسے سنجیدہ فرقہ وارانہ معاملے میں سوچ سمجھ کر پڑنا چاہیے۔

سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کے بارے پوچھے گئے سوال کہ وہ اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کی قیادت کرنے جارہے ہیں، کا جواب دیتے ہوئے پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو فرقہ وارانہ معاملے میں پڑنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کیونکہ راحیل شریف بھی سابق آرمی چیف رہ چکے ہیں تو انہیں بھی اس بارے میں ضرور سوچنا چاہیے۔

پرویز مشرف نے مزید کہا کہ آپ کو ایک بات کا خیال رکھنا پڑتا ہے کہ جب آپ کسی بھی ایسی فوج کی کمان سنبھالتے ہیں تو سب سے پہلے ان کے کمانڈرز سے ملاقات کرتے ہیں پھر آپ اپنے ہدف کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا آپ اس فوج کے ساتھ اس ہدف کو پورا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو لگے کہ ہدف کا نشانہ بنانا ناممکن ہے تو پھر ایسے کسی بھی کام کو نہیں کرنا چاہیے۔

ایک سوال کہ راحیل شریف آپ کے خیرخواہ تھے جبکہ نئے آنیوالی فوجی قیادت اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دیتی کہ آپ کی حمایت کی جائے گی تو کیا آپ پاکستان واپس آئیں گے؟ کا جواب دیتے ہوئے سابق آرمی چیف پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ یہ فوج میری ہے اور مجھے اس پر فخر ہے، میں نے فوج میں نہ صرف 45 سال خدمت انجام دی ہے بلکہ اس کی قیادت بھی سنبھالی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے کارگل سمیت کئی جنگیں لڑیں ہیں۔

حالیہ فوجی قیادت میری ماتحت رہی ہے اور وہ سب میرے شاگرد رہے ہیں جن کو میں نے سکھایا اور میں ان کو اچھی طرح جانتا ہوں اور وہ کیسے مجھے بھول سکتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری