چند روز میں سرحد نہ کھلی تو چارٹرڈ طیارہ منگوا کر اپنے شہری لے جائیں گے، افغان سفیر

پاکستان میں تعینات افغان سفیر نے دھمکی دی ہے کہ اگر آئندہ چند دنوں میں پاک افغان سرحد نہ کھولی گئی تو وہ افغان شہریوں کی واپسی کیلئے اپنی حکومت سے چارٹرڈ طیارے بھیجنے کی درخواست کریں گے۔

چند روز میں سرحد نہ کھلی تو چارٹرڈ طیارہ منگوا کر اپنے شہری لے جائیں گے، افغان سفیر

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، پاکستان میں تعینات افغان سفیر عمر زاخیل وال نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ملاقات کی جس میں پاک افغان تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں پاک افغان تعلقات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ایک گھنٹے جاری رہنے والی ملاقات میں خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں پاک افغان مذاکرات کی بحالی کی اہمیت و افادیت پر مکمل اتفاق کیا گیا اور اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ دونوں حکومتوں کو گفت و شنید سے معاملات بہتری کی جانب لے کر جانے چاہئیں۔

ملاقات میں پاک افغان سرحد کی بندش سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی گفتگو کی گئی۔

افغان سفیر عمر زاخیل وال نے واضح کیا کہ انہوں نے پاکستان میں گزشتہ دو ہفتوں سے پھنسے ڈھائی ہزار کے قریب افغان شہریوں کی حالت زار کے حوالے سے پاکستانی حکام سے بات کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سرحد بند ہونے کی وجہ سے پاکستان میں پھنسے ہوئے زیادہ تر افغان شہری غریب لوگ ہیں جو علاج اور دوسرے کاموں سے پاکستان گئے اور اب وہ سرحد کی بندش سے وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔

افغان سفیر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری اپنے پیغام میں مزید کہا کہ پاک افغان تجارتی و سفری راستوں کی مسلسل بندش سے عام افغان عوام کو نقصان ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں سرحد کو کھولنے کے حوالے سے کئی یقین دہانیاں کرائی گئیں تاہم اب تک عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا۔

علاوہ ازیں عمر زاخیل وال نے دھمکی دی ہے کہ اگر آئندہ چند دنوں میں پاک افغان سرحد نہ کھولی گئی تو وہ افغان شہریوں کی واپسی کیلئے اپنی حکومت سے چارٹرڈ طیارے بھیجنے کی درخواست کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس بات کی نوبت آئی تو یہ زیادہ بہتر صورتحال نہیں ہو گی۔

سرحد کی بندش سے باہمی تجارت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے اور سرحد کی مسلسل بندش حال ہی میں ہونے والے اقتصادی تعاون تنظیم کے مقاصد کے بھی منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے موقف اپنایا گیا ہے کہ سرحد کی بندش کا مقصد دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکنا ہے تاہم اس بات میں وزن نہیں کیوں کہ طورخم اور اسپین بولدک جیسے کراسنگ پوائنٹس پر سینکڑوں سیکورٹی اہلکار تعینات اور تمام ضروری آلات اور انفرااسٹرکچر موجود ہے۔

عمر زاخیل وال نے کہا کہ انہوں نے اس حوالے سے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے بھی بات کی اور انہیں یہ پیغام پہنچا دیا کہ اگر آئندہ چند دنوں میں سرحد پر پھنسے افغان شہریوں کو واپس جانے کی اجازت نہیں دی جاتی تو وہ اپنی حکومت سے درخواست کریں گے کہ شہریوں کو ایئرلفٹ کرنے کے لیے چارٹرڈ طیارے بھجوائے جائیں۔

دوسری جانب عمران خان نے بھی کہا کہ پاک افغان سرحد کی بندش سے پاکستان میں پھنسے افغان شہریوں کی واپسی کیلئے اقدامات ضروری ہیں۔

ٹوئیٹر پر پیغام میں عمران نے کہا کہ قانونی دستاویز کے حامل افراد کو سرحد پار کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے کیونکہ پاک افغان سرحد کی بندش سے انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان کراس بارڈر دہشت گردی کے معاملے پر موثر تعاون کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں حالیہ ہلاکت خیز بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کے لیے پڑوسی ملک افغانستان کی زمین استعمال ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد دہشت گردوں کی سرحد پار سے داخلے کو روکنے کی غرض سے پاک افغان سرحد کو بند کر دیا گیا تھا۔

جس سے نہ صرف سرحد کے دونوں جانب مال بردار ٹرکوں کی لمبی لائن لگی ہوئی ہے بلکہ دونوں ممالک کے ان شہریوں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے جن کی سرحد پار آمد و رفت رہتی ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل  پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے مشیر خارجہ سرتاج عزیزنے اپنے بیان میں کہا تھا کہ چند روز میں ہی پاک افغان سرحد کھول دی جائے گی تاہم ابھی تک سرحد بند ہے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری