امریکا، ایران کشیدہ تعلقات کی تاریخ / ٹرمپ حکومت کی ایران پالیسی کیا ہوگی؟

پاکستانی کالم نگار کا کہنا ہے کہ تاریخ کی عدالت میں امریکا ملت ایران کا مجرم ہے، امریکی حکومت کو ایران سے ماضی کی مداخلت اور سامراجی کردار کی رسمی اور اعلانیہ معافی مانگنا ہوگی اور ایران کو پہنچائے گئے نقصانات کی تلافی بھی کرنا ہوگی۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس کے بغیر ملت ایران امریکا کومعاف کرے گی۔

پرچم ایران و آمریکا

خبر رساں ادارہ تسنیم: امریکا، ایران کشیدہ تعلقات کی تاریخ کے عنوان سے اس مقالے کے پہلے حصے میں صرف چند جھلکیاں بیان کی گئیں ورنہ بہت سے اہم اور دلچسپ واقعات بیان نہیں کئے گئے ہیں۔ ایران میں صدارت کے عہدے پر بنی صدر، محمد علی رجائی، آیت اللہ سید علی خامنہ ای ( جو اب رہبر معظم انقلاب اسلامی اور مرجع تقلید ہیں)، حجت الاسلام رفسنجانی، محمد خاتمی، اور محمود احمدی نژاد فائز رہے۔ بنی صدر کا مواخذہ ہوا اور وہ ایران سے فرار کرگئے۔ باقی صدور اور موجودہ ایرانی صدر حجت الاسلام حسن روحانی کے دور میں ہر ایرانی حکومت کے لئے خارجہ محاذ پر امریکا سے تعلقات کا موضوع حساس رہا کیونکہ ایران کا انقلابی طبقہ تاحال امریکا کو شیطان بزرگ سمجھتا ہے۔ ایران خلیج فارس کی سمندری حدود میں امریکا کی فوجی موجودگی کو ناپسند کرتا ہے اور خلیج فارس میں امریکی بحری بیڑے اور چھوٹے جہازوں کو ایران کی جانب سے پابندیوں کا سامنا رہتا ہے۔ ایرانیوں نے صدر اوبامہ کے دور صدارت میں بھی کئی مرتبہ امریکی بحریہ کے جہازوں یا کشتیوں کو اپنی حدود میں داخل ہونے پر تنبیہ کی، بعض مواقع پر انہیں پکڑ لیا اور بعض مواقع پر انہیں اپنے گھیرے میں لے کر کارروائی کرنے کا اشارہ دیا تو امریکی بحریہ کے اہلکار دوبارہ ایرانی سمندری حدود سے دور ہوگئے۔

کشیدہ تعلقات کی اس 38سالہ تاریخ کے ساتھ ڈونالڈ ٹرمپ امریکا کے صدر منتخب ہوئے۔ گذشتہ سال خلیج فارس میں ایرانی بحریہ کی کارروائی کے بعد ٹرمپ نے بڑا سخت بیان دیا تھا۔ امریکی بحریہ کے مطابق 2016ء میں ایران کی جانب سے ایسے 35 واقعات رونما ہوئے جبکہ جنوری 2017ء کے پہلے 12روز کے دوران سات واقعات ریکارڈ ہوئے۔ امریکی بحریہ کی جانب سے بھی تنبیہی فائرنگ کی جاتی رہی ہے۔ خلیج فارس میں پائی جانے والی یہ کشیدگی بھی ایک چھوٹی سی مثال ہے ورنہ تلخی بہت ہی زیادہ شدید اور گہری ہے۔

امریکا ایران کشیدہ تعلقات میں تازہ ترین شدت امریکی صدر ٹرمپ کے ٹوئٹر بیان کی وجہ سے آئی۔ 2 فروری2017ء کو انہوں نے ٹویٹ میں لکھا کہ بیلسٹک میزائل فائر کرنے کی وجہ سے ایران کو انہوں نے رسمی طور پر نوٹس پر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے ایران سے کہا کہ اسے اس دہشتناک (نیوکلیئر) ڈیل کا مرہون منت ہونا چاہیے کہ جو امریکا نے ان کے ساتھ کی ہے۔ اس بیان پر رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای نے بڑا سخت جواب دیا کہ امریکی حکومت نے کبھی بھی ایران پر کوئی مہربانی نہیں کی بلکہ سازشیں کی ہیں۔ 5 فروری2017ء کو فاکس نیوز چینل کے پروگرام دی او رائیلی فیکٹر میں میزبان بل اورائیلی کو سپر باؤل انٹرویو میں ٹرمپ سے ایران کے بارے میں بھی سوالات کئے گئے۔ ٹرمپ نے کہا کہ صدر اوبامہ نے غلط کیا۔ ڈیل نہیں ہونی چاہیے تھی۔ امریکا کے لئے باعث شرم تھا کہ ایران سے ایسی نیوکلیئر ڈیل کرلی۔ لیکن جب میزبان نے پوچھا کہ کیا آپ اس ڈیل کو پھاڑ دیں گے (یعنی کیا امریکا دستبردار ہوجائے گا؟) تو ٹرمپ کا جواب تھا کہ دیکھیں گے کیا ہوتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کا بالکل بھی احترام نہیں کرتا۔ ان کا الزام تھا کہ ایران نمبر ون دہشت گرد ریاست ہے اور وہ ہر جگہ اسلحہ اور پیسے بھیج رہا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف پابندیاں لگاکر اقدامات کا آغاز کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی فوجی کارروائی کی بات ہی نہیں کی۔ ان کا کہنا کہ تھا کہ انہوں نے ہمیشہ باراک اوبامہ پر تنقید کی کہ وہ اعلان کردیتے تھے کہ فلاں جگہ، فلاں وقت، فلاں کارروائی کریں گے لیکن ٹرمپ کے مطابق وہ اس پر یقین نہیں رکھتے۔

ایران کے معاملے پر نئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ وہ bullish نہیں ہیں کیونکہ اس سے ایران مضبوط ہوتا ہے، ایرانی ہمارے طیاروں کا پیچھا کرتے ہیں، اپنی چھوٹی بوٹس کے ذریعے ہمارے بحری جہازوں کو گھیرے میں لیتے ہیں اور ہمارے ہی خلاف چیخ پکار کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ جو ہمارے ساتھ ہوا ہے، یہ اچھا نہیں ہے۔ نیوکلیئر ڈیل ایران کے لئے ایک عظیم چیز تھی اور ہمارے لئے وحشتناک۔ ایران کو اس ڈیل پر امریکا کے ساتھ گرمجوشی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا لیکن ہوا اس کے برعکس۔ اس نیوکلیئر ڈیل سے امریکا نے عزت گنوائی کہ کوئی اتنا احمق بھی ہوسکتا ہے کہ ایسی ڈیل کرلے۔ یہ رائے خود ڈونالڈ ٹرمپ کی ہے اور یہ اتنی واضح ہے کہ اس سے ٹرمپ کی ایران پالیسی سمجھنا بہت ہی آسان ہے۔ یعنی ٹرمپ ایران کے خلاف اعلانات نہیں کریں گے بلکہ اقدامات کریں گے جیسا کہ سات ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیاں لگائیں تو اس میں ایران کو بھی شامل کیا۔

اس وقت ٹرمپ نائب امریکی وزیر خارجہ کے لئے جن افراد کے ناموں پر سوچ بچار کررہے ہیں ان میں سے ایک ایلیٹ ابرامز بھی ہے جو صہیونی نیوکونز گروپ کا سرخیل ہے۔ جس کے بارے میں ایک امریکی دانشور نے کہا تھا کہ ایلیٹ ابرامز کو کوئی عہدہ دے دو پھر نیو کونز کی بڑی تعداد خود بخود اس محکمے میں جمع ہوتی چلی جائے گی۔ ٹرمپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انتقام پسند ہے اور ایلیٹ ابرامز نے ماضی میں ٹرمپ پر شدید تنقید کی ہے لیکن صہیونی مفادات کا تقاضا ہے کہ صہیونیوں کے ہمدرد انتہاپسند نیوکونز کو بھی نئی امریکی حکومت میں ایڈجسٹ کیا جائے۔ دوسری جانب ایران، امریکا تعلقات امریکی اسکالرز کی تحریروں کا موضوع بن رہا ہے۔ امریکا کی سیاست کی کوریج کرنے والے اخبار دی ہل اور پولیٹیکو سے لے کر تھنک ٹینک کاؤنسل آن فارین ریلیشنز کے جریدے فارین افیئرز اور کارنیگی اینڈوومنٹ فار انٹرنیشنل کے جریدے فارین پالیسی میں بھی مقالے لکھے جارہے ہیں۔ ایلان گولڈن برگ ماضی میں امریکی وزارت خارجہ و دفاع اور سینیٹ کی فارین ریلیشنز کمیٹی کے لئے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے 14فروری 2017ء کو ایک مقالے میں امریکی حکومت کو مشورہ دیا کہ ایران سے مذاکرات و مکالمے کا در بند نہ کرے۔ ان کی نظر میں یمن، لبنان، عراق اور شام کے بارے میں ایران کی پالیسی امریکا اور اس کے خطے میں موجود پارٹنرز کے مفادات کے خلاف ہے۔ انہوں نے جو اہم نکتہ پیش کیا وہ یہ کہ شام کے مسئلے پر امریکا کا روس سے کسی بات پر اتفاق کرلینا کافی نہیں ہوگا کیونکہ شام کے مسئلے پر ایران بھی ایک اہم ملک ہے اور شام کے مسئلے پر ایران سے بھی امریکا کو مذاکرات کرنے کی ضرورت ہے۔

جرمنی میں میونخ سیکورٹی کانفرنس میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھی شرکت کی، خطاب کیا اور میڈیا سے بھی بات چیت کی۔ انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کی اس دھمکی پر کہ ایران کو رسمی طور پر notice پر رکھ دیا ہے، کے جواب میں وہاں دنیا بھر کے سیاسی و فوجی حکام کی موجودگی میں ایسا جواب دیا کہ ہال قہقہوں سے گونج اٹھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹویٹ کرنا آجکل ایک فیشن بن چکا ہے۔ 19 فروری 2017 کومیونخ کانفرنس میں ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ(شاید) ایران زبانی دھمکیوں کا اچھی طرح جواب نہیں دیتا البتہ انہوں نے مثال دی کہ crippling اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں ایران میں 19800 سینٹری فیوجز کی پیداوار ہوئی! اسی کانفرنس میں امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم جو سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے رکن ہیں، نے جواد ظریف کی تقریر کے بعد کہا کہ ایرا ن کو bad actor in the greatest sense of the word in region قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ امریکی سینیٹ میں ایران پر زیادہ سخت پابندیوں کا بل پیش کریں گے۔

2017ء ایران میں صدارتی الیکشن کا سال ہے۔ اگر حسن روحانی دوبارہ صدر منتخب ہوجاتے ہیں تو ایرانی پالیسی یہی ہوگی جو چل رہی ہے لیکن اگر اصولگرایان میں سے کوئی یا ان کا حمایت یافتہ امیدوار صدر منتخب ہوگیا تو ایران کی جانب سے زبانی دھمکیوں کا جواب بھی اسی طرح دیا جانے لگے گا جیسے محمود احمدی نژاد کے دور صدارت میں دیا جاتا رہا۔ ایران میں ریاست کے سربراہ امام خامنہ ای ہیں جن کا کہنا ہے کہ وہ ڈپلومیٹ نہیں بلکہ انقلابی ہیں۔ ان کی قیادت و رہبری میں ایران کی موجودہ پالیسی برائے امریکا میں تبدیلی کے امکانات بہت کم ہیں اور اب امریکا سے بات چیت کے حامی جناب ہاشمی رفسنجانی بھی اس دنیائے فانی سے کوچ کرچکے ہیں یعنی امریکا کو اب اتنا بڑا سیاسی ہیوی ویٹ مذاکرات و روابط کا حامی ایران میں نہیں ملے گا۔

جن کتابوں کے ریفرنس پیش کئے گئے ہیں، اور جتنا اس موضوع پر میرا مطالعہ ہے اس کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ امریکا کی ہمیشہ سے خواہش رہی کہ انقلابی ایران پر براہ راست حملہ کرکے یعنی یلغار کرکے جنگ چھیڑے لیکن اس نے اس ضمن میں جتنی بھی فرضی مشقیں کیں، سچویشن روم بناکر مختلف منظرناموں پر انتہائی غور و فکر بھی کیا لیکن ہمیشہ اسے اس آپشن میں نقصان نظر آیا اور یہی وجہ رہی کہ اس نے ایران کے خلاف غیر اعلانیہ اور خفیہ جنگیں لڑیں۔ تاحال وہ اپنی اس پالیسی سے باز نہیں آیا ہے۔ ٹرمپ دور صدارت میں بھی چہرہ تبدیل ہوا ہے امریکا کی سامراجی پالیسی تبدیل نہیں ہوئی۔ تاریخ کی عدالت میں امریکا ملت ایران کا مجرم ہے، امریکی حکومت کو ایران سے ماضی کی مداخلت اور سامراجی کردار کی رسمی اور اعلانیہ معافی مانگنا ہوگی اور ایران کو پہنچائے گئے نقصانات کی تلافی بھی کرنا ہوگی۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس کے بغیر ملت ایران امریکا کومعاف کرے گی۔ مسئلہ صرف ایران، امریکا تعلقات کا نہیں ہے مسئلہ دو مختلف ورلڈ ویو کا ہے، اس زاویے سے دیکھا جائے تو مسئلہ صرف دو ملکوں کے تعلقات کا نہیں بلکہ یہ دو مختلف ورلڈ ویو اور دو مختلف عالمی سیاسی بلاک یا دو مختلف ورلڈ آرڈرز کے درمیان تعلقات کا مسئلہ ہے کہ آیا وہ  co-existenceکے کسی قابل قبول فارمولا پر اتفاق کریں گے یا دونوں فریق ایک دوسرے کے لئے  no-existenceکی پالیسی پر عمل کریں گے۔ ایران ایک مختلف عالمی نظام (ورلڈ آرڈر) کا پرچارک ہے جبکہ امریکا موجودہ ورلڈ آرڈر کا عالمی تھانیدار۔ اس زاویے سے دیکھیں تو امریکا کو اپنی مکمل پالیسی کی اصلاح کرکے اسے از سرنو مرتب کرنے کی ضرورت پیش آئے گی ورنہ انقلابی ایران سے اس کے تعلقات بہتر نہیں ہوسکیں گے۔

اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری