کل نئی سفری پابندیوں کے اعلان کا امکان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سفری پابندیوں کا نیا صدارتی حکم نامہ کل کوجاری کئے جانے کا امکان ہے۔

صدر ٹرمپ 2

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، نئے حکم نامے میں پابندی کی زد میں آنے والے 7 مسلمان ممالک کی فہرست میں سے عراق کو نکالے جانے کا امکان ہے۔ 

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق عراق کو استثنیٰ دینے کا فیصلہ داعش کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں کیا گیا ہے جبکہ ایران، لیبیا، شام، صومالیہ، سوڈان اور یمن پر بدستور پابندی جاری رکھی جانے کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت سات مسلمان اکثریتی ممالک سے پناہ گزینوں کی امریکی آمد پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

اس حکم نامے کے بعد عرب ممالک، بھارت اور اسرائیل کے سوا امریکہ سمیت دنیا بھر میں مظاہرے کیے گئے اور ہوائی اڈّوں پر کافی افراتفری دیکھی گئی تھی۔

بعد میں امریکہ میں عدالتوں نے اس سفری پابندی کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ عدالتوں میں جو معاملات اٹھائے گئے دوبارہ لکھے جانے والے حکم نامے میں ان کو حل کیا گیا ہے۔

ہوم لینڈ سکیورٹی سیکرٹری جان کیلی کا کہنا ہے کہ نیا حکم نامہ پہلے حکم نامے کا زیادہ منظم اور سخت تر ورژن ہوگا۔

تاہم اب تک یہ واضح نہیں کہ نیا حکم نامہ پہلے حکم نامے سے کس طرح مختلف ہوگا۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ سفری پابندی دوبارہ لگائی گئی تو افراتفری کا عالم دوبارہ شروع ہو جائے گا جو ٹرمپ انتظامیہ کو ایک اور دھچکہ ہوگا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے پہلے انتظامی حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ عراق، شام، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن سے کوئی بھی شخص 90 دنوں تک امریکہ نہیں آ سکے گا۔

صدر ٹرمپ کے حکم کے بعد تقریبا 60 ہزار ویزے منسوخ کر دیے گئے تھے لیکن جج جیمز روبارٹ کے عبوری فیصلے کی رو سے فوری طور پر ملک گیر سطح پر اس حکم نامے کو معطل کر دیا تھا۔

اسی حکم کے تحت امریکہ میں پناہ گزینوں کے داخلے کے پروگرام کو 120 دنوں کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔ ساتھ ہی شامی پناہ گزینوں کے امریکہ آنے پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی لگا دی گئی تھی۔

تاہم ریاست سیئیٹل کے ایک جج نے سات مسلم اکثریت والے ممالک کے لوگوں کے امریکہ آنے پر پابندی لگانے کے ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ معطل کر دیا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفری پابندیوں کے معطلی کے عدالتی حکم کے بعد عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکہ میں کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری اس جج پر ہو گی جس نے ان کا حکم نامہ معطل کیا ہے۔

انھوں نے سفری پابندیوں کے معطلی کے عدالتی حکم کے بعد عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے سرحدی حکام کو ہدایت دی کہ وہ امریکہ آنے والے لوگوں کی محتاط طریقے سے جانچ کریں۔

مربوط خبریں
سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری