جنیوا اور آستانہ مذاکرات پر پیوٹن کی نظربایف سے اہم گفتگو

خبر کا کوڈ: 1346489 خدمت: دنیا
پوتین

روس اور قزاقستان کے صدور نے شامی بحران کے حل کے لئے جنیوا اور آستانہ میں ہونے والے مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، روسی صدر پیوٹن نے قزاقستان کے صدر نظر بایف کے ساتھ ٹیلیفون پر شام بحران کے حل کے لئے جنیوا اور آستانہ میں ہونے والے مذاکرات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

روسی صدر کا کہنا ہے کہ رواں ماہ میں شامی حکومت اور حزب اختلاف کے ساتھ آستانہ میں مذاکرات ہونگے۔

واضح رہے کہ گزشتہ جمعرات کی شام شامی حکومت اور حزب اختلاف کے نمائندوں نے جنیوا مذاکرات کے چوتھے مرحلے میں شرکت کی تھی جو گزشتہ رات اسٹیفن ڈی میسٹورا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اجلاس کے خاتمے کا اعلان کیا، آئندہ اجلاس آستانہ میں منعقد کیا جائے گا۔

شام کے لئے اقوام متحدہ میں خصوصی نمائندے کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمیں  جنیوا مذاکرات کے چوتھے مرحلے میں بہت سے مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نےمزید کہا جنیوا مذاکرات کا چوتھا مرحلہ نہایت سخت اور پیچیدہ تھا تاہم اجلاس میں تعمیری باتیں بھی ہوئیں جو خوش آئند ہیں۔

اقوام متحدہ میں شامی نمائندہ بشار جعفری کا کہنا ہے کہ شامی بحران کے حل کے لئے دہشت گردی کا خاتمہ نہایت ضروری ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے جنیوا میں 3 مرتبہ شامی بحران کے حل کے لئے مذاکرات ہوچکے ہیں لیکن دہشت گردوں کے حامی ممالک کی عدم دلچسپی کی وجہ سے مذاکرات بے نتیجہ رہے ہیں۔

 جنوری کے مہینے میں قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں روس، ایران اور ترکی کے نمائندوں کی موجودگی میں شامی حکومت اور باغیوں کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، آستانہ اجلاس کے اختتامی اعلامیہ میں شام کی ارضی سالمیت اور شام میں جنگ بندی پر تاکید کی گئی تھی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری