پنجاب سے خیبر پختونخوا تک، نیشنل ایکشن پلان پارہ پارہ

خبر کا کوڈ: 1348680 خدمت: پاکستان
اسحاق خٹک

ابھی پاکستانی عوام وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی کالعدم تنظیم کے نمائندوں سے ملاقات کے صدمے اور حیرت سے باہر نہ نکلی تھی کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے صاحبزادے کی کالعدم تنظیم کے سرغنہ کے ساتھ تصویر منظر عام پر آگئی۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، ایک طرف جہاں آپریشن ضرب عضب اور رد الفساد میں شہید ہونے والے  پاک فوج کے شہداء نے پاکستان کے دکھی عوام کا سر فخر سے بلند کیا ہوا ہے وہیں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے صاحبزادے اسحاق خٹک کی کالعدم سپاہ صحابہ کے سرغنہ محمد احمد لدھیانوی کے ساتھ تصویر نے خیبر پختونخوا حکومت کے نیشنل ایکشن پلان پر سنجیدگی کو لے کر بہت سے سوال اٹھا دیئے ہیں۔

یاد رہے کہ چند ماہ قبل اکتوبر میں نیشنل ایکشن پلان کے برخلاف کالعدم تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کرنے پر پاکستان پیپلز پارٹی سمیت  سیاسی حلقوں نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیم کے راہنماؤں سے ملاقات کے بعد چوہدری نثار کے پاس اس عہدے پر رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں بچا ہے۔

اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فتح محمد حسنی نے حکومت پر خوفناک الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت دہشت گردی کے واقعات کو روکنے میں بظاہر سنیجدہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ہی نہیں، پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی رہنما شیریں مزاری نے بھی گذشتہ اکتوبر کوئٹہ سانحہ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ وزیر داخلہ نے کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقات کیوں کی؟

تاہم اب پاکستان تحریک انصاف ہی  کے مرکزی رہنما اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے صاحبزادے اسحاق خٹک کی کالعدم سپاہ صحابہ کے سرغنہ محمد احمد لدھیانوی کے ساتھ تصویر شیریں مزاری سمیت پوری تحریک انصاف سے یہی سوال دہرا رہی ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری