مدرسہ زینبیہ میں بین المذاہب امن سیمینار کا انعقاد + تصاویر

خبر کا کوڈ: 1348738 خدمت: پاکستان
امن کے قیام میں طالبات کا کردار

مدرسہ زینبیہ راولپنڈی اور کرسچئین اسٹڈی سنٹر راولپنڈی کے باہمی اشتراک سے مدرسہ زینبیہ راولپنڈی میں سیمینار منعقدہوا جس کا عنوان "امن کے قیام میں طالبات کا کردار " تھا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق سیمینار کی صدارت مدرسہ زینبیہ کی وائس پرنسپل سیدہ مہوش بخاری نے کی جبکہ مہمان خصوصی کرسچئین اسٹڈی سنٹر کی ڈائریکٹر مس جینفر جگ جیون اور مہمان اعزاز سیدہ حاجرہ نقوی تھیں۔ ان کے علاوہ خواہر مریم چوہدری، خواہر میمونہ منور ‘ خواہر مریم بتول اور خواہر عکسہ کنول نے بھی خطاب کیا۔

علمی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سیدہ مہوش بخاری اور مریم چوہدری نے کہا کہ اسلام میں امن کے قیام پر متعدد مقامات اور مراحل پر رہنمائی بھی کی گئی ہے اور تاکید بھی کی گئی ہے کہ انبیاء کی آمد کا مقصد انسانیت کے درمیان امن و محبت کا فروغ تھا۔ رسول اکرم ؐ کی سیرت مبارکہ میں بھی امن کے قیام اور برداشت کی متعدد مثالیں ملتی ہیں اسی طرح آئمہ اثناء عشر بالخصوص حضرت علی ؑ ، حضرت امام حسن ؑ اور حضرت امام حسین ؑ کی حیات مبارکہ صبر، برداشت اور امن سے عبارت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ حضرت فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیھا اور حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی زندگیاں اگرچہ مسائل و مصائب سے بھری ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے امن برقرار رکھنے کے لیے اپنے اوپر مظالم تو سہہ لیے لیکن کسی قسم کی زیادتی اور تجاوز نہیں کیا۔

وقت کی ضرورت ہے کہ ان متبرک ہستیوں کی سیرت سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان میں تمام مذاہب کے پیروکاروں اور تمام مسالک کے ماننے والوں کے درمیان اتحاد و اخوت اور محبت کو فروغ دیا جائے اور امن کے قیام کے لیے مشترکہ جدوجہد کی جائے۔ مس جینیفر کا آج یہاں موجود ہونا اس بات کی علامت ہے کہ امن کے قیام کے لیے مذاہب کے فرق سے بالاتر ہوکر انسانی اور پاکستانی بنیادوں پر جدوجہد کو ترجیح دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے لیے یہ ایک حیران کن اور بہترین تجربہ ہے کہ ایک دینی مدرسے کی طالبات اتنی ذہین، سمجھدار، دنیا کے حالات سے آگاہ اور امن کے قیام کی ضرورت سے آشنا ہیں۔

کرسچئین اسٹڈی سنٹر کی ڈائریکٹر نے تاکید کی کہ میں آپ لوگوں کی خدمت اور ہمت کو داد دیتے ہوئے خواہش کرتی ہوں کہ آپ معاشرے میں امن کے قیام کے لیے حتی المقدور کوششیں کریں۔ بالخصوص مشترکہ کاوشوں کے ذریعے اپنا کردار ادا کریں۔ کیونکہ ہمارے معاشرے کی معروضی کیفیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ امن کے قیام میں خواتین اور طالبات زیادہ سرگرمی اور گرم جوشی کے ساتھ کام کریں۔ اس کے ساتھ وطن کی محبت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس کے تحفظ اور استحکام کے لیے مشترکہ جدوجہد کی جائے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری