تسنیم کی خصوصی رپورٹ/

خواتین کے عالمی دن پر، دکھی دل کے ساتھ

خبر کا کوڈ: 1349576 خدمت: مقالات
عالمی یوم خواتین

اچھے کام میں کسی کی تقلید کرنا غلط نہیں، تاہم اپنی خوبصورت تہذیب، پروقار روایات، شاندار اقدار اور عظیم تاریخ کو نظر انداز کر کے غیروں کی اندھی تقلید کہاں کی دانشمندی ہے؟

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، سال میں مختلف ایام منانا بہت اچھی بات ہے لیکن کیا اس کے لئے انہی تواریخ کا انتخاب ضروری ہے جو غیر کرتے ہیں؟

مثال کے طور پر ہر سال پاکستان سمیت دنیا بھر میں مارچ کی 8 تاریخ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جو کہ بہت اچھی بات ہے۔

خواتین کسی بھی ملک کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ خواتین کی عظمت اور اہمیت اجاگر کرنے کے لئے خواتین کا عالمی دن منانا بہت اچھا عمل ہے لیکن، 8 مارچ کو کیوں؟

ہمارا 8 مارچ سے کیا تعلق؟ کیا مسلمان ہونے کے ناطے خواتین کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے دختر رسول (صلی علیہ و آلہ وسلم) کے یوم ولادت سے بہتر بھی کوئی دن ہو سکتا ہے؟

اسی طرح ماں کی عظمت، قربانی اور ہماری زندگیوں میں ماں کی کردار کو اجاگر کرنے کے لئے ہم غیروں کی تقلید کرتے ہوئے مئی کی کسی تاریخ کا انتخاب ہی کیوں کرتے ہیں؟

جس دن سے رسول خدا (صلی علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا کہ جنت تمہاری ماں کے قدموں تلے ہے، تب سے مسلمانوں کا تو ہر دن ہی مدرز ڈے ہوتا ہے۔

تاہم اگر کوئی ایک دن مخصوص کرنا ضروری بھی ٹھہرا تو کیا ماؤں کا عالمی دن منانے کے لئے امہات المؤمنین سلام اللہ علیہم کے ایام ولادت سے موزوں بھی کوئی روز ہو سکتا ہے، جو دنیا بھر کی مومنین و مومنات کی ماں ہیں؟

اسی طرح جون شروع ہوتا ہے تو مسلمان سمیت دنیا بھر کے لوگ فادرز ڈے کے لئے کارڈ اور تحائف لینے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ باپ جیسی شفیق شخصیت کو خراج عقیدت پیش کرنا خود اولاد کے لئے فخر کا باعث ہونا چاہیئے۔

ہم مسلمانوں کی زندگی کی تو یوں بھی ہر سانس ہمارے والد کی اطاعت میں گزرتی ہے لیکن اگر کسی ایک دن کی بات کی جائے  تو کیا خوب ہو کہ دنیا بھر کے مسلمان جون کے تیسرے ہفتے کے بجائے فادرز ڈے اس مبارک دن منایا کریں جب خیر البشر رسول خدا (صلی علیہ و آلہ وسلم) اس دنیا میں تشریف لائے اور ظلمت کے بادل چھٹ گئے۔

مختلف ایام منا کر معاشرے کے مثبت عناصر کو خراج تحسین پیش کرنا اور ان کے اہم کردار کو دنیا کے سامنے لانا یقینا زندہ قوموں کی نشانی ہے تاہم اپنی خوبصورت تہذیب، پروقار روایات، شاندار اقدار اور عظیم تاریخ کو نظر انداز کر کے اندھا دھند غیروں کی تقلید کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری