ملی یکجہتی کونسل کا اجلاس؛

دہشت گردوں کے خلاف ردالفساد آپریشن کی حمایت کا باضابطہ اعلان

خبر کا کوڈ: 1350254 خدمت: اسلامی بیداری
ملی یکجہتی کونسل 4

اسلام آباد میں ہونے والے ملی یکجہتی کونسل کے اجلاس میں دہشت گردوں کے خلاف ردالفساد آپریشن کی حمایت کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ملی یکجہتی کونسل کا اسلام آباد میں اجلاس ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اجلاس میں کونسل کی ممبر جماعتوں کے قائدین کی جانب سے بھرپور شرکت کی گئی۔

کونسل کے اجلاس میں سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی کم کرانے کے لئے دونوں ممالک کے سفارت خانوں میں پاکستان کے علماء و مشائخ کے وفود بھجوانے پر اتفاق رائے کیا گیا۔

نیز مطالبات کیے گیے کہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق دیا جائے، فساد کی وجہ بننے والی پالیسوں پر نظرثانی کی جائے اور مسجد اور مدرسہ کو نشانہ بنانے والوں کو جواب دہ بنایا جائے۔

اجلاس میں طے پایا کہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے موقع پر دینی جماعتیں عدالت سے یکجہتی کے لئے موجود ہوں گی۔

یہ اعلانات جمعرات کو کونسل کے اجلاس کے آخر میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق‘ کونسل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ اور صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کئے۔ 

اس موقع پر سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پوری قوم کو توقع ہے کہ پانامہ کیس میں کرپشن کو شکست ہوگی یہ فیصلہ بدعنوانی کے نظام کے خلاف آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں نظریاتی اور مالی دہشت گردی ہے عالم اسلام پر جنگ مسلط کی گئی ہے حکمران اس قابل نہیں رہے ہیں کہ ملک کا دفاع کرسکیں۔ 1965 اور 1971کی جنگوں سے زیادہ لوگ بدامنی میں مارے گئے ہیں اور 65ہزار سے زائد شہداء کے خاندانوں کی کفالت کا کوئی انتظام نہیں ہے۔

حکومت اربوں روپے اپنی سکیورٹی پر لگا رہی ہے۔ حکمران ناکام ہوچکے ہیں مزارات‘ مساجد‘ مدارس کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے ایک طرف دہشت گردی ان مقدس مقامات کو نشانہ بناتے ہیں دوسری طرف حکومت کی کاروائیاں بھی مسجد اور مدارس کے خلاف ہوتی ہیں۔

 

انہوں نے واضح کیا کہ پاک افغان کشیدگی سے بھارت اور اسرائیل فائدہ اٹھا رہے ہیں، افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاک افغان سرحد پر آگ بھڑکی تو اس سے دونوں ممالک کے عوام متاثر ہونگے۔

واضح رہے کہ ملی یکجہتی کونسل کی نمائندہ جماعتوں کے قائدین جن میں صاحبزادہ ابوالخیر زبیر، علامہ ساجد علی نقوی، علامہ راجہ ناصر عباس، عاکف سعید، خرم نواز گنڈا پور اور دیگر شریک تھے۔

یاد رہے کہ سپریم کونسل کا اہم اجلاس ملی یکجہتی کونسل کے سینیئر نائب صدر علامہ ساجد علی نقوی کی جماعت اسلامی تحریک پاکستان کی میزبانی میں بلایا گیا تھا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری