توہین آمیز مواد ہٹوانے کیلئے وزیراعظم کو بھی بلانا پڑا تو بلائیں گے، اسلام آباد ہائی کورٹ

خبر کا کوڈ: 1350267 خدمت: اسلامی بیداری

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس نے سوشل میڈیا سے تمام متنازعہ پیجز بلاک کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ مواد فوری طور پر وزیراعظم کو بھیجا جائے اور اگر توہین آمیز مواد ہٹوانے کیلئے وزیراعظم کو بھی بلانا پڑا تو بلائیں گے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سوشل میڈیا سے تمام متنازعہ پیجز بلاک کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ مواد فوری طور پر وزیراعظم کو بھیجا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ پر توہین آ میز مواد کی تشہیر سے متعلق کیس میں وزیراعظم کو بھی بلانا پڑا تو بلائیں گے، اس مواد کے بعد ہمارے پاس کیا رہ جاتا ہے، یہ ہمارے ایمان پر حملہ کیا جارہا ہے، مواد سے ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے، معاملے میں خفیہ اداروں کی معاونت بھی حاصل کی جائے۔

جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں انٹرنیٹ پر توہین آمیز مواد کی تشہیر سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سیکرٹری داخلہ سے استفسار کیا کہ یہ مواد ختم کرنے کیلئے آپ کو کتنا وقت درکار ہے۔

سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں۔ معاملے کی ایف آئی آر درج ہوگئی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ کم سے کم وقت میں اس کو ختم کریں۔ اس معاملے میں خفیہ اداروں کی معاونت بھی حاصل کریں کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ایسا معاملہ مستقبل میں پیش نہ آئے کیونکہ یہ ہمارے ایمان پر حملہ کیا جارہاہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی ایکشن نہیں ہوتا تو یہ مواد ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ پولیس، ایف آئی اے اور پی ٹی اے حکام نے عدالت کو کیس میں ہونے والی پیشرفت سے متعلق کارگردگی رپورٹ پیش کی جس میں پی ٹی اے حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ توہین آمیز مواد نشر کرنے والے تمام پیچز کو بلاک دیا گیا ہے اور معاملے کی ایف آئی آر بھی تھانہ رمنا میں درج کر لی گئی۔ مقدمہ سیکریٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد اور ایف آئی اے حکام کی طویل مشاورت کے بعد مقدمہ درج کرایا گیا۔ کیس کی سماعت 13مارچ تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔

واضح رہے کہ انٹرنیٹ پر توہین آمیز مواد کی تشہیر کے خلاف درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بھینسا، موچی اور روشنی کے نام سے پیجز چلائے جا رہے ہیں جن پر رسول اللہؐ کی شان میں گستاخی کی گئی اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا گیا۔ مقدمہ ایس ایچ او ارشاد ابڑو کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا جس میں توہین رسالت کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری