سعودی عرب کے شاہ سلمان کے دورہ جنوب مشرقی ایشیا کے اصل مقاصد کیا ہیں ؟

سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جنوب مشرقی ایشیاء کا دورہ کیا ہے اور میڈیا و تجزیہ نگار ان کے اس دورے کو خطے میں مسلم اکثریت رکھنے والی اقوام کے ساتھ معاشی و سیاسی روابط مضبوط بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں جبکہ اس دورے کی پس پردہ حقیقت کچھ اور ہے۔

سعودی عرب کے شاہ سلمان کے دورہ جنوب مشرقی ایشیا کے اصل مقاصد کیا ہیں ؟

تسنیم نیوز ایجنسی: لیکن حیرت انگیز طور پہ میڈیا اور تجزیہ کاروں کی اکثریت سعودی عرب کے عالمی دہشت گردی کو بڑھاوا دینے، دور دراز علاقوں میں جیو پولیٹکل مداخلت اور یہاں تک تقسیم کرنے اور دہشت گردانہ سرگرمیاں جو ریاستی پشت پناہی میں ہونے والی دہشت گردی کو بڑھاتی ہیں، میں کردار کو یکسر ایک طرف ڈال کر اور اس پہ خاموش رہ کر اپنے تجزیے پیش کررہی ہیں۔ جبکہ سعودی عرب کی ان سرگرمیوں سے جنوب مشرقی ایشیاء بھی بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔

جرمنی کی نیوز ویب سائٹ ڈوئچے ویل (ڈی ڈبلیو) پہ جو رپورٹ اس حوالے سے شائع ہوئی اس کا عنوان ہے: "سعودی کنگ سلمان کا دورہ ایشیاء مسلم دوستی کو مستحکم کرتا ہے"۔ اور اس رپورٹ میں ڈوئچے ویل نے کہا ہے کہ اس دورے سے معاشی طور پہ تیزی سے ابھرنے والے ممالک سے ریاض کے سماجی، سیاسی تعلقات مضبوط ہوں گے۔ اور جنوب ایشیائی ممالک کا اسلامی امیج اور بہتر ہوگا۔ اور اس نے ملائشیا اور انڈویشیا کا ذکر کیا ہے۔

تاہم یہ رپورٹ سعودی عرب کی وجہ سے اسلام کے لئے کرہ ارض پہ بلاشبہ جو خطرات جنم لے چکے ہیں ان کے تذکرے سے پہلو تہی کرتی ہے۔ سعودی عرب اپنی سرحدوں کے اندر اور اس سے باہر اسلام کے نام پہ جس طرح کے مذہبی برانڈ کو پھیلاتا ہے، اسے وہابی ازم کہا جاتا ہے اور اس کی آڑ میں سعودی عرب اپنی سیاسی گرفت اندر اور باہر محفوظ رکھتا ہے۔

سعودی عرب کو عرصہ دراز سے امریکہ، برطانیہ اور یورپ بھر میں دوسرے خصوصی مفادات رکھنے والوں کی سرپرستی حاصل ہے اور وہ ان اقوام کی حکومتوں کو کسی بھی قوم کے خلاف وہابی ازم کے استعمال کے ذریعے اپنے منصوبوں کو کامیاب بنانے کا موقعہ فراہم کرتا آیا ہے۔ اور یہ صرف سعودی تیل اور پیٹرو ڈالرز کے لئے ہی سعودی عرب کے لاڈ نہیں اٹھاتے۔

جنوب مشرقی ایشیاء میں خاص طور پہ سعودی فنڈ پہ چلنے والے وہابی مدرسے خاص طور پہ ملائشیا اور انڈویشیاء میں ایک طرف تو انتہا پسندی کو پھیلاتے ہیں تو اکثر یہ نیٹ ورک اپنے آپ کو سیاسی طور پہ ان پارٹیوں اور لیڈروں کے خلاف جوڑتے ہیں جن کو مغرب دبانا چاہتا ہے یا ان کو ہٹانے کا خواہش مند ہوتا ہے۔

میانمار میں سعودی فنڈڈ دہشت گرد روہینگیا اقلیت میں داخل ہونے کی کوشش کررہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ روہینگیا کے خلاف جو کاروائی ہورہی ہے اسے علاقائی سیکورٹی بحران میں بدل دیا جائے اور یہاں پہ امریکی مداخلت کی زیادہ بڑے پیمانے پہ راہ ہموار کی جائے۔ اور اس کا ایک مقصد خطے میں امریکہ کی فوجی اور سیاسی مداخلت کو پھیلانا بھی ہے۔

حقیقت میں امریکہ اور اس کی سعودی پراکسیز کو روہینگیا میں اس کے سواء اور کوئی دلچسپی نہیں کہ بس بحران کو شدید کیا جائے۔ نہ ہی امریکہ حقیقی طور پہ یہ خیال کرتا ہے کہ جو انتہا پسند روہینگیا میں داخل ہوگئے ہیں وہ کسی قسم کے حقیقی سیکورٹی رسک ہیں۔ امریکہ تاہم میانمار اور چین میں فاصلے پیدا کرکے وہاں پہ اپنے فوجی مشیر لانا چاہتا ہے اور بہانہ اس خطرے سے نمٹنے کا بناتا ہے جو سعودی  عرب کا مصنوعی پیدا کیا ہوا سیکورٹی رسک ہے اور سعودی عرب نے یہ ساری سوشل انجینئرنگ اسی مقصد کے لئے پیدا کیے۔

فلپائن میں سعودی فنڈڈ اور سعودی وہابی آئیڈیالوجی سے لیس تنظیمیں فلپائنی حکومت پہ مسلسل دباؤ برقرار رکھتی ہیں اور فلپائن میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا جواز بنائے رکھتی ہیں۔

امریکہ نے متعدد بار کوشش کی ہے کہ تھائی لینڈ کے جنوبی صوبوں میں علیحدگی پسند پرتشدد تحریک مذہبی تصادم کی شکل اختیار کرے تاکہ وہ بنکاک پہ شدید دباؤ ڈالکر وہاں پہ امریکی فوج کا اثر بڑھاسکے۔

جیسا کہ امریکی ۔ سعودی مداخلت نے میانمار ۔ چینی تعلقات میں خرابی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ایسے ہی امریکی ۔ سعودی کوشش کا مقصد فلپائن اور تھائی لینڈ میں دہشت گردی کو بڑھانا ہے اور اس کا مقصد ان دونوں قوموں کو چین سے تعلقات مضبوط بنانے سے روکنا اور امریکہ کی اس خطے میں ایک لمبے عرصے سے چلے آرہے غلبے کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔

اور خود چین کے اندر امریکی حمایت یافتہ دہشت گردی چین کے مغربی صوبے سنکیانگ میں جاری ہے اور یہ ایک عرصے سے امریکہ کی چین کے اثر و رسوخ کو چین کے اندر اور باہر سے ختم کرنے کی پالیسی کا مستمل جزو ہے۔

سنکیانگ کی آبادی کی اکثریت بلالحاظ مذہب و نسل استحکام اور سماجی معاشی ترقی چاہتی ہے لیکن امریکہ نے ایسے اپوزیشن گروپ پیدا کئے ہیں اور ان کو پیسہ دیا ہے کہ عوام، حکومت کے خلاف منظم دہشت گردی کا ارتکاب کرتے ہیں۔

سنکیانگ میں انتہا پسند اقلیت امریکہ - سعودی مشترکہ دہشت گردی پھیلاؤ پروجیکٹ کے لئے بھرتی کے لئے آئیڈیل ثابت ہوئی ہے اور یہ ترکمانستانی وہابی دہشت گرد صرف سنکیانگ میں سرگرم نہیں ہیں بلکہ وہاں سے نکل کر چین سے باہر جنوبی ایشیاء اور ترکی تک میں موجود ہیں اور ترکی میں ان کو شام کے اندر تربیت دے کر بھیجا جاتا رہا ہے۔

تھائی لینڈ نے حال ہی میں کئی مشکوک لوگوں کو ملک بدر کیا او کئی کو نظربند۔ یہ لوگ دہشت گردوں کی اس پائپ لائن کا حصّہ تھے جن کو لیکر بنکاک اور واشنگٹن کے درمیان سنجیدہ سیاسی تناؤ موجود ہے۔ اس دہشت گرد نیٹ ورک نے بنکاک کے مرکز میں بم دھماکہ کیا تھا جس میں 20 افراد مارے گئے اور بہت سے زخمی ہوئے۔ شواہد یہ ہیں کہ بنکاک کے چین سے بڑھتے ہوئے روابط پہ اسے سبق سکھانے کے لئے کیا گیا۔

تھائی لینڈ نے واشنگٹن کے مطالبات ماننے سے انکار کرنے کے علاوہ اپنے آپ کو سرد جنگ کی گروپ بندی سے نکال کر اور صرف امریکہ کا ہی اتحادی بنکر رہنے کی پالیسی ترک کرتے ہوئے روس، چین وغیرہ سے تعلق پیدا کیا ہے اور یوریشیا میں موجود بااثر ملکوں سے روابط مضبوط کئے ہیں۔ واشنگٹن کا خیال ہے کہ بنکاک کو اس راستے پہ چلنے سے روکنے کے لئے جہاں دباؤ کے اور حربے استعمال میں لانے ضروری ہیں وہیں پہ سعودی عرب کے پاس فرقہ وارانہ آگ لگانے کا جو ٹیلنٹ موجود ہے اس کے استعمال کا آپشن بھی موجود ہے۔

کسی بھی خطے میں سعودی عرب کی مضبوط موجودگی کا مطلب امریکی اثر کا طاقتور ہونا ہوتا ہے۔ امریکہ نے عشروں پہ پھیلی خارجہ پالیسی میں سعودی عرب کو سیاسی سپورٹ، اسلحہ اور کیش پھیلانے کے لئے وہاں وہاں استعمال کیا جہاں اس کو ضرورت پڑی اور سعودی عرب نے مسلم اکثریت کی اقوام میں ایسا بہت بڑا نیٹ ورک پیدا کردیا جو ان اقوام کو امریکی مفادات کی خدمت گیری پہ مجبور کردیتے ہیں۔

جنوب مشرقی ایشیاء میں سعودی عرب کی طاقتور موجودگی کا مطلب وہاں مسلم کمیونٹیز کے اندر امریکہ کے لئے انتہا پسندی کی کاشت، ہیومن ریسورس کی بھرتی اور پھر ان کو پوری دنیا میں تباہ کن پراکسی جنگوں کے لئے جنوب مشرقی ایشیا کی طرح استعمال کرنا ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا کی ثقافتی طور پہ متنوع اور متحمل مزاج آبادیوں میں مذہبی بنیادوں پہ تقسیم کافی عرصے سے کی جارہی ہے۔ اگرچہ ابھی تک یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ آیا سعودی عرب کی خطے میں موجودگی واشنگٹن کے حق میں جائے گی لیکن اس سے تناؤ، تباہ کن اتھل پتھل اور تقسیم یقینی ہے۔

اگرچہ سعودی اثر میں آیا اکثر میڈیا اور تجزیہ کار سلمان کے اس دورے کے جو درپردہ عزائم ہیں ان کا بلیک آؤٹ کررہے ہیں لیکن ان عزائم کو بے نقاب کیا جانا بہت ضروری ہے۔ جب تک جنوب مشرقی ایشیا کی اقوام علاقائی اور جنوب مشرقی ایشیا کی سطح پہ اس خطرناک جیو پولیٹکل ہتھیار کو بے نقاب اور ناکارہ نہیں کریں گے تب تک سعودی عرب اور امریکہ ملکر اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ مین سٹریم میڈیا بھی سلمان کے دورے کے بارے میں اصل حقیقت پہ پردے ڈالتا رہے گا یہاں تک کہ خطے میں "بہار عرب" اسٹائل کی اتھل پتھل دیکھنے کو نہیں ملے گی۔

نوٹ: زیر نظر مضمون مصنف نے اپنے نقطہ نظر سے لکھا ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے، تو قلم اٹھائیں اور اپنے ہی الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس: tasnimnewsurdu@gmail.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری