سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس: پاکستان نے بالاخر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرلیا

خبر کا کوڈ: 1351955 خدمت: پاکستان
سمجھوتا ایکسپریس

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے مقدمے میں عدم پیش رفت اور ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں نہ لانے پر پاکستان دفتر خارجہ  نے 10 سال بعد بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کر کے احتجاج کیا

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے مقدمے سے متعلق پاکستان کے اس مدعا کو بار بار اٹھانے کے باوجود، عدم پیش رفت اور ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں نہ لانے پر پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو  نہ صرف دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا بلکہ جے پی سنگھ کو احتجاجی مراسلہ بھی تما دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفترخارجہ طلب کر کے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں نہ لانے پر احتجاج کیا گیا اور اس حوالے سے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔

دفتر خارجہ کے ڈی جی ساﺅتھ ایشیا ڈاکٹر فیصل نے احتجاجی مراسلہ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کے حوالے کیا۔

مذکورہ مراسلے میں بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان کے خلاف کارروائی کرے اور ان کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں سوامی آسیم آنند ، کرنل پروہت اور دیگر بھارتی فوجی ملوث تھے۔

سوامی آسیم آنند نے2007ءمیں حملے کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا اعتراف بھی کیا تھا۔

یاد رہے کہ 18 فروری 2007 کو بھارتی شہر پانی پت کے قریب لاہور اور نئی دلی کے درمیان چلنے والی ٹرین سمجھوتہ ایکسپریس کی دو بوگیوں کو دھماکوں سے اڑایا گیا تھا۔

اس سانحہ میں 48پاکستانی شہید ہوئے تھے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری