بھارتی گجرات میں گائے ذبح کرنے والوں کے خلاف سخت ترین اقدامات کی تجویز

خبر کا کوڈ: 1356469 خدمت: دنیا
گاو پرستی در هند5

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں حکومت نے گائے ذبح کرنے والوں کے خلاف سخت ترین اقدامات کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ گجرات حکومت 'گائے کے تحفظ' کے پہلے سے موجود قانون کو مزید سخت کرنے پر غور کررہی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ وجے روپانی نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران کہا کہ 'ہم نے گائے کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ میں مقدمہ لڑا اور ان کے تحفظ کا بل لے کر آئے'۔

اب ہم اس قانون کو مزید سخت کریں گے تاکہ کوئی بھی گائے کو ذبح کرنے کی ہمت نہ کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں ہفتے گجرات اسمبلی کے بجٹ سیشن کے دوران ہی 'تحفظ جنگی حیات ایکٹ 2011'ء میں ترمیم کا بل پیش کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ یہ ایکٹ 2011ء میں پہلی بار گجرات میں نافذ کیا گیا تھا جب نریندر مودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے۔

اس ایکٹ کے تحت گائے ذبح کرنے والے شخص پر 50 ہزار روپے جرمانہ اور 7 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔

وجے روپانی نے بتایا کہ ترمیمی بل میں گائے ذبح کرنے کا گائے کا گوشت سپلائی کرنے والے شخص کو عمر قید کی سزا دینے اور اس کی گاڑی کو مستقل طور پر ضبط کر لینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

    تازہ ترین خبریں