اختلافات سے دوری اور مکالمے اور مذاکرے سے ہی انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن ہے ۔ثاقب اکبر

خبر کا کوڈ: 1359929 خدمت: پاکستان
ادارے البصیرہ

علمی و تحقیقی ادارے البصیرہ کے صدر نشین نے کہا کہ انبیاء علیہم السلام ایک ہی مقصد لے کر اس دنیا میں آئے اور عدل اور حق کے نفاذ کے لیے مبعوث ہوئے.

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق مکالمے اور مذاکرے سے ہی انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن ہے ۔ضرورت اس امرکی ہے مشترکات پر عزت و احترام کی فضا میں بات کی جائے اور اختلافات سے دوری اختیار کی جائے۔ 

ان خیالات کا اظہار البصیرہ کے صدر نشین ثاقب اکبر نے مجلس بصیرت کی علمی نشست جو ’’مقصد بعثت انبیاء‘‘ کے زیر عنوان منعقد ہوئی میں کیا ۔ انھوں نے کہاکہ انبیاء ایک ہی دین کے پیروکار اور مبلغ تھے اور ان کے مقاصد مشترک تھے یہی مشترک مقاصد ہمارے لیے مشترکہ بنیادیں قرار پا سکتے ہیں۔اس سے قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف کالم نگار اور دانشور ڈاکٹر مرتضی مغل نے کہا کہ انبیاء ایک ہی مقصد لے کر اس دنیا میں آئے۔اُنھوں نے کہا کہ انبیاء عدل اور حق کے نفاذ کے لیے مبعوث ہوئے۔ اس سلسلے میں انھوں نے بہت سی قرآنی آیات کا حوالہ پیش کیا ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اہل حرم کے سربراہ اور جامعہ نعیمیہ کے مہتمم مفتی گلزار احمد نعیمی نے کہا کہ انبیائے کرام نے دنیا و آخرت کو بہتر بنانے کی دعوت دی ، تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے معروف صحافی اور شاعر نعیم اکرم قریشی نے کہا کہ نبی کریم ؐ کی محبت ہم مسلمانوں کو جوڑتی ہے یہ ہمارا مشترکہ سرمایہ ہے۔ 
تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے مفتی محمد عمران نے کہا کہ قرآن و حدیث میں ایسی باتیں موجود ہیں جو دنیا و آخرت میں ہمیں راہنمائی مہیا کرتی ہیں، مفتی امجد عباس کا کہنا تھا کہ انبیاء کرام نے جہاں توحید کی دعوت دی وہیں سبھی سماجی برائیوں کے خاتمے کی بھی بھرپور کوشش کی۔ اُنھوں نے سماجی عدل و انصاف کے قیام کی جدوجہد کی۔
 تقریب میں ان احباب کے علاوہ ڈاکٹر ساجد خاکوانی ، ڈاکٹر راحت عباس ، مولانا فرحت عباس،رشاد بخاری ،ایڈوکیٹ محمد بنیامین بھٹی،مبشر اسلام،محمد سفیان،محمد سفیان رفیع،وقار نثار مغل،عمران اسلم باجوہ،محمد اشرف حیدری،زکی الحسنین،محمد فیروز خان،مجتبی عابد، مرتضیٰ عباس، زُہیر حسن، اکرام حسین، سید اسد عباس، صفدر دانش، مولانا عمران علی حیدری اور دیگر علماء و دانشوروں نے شرکت کی۔
یاد رہے کہ علمی و تحقیقی ادارے البصیرہ کے زیر اہتمام مجلس بصیرت کے عنوان سے علمی محافل کا انعقاد گذشتہ ایک سال سے جاری ہے ، یہ اس سلسلے کی گیارھویں مجلس تھی۔ ان مجالس میں مختلف مکاتب فکر ، ذہنی رجحانات کے حامل دانشور اور مفکرین ایک بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں اور مختلف معاشرتی ، مذہبی ،دینی اور علمی مسائل پر گفتگو کی جاتی ہے۔

    تازہ ترین خبریں