سبط جعفر زیدی کو ہم سے بچھڑے 4 سال بیت گئے / قاتل کو اعتراف کے باوجود سزا نہیں دی گئی

خبر کا کوڈ: 1360392 خدمت: پاکستان
سبط جعفر

استاد سبط جعفر زیدی کی شہادت کے 4 سال گزرنے کے بعد بھی ان کے قاتل کو اقبال جرم کے باوجود سزا نہیں دی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سبط جعفر زیدی ایک شاعر، ذاکر، استاد، ماہر تعلیم تھے جنہیں 18 مارچ 2013 کو دہشتگردوں نے دن دھاڑے شہید کر دیا تھا۔

لیاقت آباد کے قریب گھات لگائے دہشتگردوں نے سبط جعفر زیدی پر اُس وقت گولیوں کی بوچھاڑ کردی تھی جب وہ اپنے کالج سے واپس گھر کی جانب جارہے تھے۔

ان کی سادگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ایک 18 یا 19 گریڈ کے سرکاری افسر ہونے کے باوجود اپنی موٹر سائیکل پر ہر جگہ گھومتے تھے۔

ایسے درویش صفت انسان کو محض فرقہ واریت کو ہوا دینے کے لئے دہشتگردوں نے سرعام بے رحمی سے قتل کردیا تھا۔

پولیس سمیت دیگر تحقیقاتی اداروں کے بقول استاد شہید سبط جعفر کے قاتلوں کا تعلق ایم کیو ایم سے تھا جبکہ رینجرز کی جانب سے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو سے گرفتار عبید کے ٹو نامی  دہشتگرد نے استاد کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

اس بےگناہ قتل کے اعتراف کے باوجود عدالت کی جانب سے اسے سزا سنانے میں تاخیر عقل سے بالا ہے۔

آج استاد سبط جعفر زیدی کی چوتھی برسی منائی جارہی ہے۔

وہ بظاہر اپنے چاہنے والوں کے درمیان نہیں لیکن محفلوں میں اپنے کلام کے ذریعہ آج بھی زندہ ہیں۔

دوسری جانب قرآن پاک کا بھی فیصلہ ہے کہ، وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُواْ فِی سَبِیلِ اللّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَاء عِندَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُونَ

ترجمہ: اور خبردار راہِ خدا میں قتل ہونے والوں کو ہرگز مردہ خیال نہ کرنا وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے ہاں رزق پارہے ہیں۔ (سوره آل عمران، آیت مبارکہ: 169)

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری