سندھ حکومت اہل تشیع کو تحفظ دینے کی بجائے گرفتار کر رہی ہے

خبر کا کوڈ: 1360771 خدمت: پاکستان
مقصود ڈومکی

مجلس وحدت المسلمین کے رہنما نے کہا ہے کہ شکارپور اور جیکب آباد کے شہیدوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا، سندھ میں اہل تشیع برادری دہشتگردوں کے نشانے پر ہے مگر سندھ حکومت تحفظ دینے کی بجائے ان کو گرفتار کر رہی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق مجلس وحدت المسلمین کے رہنما علامہ مقصود احمد ڈومکی نے کہا ہے کہ شکارپور اور جیکب آباد کے شہیدوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا ہے سندہ میں اہل تشیع برادری دہشت گردوں کے نشانے پر ہے مگر سندھ حکومت اہل تشیع کا تحفظ دینے کے بجائے شیعہ برادری کو گرفتار کر رہی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سندھ حکومت نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو بلاول ہاؤس کی جانب مارچ کرینگے۔

ان خیا لات کا اظہار انہوں نے سکھر پریس کلب میں کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کانفرنس میں پیپلز پارٹی کے ایم این اے نواب وسان اور ایم پی اے منظور وسان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم کے کارکنان کو پیپلز پارٹی کے رہنما منظور وسان انتقامی کاروائی کا نشانہ بنا رہے ہیں، ایم این اے نواب وسان اور منظور وسان نے بلاجواز صوبائی رہنماؤں کو گرفتار کرایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے سیاسی انتقام کا آغاز کیاہے، سندھ کے مختلف شہروں میں کالعدم تنظیموں کے سرے عام جھنڈے لگے ہوئے ہیں۔ شکار پور سمیت مختلف شہروں میں دہشت گردوں کی نرسریاں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردوں اور انکے سہولت کاروں کے خلاف بلا تفریق آپریشن کیا جائے اور اہل تشیع برادری کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جائے، حکومت نے اگر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں نہیں کی تو حکومت کے خلاف سخت احتجاج بھی کیا جا سکتا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری