سیکرٹری جنرل حزب اللہ لبنان:

عالمی و علاقائی طاقتیں شام میں اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں

خبر کا کوڈ: 1361073 خدمت: اسلامی بیداری
نصر الله

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے حضرت بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت با سعادت کے موقع پر کہا کہ اقوام متحدہ ایک کمزور ادارہ ہے جو امریکی و اسرائیلی اہداف کے حصول کیلئے کام کررہا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے ماطابق: حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی لخت جگر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی ولادت باسعادت اور یوم خواتین کی مناسبت سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "سامراجی طاقتوں سے منسلک وہابی دہشت گرد تنظیم داعش عراق کے شہر موصل میں دم توڑ رہی ہے جبکہ عراق، شام اور لبنان میں اسلامی مزاحمت مزید طاقتور ہوگئی ہے"۔

سید حسن نصر اللہ نے لبنان، شام، عراق، یمن ،پاکستان ،افغانستان کے شہداء اور دیگر تمام شہداء کی ماؤں کو حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا: "امریکہ جب اقوام متحدہ کو فنڈ میں کمی کی دھمکی دیتا ہے تو اقوام متحدہ کے حکام اپنے منصبی فرائض سے چشم پوشی کرلیتے ہیں، اقوام متحدہ کی صورتحال امریکہ اور اسرائیل کے سامنے آقا و غلام جیسی ہے"۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی نمائندہ ریما خلف کے استعفی کے حوالے سے اقدام شجاعانہ تھا اور ریما خلف نے اپنے ضمیر اور حق کا سودا نہیں کیا اور غلط دباؤ کی صورت میں اپنے عہدے سے استعفی دیدیا، ہم ریما خلف کے انسان دوستانہ اقدام کی قدر کرتے ہیں اور انھیں ان کے شجاعانہ اقدام پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ اقوام متحدہ ایک کمزور ادارہ ہے جو امریکی و اسرائیلی اہداف کے سلسلے میں کام کررہا ہے۔ ریما خلف کی رپورٹ پر اقوام متحدہ کی عقب نشینی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اقوام متحدہ کا ادارہ انسانی حقوق اور مسئلہ فلسطین کے حل کے سلسلے میں کوئی مثبت اقدام عمل میں نہیں لاسکتا اور نہ ہی ان سے اس کی توقع رکھنی چاہیے۔

سید حسن نصر اللہ نے عالمی اداروں بالخصوص عرب لیگ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریما خلف کی رپورٹ کی حمایت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ میں ثبت کرانے کی کوشش کریں اور فلسطینی عوام کے حقوق کے ساتھ کسی کو بازی کرنے کی اجازت نہ دیں۔

سید حسن نصر اللہ نے شام میں گذشتہ 6 سال سے جاری جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شام پر وہابی تکفیری دہشت گردوں کے ذریعہ جنگ مسلط کرنے والے ممالک کو شکست ہوچکی ہے شام کی جنگ میں خرچ ہونے والا سرمایہ عربی سرمایہ تھا اور ہم اس سرمایہ کے ذریعہ عرب ممالک سے فقر ، بے روزگاری اور ناخواندگی کو بڑی حد تک کم کرسکتے تھے وہابی دہشت گرد تنظیم اگر اپنی توجہ عراق، شام، لبنان،یمن ، افغانستان و پاکستان کے بجائے اسرائیل اور مسئلہ فلسطین کی جانب مبذول کرتیں تو آج فلسطینی عوام کی مشکلات حل ہوگئی ہوتیں۔ لیکن وہابی دہشت گرد تنظیمیں امریکہ اور سامراجی طاقتوں کے زیر نظر ہیں ان سے مسئلہ فلسطین کی حمایت کی توقع رکھنا اشتباہ ہےوہابی دہشت گرد تنظیمیں اسلامی ممالک میں عدم استحکام پیدا کررہی ہیں۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ بشار اسد کے خلاف وہابی دہشت 80 ممالک سے شام پہنچ گئے لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف لڑنے کے لئے کوئی بھی وہابی تیارنہیں ہے ۔ انھوں نے کہا کہ النصرہ اور داعش دونوں کو تاریخی شکست کا سامنا ہے داعش موصل میں دم توڑ رہی ہے ۔ شام، عراق، لبنان اور خطے میں اسلامی مزاحمت کو فتح نصیب ہوگی اور ہمیں اللہ تعالی کے سچے وعدوں پر یقین ہے۔

    تازہ ترین خبریں