ملکہ کونین ام ابیھا فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا مختصر زندگی نامہ

خبر کا کوڈ: 1361198 خدمت: مقالات
فاطمہ زہرا

دختر پیغمبر کی ولادت حضورﷺ کی نبوت کے اعلان کے پانچ برس بعد ہوئی. شہادت 3؍جمادی ا لثانیہ 11ہجری, شہادت کے وقت آپکی عمر اٹھارہ برس دو ماہ اور پندرہ دن تھی۔

بعثت کے پانچویں سال 20جمادی الثانی بروزجمعہ انگن نبوت  میں خدا نے رحمت نازل کی اور مکہ مکرمہ میں آپ سلام اللہ علیہا نے آغوش نبوت میں آنکھ کھولی, آپ کی تربیت خدیجۃالکبری جیسی سابق الاسلام عورت اور رسول خداکی آغوش میں ہوئی یعنی خدا نے اس خاتون کی تربیت کی زمہ داری لی، اور شادی کے بعد کی زندگی علی علیہ السلام جیسے بہادر شجاع انسان کے ساتھ گزاری اور خدا نے یہ شرف کائنات میں صرف آپ  کو دیا جن سے آپ سلام اللہ علیہا   کی نسل چلی پس آپ کو  ام   ائمہ بھی کہا جاتا ہے۔

آپ سلام اللہ علیہا   کے القابات میں زھرا اور سیدۃ النساء العالمین (تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار) اور بتول ہیں۔ مشہور کنیت ام الائمہ، ام السبطین اور ام الحسنین ہیں۔ آپ کا مشہور ترین لقب سیدۃ النساء العالمین ایک مشہور حدیث کی وجہ سے پڑا جس میں حضرت محمد  نے ان کو بتایا کہ وہ دنیا اور آخرت میں  یعنی(تمام عالم اسلام اور جنت کی عورتوں کی سردار) سیدہ ہیں۔ اس کے علاوہ خاتونِ جنت، الطاہرہ، الزکیہ، المرضیہ، راضیہ، السیدہ وغیرہ بھی آپ کے القابات ہیں۔

پیغمبراسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم حضرت زہرا سلام الله علیہا کا اتنا احترام کرتے تھے کہ آپ سلام اللہ علیہا   کا نام نہیں لیتے تھے بلکہ آپ کو آپ کی کنیت ام ابیہا سلام اللہ علیہا سے خطاب فرماتے تھے۔ ام ابیہا یعنی اپنے باپ کی ماں۔ کیونکہ پیغمبر اسلام کی والدہ کا آپ کے بچپن میں ہی انتقال ہوگیاتھا اس لئے آپ اپنی ماں کے بعد حضرت فاطمہ بنت اسد یعنی حضرت علی علیہ السلام کی والدہ سے بہت محبت کرنے لگے تھے اور آپ ہی کو ماں کہتے تھے۔ جب ان کا انتقال ہوا توپیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم بہت غمگین ہوئے اور فرمایا کہ آج میری ماں اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔

اصول کافی میں امام باقر ؑ سے روایت نقل ہے کہ دختر پیغمبر کی ولادت حضورﷺ کی نبوت کے اعلان کے پانچ برس بعد ہوئی. شہادت 3؍جمادی ا لثانیہ 11ہجری, شہادت کے وقت آپکی عمر اٹھارہ برس دو ماہ اور پندرہ دن تھی۔ معانی الاخبار میں سدیر حیرنی نے امام صادق ؑ سے روایت کی ہے کہ آپ نے اپنے آباء و اجداد کے ذریعہ فخر موجودات سے سنا ہے کہ اللہ نے تخلیق ارض و سما سے قبل نور فاطمہ پیدا کیا تھا، صحابی نے سوال کیا کہ فاطمہ نوع انسان سے نہیں ہے رسول ﷺنے فرمایا فاطمہ حورائے انسیہ ہے اللہ نے نور فاطمہ کو تخلیق آدم سے پہلے پیدا کیا اور تخلیق آدم سے پہلے نور فاطمہ کا قیام زیر عرش تھا اور فاطمہ کی غذا تسبیح و تہلیل خالق تھی۔

اسلام سے قبل عربوں کے لوگوں کے حالات بہت برے تھے ان کا رہنا سہنا جانوروں سے بھی بدتر تھا عورتیں ظلم کا شکار تھیں کئی مرد ملکر ایک مشترکہ عورت رکھتے تھے، اور جب اس سے بچہ پیدا ہوتا تو ولادت کے چند دن بعد اپنے سارے شوہروں کو جمع کر کے اپنی خواہش کے مطابق ان میں سے بچے کو کسی سے منسوب کردیتی, یہ اختیار عورت کو تھا مردوں کو اس معاملے میں دخل اندازی کا حق نہیں تھا لیکن اگر لڑکی پیدا ہوتی تو وہ اسے اپنے شوہروں سے مخفی رکھتی تھی۔اگر مردوں کو اس کا علم ہو جاتا تھا تو وہ اس کو زندہ دفن کر دیتے تھے عورت بالخصوص بیٹی جننے والی عورت کو ایام جاہلیت میں کس حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اس کا اندازہ قر آ نی آ یات کے ذ ریعے لگایا جا سکتا ہے.

اللہ تبا رک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے( جب زندہ در گور لڑ کی سے پو چھا جائے گا کہ اسے کس جرم میں قتل کیاگیا تھا،وہ کس گناہ میں ماری گئی)سورۂ تکویر آیت نمبر8،9

ایک جگہ ارشاد فر مایا جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری سنائی جاتی ہے تو اس کے چہر ے پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ اپنے دل ہی دل میں گھٹتا رہتا ہے بیٹی کی شرم کے مارے چھپا چھپا پھرتا ہے اور سوچتا ہے ذلت برداشت کرکے اس کو رکھ لے یا اد کو مٹی میں گاڑ دے سورہ نحل آیت نمبر 58,59

اس آیت سے صاف واضح ہے کہ اس وقت کے لوگوں کی زندگی جانوروں سے بھی بدتر تھی کیوں کہ اگر تاریخ میں  جانوروں کی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو ان کی تاریخ میں بھی اس طرح کے واقعات کا پایا جانا مشکل ہے اسلام نے عورت کے مراتب و حقوق کا پاس و لحاظ رکھا ہے پیغمبر ختمی مرتبت ﷺنے اس جاہلانہ و بدترین رسم ورواج کو ختم کیا اور ہر ایک کے مرتبہ واہمیت سے روشناش کرایا۔ 

اسلام نے نہ صرف عورتوں کے حقوق کا دفاع کیا بلکہ عورت کے مثبت کردار کو پیش کیا اور اسلام کی تاریخ پر گہرا اثر چھوڑا۔

جب جناب سیدہ ؑ کی ولادت کا وقت نزدیک آیا تو جناب خدیجہ نے خواتین قریش کو پیغام بھیجا سب نے امداد سے انکار کر دیا۔ اتنے میں چار عورتیں آئیں جناب خدیجہ پریشان ہوگئیں عورتوں نے  کہا آپ گھبرائیں نہیں ہمیں خدا نے آپ کی خدمت کے لئے بھیجا ہے اور سب نے اپنا تعارف کرایا۔ (آسیہ بنت مزاحم، سارہ زوجہء خلیل ؑ ، مریم مادر عیسیٰ ؑ، کلثوم خواہر موسیٰؑ) پھر کچھ کنیزیں آب سبیل, لباس اور خوشبو لے کر آئیں۔ جب جناب زہرا ؑ کی ولادت ہوئی تو بی بی کی جبین مطہر سے ایک ایسا نور چمکا کہ تمام مکہ اس سے منور و روشن ہو گیا۔

مختلف روایات اور بحارالانوار میں ملتا ہے کہ جب آپ سلام اللہ علیہا  کی شادی کی رات آئی تو گھر پر کسی نے سائل نے دستک دی مگر اس رات بھی سائل خالی ہاتھ نہ لوٹا، خدا کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے جناب سیدہ  سلام اللہ علیہا   نے اپنا جنت سے آیا ہوا لباس عروسی  بھی راہ خدا میں دے دیا۔
آپ سلام اللہ علیہا کی زندگی آج بھی   اور رہتی دنیا تک خواتین مشعل راہ کے طور پر دیکھتی ہیں، اور عالم اسلام میں آپ کی زندگی کی طرز پر ہی چلا جاتا ہے.

آپ سیدہ سلام اللہ علیہا پر لاکھوں دورود وسلام۔

    تازہ ترین خبریں