حضرت فاطمۃالزھرا حیا کے ماتھے کا تاج، وفا پرستی کی لاج

خبر کا کوڈ: 1361835 خدمت: اسلامی بیداری
پیر بخاری

ممتاز مذہبی سکالر علامہ پیر سید اظہار بخاری نے اس بیان کیساتھ کہ فاطمۃ الزھرا سلام اللہ علیہا اس باپ کیلئے رحمت، جو خود رحمۃ اللعالمین ہیں، کہا کہ حضرت سیدہ حیا کے ماتھے کا تاج اور وفا پرستی کی لاج تھی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق حضرت بی بی سیدہ فاطمۃالزھرا سلام اللہ علیہا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز مذہبی سکالر علامہ پیر سید اظہار بخاری نے کہا کہ حضرت فاطمۃالزھرا سلام اللہ علیہا حیا کے ماتھے کا تاج، وفا پرستی کی لاج تھی۔ قوم کی بیٹیوں کیلئے حضرت فاطمۃالزھرا سلام اللہ علیہا کا کردار مثالی اور مشعل راہ ہے۔ دختر رسول سیدۃ النساء فاطمۃالزھرا ایسا پاکیزہ نام ہے، جو اسلام کی تاریخ میں ایک نمایاں اور امتیازی مقام رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی صفات اور پاکیزگی کے روشن پہلو اسلام کے دامن میں چمکتے موتیوں کی حثییت رکھتے ہیں۔

اظہار بخاری نے کہا کہ بی بی فاطمۃ الزھرا سلام اللہ علیہا کی شان یہ ہے کہ آپ اس باپ کیلئے رحمت، جو خود رحمۃ اللعالمین ہیں، اس شوہر کے لیے نصف ایمان، جو خود کامل ایمان ہے، آپ کے قدموں میں ان بیٹوں کی جنت، جو خود جنت کے سردار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ زمانہ جاہلیت میں بچیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا لیکن نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خواتین پر تشدد کا راستہ بند کیا۔ عزت، حرمت، حیا اور حقوق وراثت کے ایسے قوانین مرتب کیے جس کی نظیر دنیا کے کسی بھی مذہب میں نہیں ملتی۔ المیہ ہے آج روشن خیالی کے دور میں بچیوں کو جہیز کی قبر میں دفن کیا جاتا ہے۔ اسلام نے عورت کو جو مقام دیا ہے، وہ اسی مقام میں رہے، تو کوئی اس کے حقوق چھیننے کی جرأت نہیں کر سکتا۔

اظہار بخاری نے کہا کہ لادینی طاقتیں شعائر اسلام کا مذاق اڑانے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتی۔ امریکہ عورتوں کے حقوق کی بات کرتا ہے، لیکن عورت کو اتنا حقیر سمجھتا ہے کہ آج تک اس نے کسی عورت کو امریکہ کا حکمران نہیں بنایا۔ مغرب کی نظر میں عورت آج بھی ایک بدترین اور حقیر مخلوق ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت فاطمۃالزھرا سلام اللہ علیہا کے احترام میں کھڑے ہو کر بتا دیا کہ عورت کا مقام کیا ہے۔ خاتون جنت اپنے ہاتھ سے کام کاج کرتی تھیں، چکی چلاتیں کہ ہاتھوں میں چھالے پڑ جاتے۔ قرآن پاک کی تلاوت کرتی۔ اسلام خواتین کو کام کاج سے نہیں روکتا لیکن افسوس ہے، ان مغربی ذہن رکھنے والی خواتین پر جو اسلام کو اپنی آزادی کا سب سے بڑا دشمن سمجھتی ہیں۔ نام مظلوم خواتین کا لیتی ہیں اور جیبیں اپنی بھرتی ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم کی بیٹیاں مغربی دنیا سے متاثر ہونے کی بجائے حضرت فاطمۃالزھرا سلام اللہ علیہا کے کردار کو اپنا آئیڈ یل بنائیں تو پھر ان کے حقوق سلب کرنے کی کوئی جرأت نہیں کرے گا۔

 

    تازہ ترین خبریں