چوہدری نثار، لدھیانوی ملاقات؛ ساجد نقوی کا وزیر داخلہ کے بیان پر ردعمل کا اظہار

خبر کا کوڈ: 1361848 خدمت: پاکستان
ساجد نقوی

تحریک اسلامی کے سربراہ نے کہا ہے کہ قوم کونہیں بتایا گیا کہ ایک مسلمہ کالعدم تنظیم کے سربراہ سے ملنے کے بعد وفاقی دارالحکومت کے قلب میں جلسہ کی اجازت کس کی ایماء پر دی گئی جہاں غلیظ فتوؤں اور نعروں کی ایک جانب کھلی چھوٹ تھی تو دوسری جانب دھمکیاں بھی دی جاتی رہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اسلامی تحعیک کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے حالیہ بیان سے واضح لگتاہے کہ انہیں کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ لاعلم بھی رکھا جارہاہے، جس کیس کا ذکر وہ ایوان بالا میں کررہے ہیں اس کیس میں فرقہ واریت کا سرے سے تذکرہ ہی نہیں جسے غیر ذمہ داری اور زیادتی کہا جاسکتاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قوم کونہیں بتایا گیا کہ ایک مسلمہ کالعدم تنظیم کے سربراہ سے ملنے کے بعد وفاقی دارالحکومت کے قلب میں جلسہ کی اجازت کس کی ایماء پر دی گئی جہاں غلیظ فتوؤں اور نعروں کی ایک جانب کھلی چھوٹ تھی تو دوسری جانب دھمکیاں بھی دی جاتی رہیں، وزیر داخلہ کو سچ کی تلقین کرنے کے ساتھ ساتھ سچ بتایا بھی جائے اور سچ بولنے کا موقع بھی فراہم کیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی جانب سے گزشتہ روز سینیٹ میں بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہاکہ کچھ سیاسی جماعتوں کی جانب سے یہ معاملہ تو اٹھایا گیا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے ایک مسلمہ کالعدم تنظیم کے سربراہ سے ملاقات کی جس کا برملا اعتراف خود چوہدری نثار علی خان نے بھی کیا لیکن ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس ملاقات کے بعد وفاقی دارالحکومت میں جو نفرت انگیز جلسہ کیاگیا، غلیظ فتوے، نعرے لگائے گئے اور سرعام دھمکیاں دی گئیں اس پر نہ تو چوہدری نثار علی خان گویا ہوئے نہ ہی وزارت داخلہ کی جانب سے کوئی احکامات صادر ہوئے جبکہ اسلام آباد انتظامیہ تو ٹس سے مس تک نہ ہوئی، دوسری جانب انتہائی حیران کن امر ہے کہ کسی سیاسی جماعت نے بھی اس معاملے پر آواز تک نہیں اٹھائی، جنہوں نے ملاقات کا معاملہ اٹھایا یہ ان کے پیٹ کا مروڑ اور حب علی علیہ السلام کی بجائے بغض معاویہ تھا، آخر یہ سرد مہری کیوں؟

اسلامی تحریک کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں ہائیکورٹ میں زیر سماعت جس کیس کا تذکرہ کرکے اسے فرقہ وارانہ کیس کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی اس سے ان کی معلومات کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتاہے جبکہ ان کی کمزوری اور بے بسی بھی اسی سے عیاں ہوجاتی ہے جس کیس میں سرے سے فرقہ واریت کا تذکرہ تک نہیں اس انداز میں ایوان بالا میں اسکا ذکر کرنا زیادتی، کسی دباؤ کا نتیجہ اور بے جا الزام ہے صرف دوسروں کو سچ کی تلقین نہ کی بجائے بلکہ سچے ذرائع سے سچ معلوم کرکے اور حقائق جان کر وزیر داخلہ خود بھی پورا سچ بولیں اور اصل حقائق عوام کے سامنے رکھیں، افسوس ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ آج تک عوام کو اصل حقائق اور محرکات کے حوالے سے سچ نہیں بتایاگیا۔

    تازہ ترین خبریں