ایرانی قوم اقتصادی مشکلات کے باوجود شادمان رہی

خبر کا کوڈ: 1362035 خدمت: ایران
رهبری

امام خامنہ ای نے تاکید کی کہ ایرانی قوم گزشتہ سال کے دوران اقتصادی مشکلات کے باوجود شادمان رہی۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے کے مطابق رہبر معظم حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے عید نوروز کے موقع پر حرم مطہر امام رضا علیہ السلام میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "ایرانی قوم گزشتہ سال کے دوران اقتصادی مشکلات کے باوجود درخشاں ستارے کی مانند جگمگاتی رہی"۔

امام خامنہ ای کے خطاب کے اہم ترین عناوین ملاحظہ فرمائیں؛

اگرچہ ایرانی قوم گزشتہ سال کے دوران اقتصادی مشکلات سے دوچار تھی تاہم درخشاں ستارے کی مانند جگمگاتی رہی، جس کی 2 وجوہات ہیں؛ ایک یہ کہ عوام پورے جوش و جذبے کیساتھ انقلاب و نظام اسلامی کے مسائل اور اقدار پر پابند رہی جس کی زندہ مثال 22 بہمن کی عظیم ریلیاں تھیں اور انقلاب کے مسائل کے حوالے سے عوامی اجتماعات جو لوگوں کی انقلاب کے مسائل سے وابستگی اور جذبات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

دوسری وجہ؛ عوام دین اور ایمان سے متعلق مسائلکے حوالے سے بھی پابند رہی، گزشتہ سال ماہ مبارک رمضان، محرم الحرام، صفرالمظفر اور دیگر دینی مراسم کی اطمینان بخش رپورٹس موصول ہوئی ہیں اور عوام کی مختلف مجالس میں شرکت ہمیشہ سے زیادہ دیکھنے میں آئی۔

22 بھمن کی ریلیوں کا سیاسی معاملات سے کوئی ربط نہیں اور نہ ہی اعتکاف، محرم الحرام کی مجالس اور اربعین کا سیاسی معاملات سے کوئی تعلق ہے بلکہ یہ تمام ایرانی قوم سے متعلق ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایرانی قوم کا منزل و مقصد انقلابی ہے۔

البتہ گزشتہ سال (ہجری شمسی سال 1395) کے دوران نہایت تلخ حادثات سامنے آئے جن میں حالیہ فائر بریگیڈ کے جوانوں کی قربانیاں تھیں جنہوں نے فداکاری کی اور یہ ایک تلخ حادثہ تھا، لیکن اہم بات یہ ہے کہ عوام کی ہمت اور حرکت، نتیجہ خیز اور ترقی کی علامت ہو، جو کہ الحمدللہ موجود ہے۔

ایرانی قوم کو امسال بھی قومی اتحاد دکھانا چاہئے اور اسی طرح نظام، انقلاب اور دینی امور پر پابند رہنا بھی دنیا پر عیاں کرے اور ثابت کرے اور اپنی حرکتوں کو ایران، اسلامی جمہوریہ اور ایرانی قوم کے دشمنوں کی سمت گامزن کرے۔

22 بہمن کے جلوسوں اور ماہ محرم و صفر کے اجتماعات اور پروگراموں میں ایرانی عوام کی وسیع شرکت، دوست و دشمن دونوں کے لئے اہم پیغام کی حامل ہے اور اس سے دوست و دشمن سب کے سامنے ایرانی عوام نے اپنی شناخت کو منوایا ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اس طرح کے اجتماعات میں ایرانی عوام کی وسیع پیمانے پر شرکت اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ ایران کے عوام، دین و مذہب کے امور پر پابندی کا معاملہ ہو یا ملک کے سیاسی معاملات اور انقلابی اقدار کی حفاظت کی با ت ہو، ہر میدان میں پوری طرح متحد ہیں۔

رہبرانقلاب اسلامی نے ایرانی عوام کے اتحاد اور انقلاب و اسلامی نظام نیز مذہبی امور کی پابندی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ نیا سال بھی اس لحاظ سے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔

آپ نے اقتصادی مسائل کو ملک کے مسائل میں سرفہرست قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اقتصادی میدان میں سرعت عمل کا مظاہرہ کیا جائے۔

انہوں نے فرمایا کہ اگر ایران کے حکام کے نقطہ نگاہ سے اقتصادی مسائل سرفہرست ہیں تو دشمن نے بھی ان ہی مسائل کو اپنی ترجیحات میں قرار دے رکھا ہے اور دشمن، ایران کو اقتصادی میدان میں کمزور کر کے عوام اور حکومت کے دمیان فاصلہ پیدا کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اس طرح اپنے مقاصد حاصل کرسکے۔

آپ نے فرمایا کہ ایران کے نادان دشمن برسوں سے اس میدان میں اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے لیکن وہ اب تک ناکام رہے ہیں اور آئندہ بھی ان کو کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔

    تازہ ترین خبریں