عاصمہ جہانگیر کی توسط سے ایران مخالف امریکی کھیل جاری/ اس بار اصلاح طلبوں کی حمایت کردی

خبر کا کوڈ: 1363863 خدمت: ایران
عاصمه جهانگیر

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عاصمہ جہانگیر کو احمد شہید کا جانشین بنانا پاکستان میں ایران کے خلاف نئے کھیل کا آغاز ہوسکتا ہے کیونکہ ایران کے بارے میں اقوام متحدہ کے موجودہ رپورٹر نے اس ملک کے خلاف منفی رپورٹنگ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔

  

تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کے بارے میں اقوام متحدہ کے رپورٹر احمد شہید نے عرصہ پہلے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر گزشتہ سال نومبر کے مہینے میں اپنی ملازمت کے خاتمے کی خبر دی تھی اور لکھا تھا کہ دو ماہ بعد اپنی ذمہ داریوں کو عاصمہ جہانگیر کے حوالے کریگا۔

ایران کے خلاف انتہائی منفی کردار ادا کرنے والے احمد شہید کی تمام اطلاعات کے تانے بانے دہشت گروہ منافقین (ایم کے او) اور دیگر علیحدگی پسند گروہوں کے ذرائع سے ملتے جلتے تھے یہی وجہ تھی کہ اس کی اطلاعات کا کوئی معیار نہیں رہا تھا تاہم دستیاب ثبوتوں کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ اس ایڈجسمنٹ میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی۔

بنابراین عاصمہ جہانگیر بھی احمد شہید کے نقش قدم پر چل کر ایران کےخلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرنے کیلئے میدان میں اتر آئی ہیں جبکہ قارئین کو ان کی حالیہ تقریر میں ایران کے بارے میں حقائق کو مشکل سے ڈھونڈنا پڑیگا۔

ایران میںصدارتی انتخابات کی آمد آمد کے موقعے پر اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر نے تہران کے اندرونی امور میں مداخلت جاری رکھتے ہوئے اس بار اصلاح طلبوں اور فتنے کے سرغنوں کی حمایت کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں جمہوریت کی فضا محدود ہے۔

اقوام متحدہ کیایران کے انسانی حقوق کی خصوصی رپورٹر عاصمہ جہانگیر نے اپنی حالیہ تقریر میں کہ جس آزاد ریڈیو یورپ نے نشر کیا ہے، اس بار اصلاح طلبوں کا دفاع کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے اصلاح طلب دباؤ میں ہیں، گرفتار کیے گئے افراد کو اذیتیں دی گئی ہیں اور ان کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے، موت کی سزاؤں میں بھی انتباہ کن حد تک اضافہ ہوا ہے۔

اس ریڈیو نے اس سلسلے میں لکھا ہے: 13 مارچ 2017 کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی کو تاریک تصویر ایسے موقعے پر پیش کی گئی ہے کہ جبایران میں 19 مئی کو صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں ۔

اس نے اقوام متحدہ کے یورپ کے دفتر میں کہ جو سویزر لینڈ کے ژنو میں واقع ہے کہا : تمام رپورٹیں اس بات کی تائیید کررہی ہیں کہ ایرانی شہریوں کو بہت زیادہ کنٹرول میں رکھا جاتا ہے اور ایران میں جمہوریت کی فضا محدود ہے۔

اس رپورٹ کی بنیاد پر اسنے فتنے کے سرغنوں کا دفاع کیا اور دعوی کیا کہ وہ چھ سال سے بغیر یہ بتائے ہوئے کہ ان کا قصور کیا ہے قید میں ہیں ۔

عاصمہ جہانگیر نے آگے دعوی کیا کہ ویگاہوں پر پابندیہے اور انٹرنیٹ پر کام کرنے والوں اور ذرائع ابلاغ میں کام کرنے والوںکے خلاف قانونی چارہ جوئیہوتی ہے اور انہیں ڈرایا جاتا ہے۔

جہانگیر نے دوسرے موضوعات کے علاوہ ایک بار پھر گمراہ فرقے بہائیت کا دفاع کیا اور کہا کہ ان کے ساتھ برابر امتیازی سلوک ہوتا ہے اور وہ امرار معاش کے حق سے محروم ہیں۔

عاصمہ جہانگیر نے بہائیوں کا دفاع کرنے کے علاوہ اپنے آپ کو عیسائیوں اور صوفیوں کا بھی ہمدرد بتایا۔

اس نے وائس آف امریکہ کے نامہ نگار کے ساتھ خصوصی گفتگو میں بھی دعوی کیا کہ سیاسی قیدی ایران میں انسانی حقوق کی پامالی کا دوسرا موضوع ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے اس گفتگو میں بھی ایران کی عدلیہ پر تنقید کی اور مزید کہا: عدلیہ کو پورا اختیار حاصل ہے، اور ہر چیز قاضی کی رائے پر منحصر ہے لیکن قاضی آزاد اور غیر جانبدار نہیں ہیں انصاف کرنے میں قانون کی حاکمیت کا احترام نہیں کیا جاتا۔ یہ ایران کی عدلیہ میں ابتدائی باتیں ہیں جس کی وجہ سے خوف اور ڈر کا ماحول ختم نہیں ہوتا۔

افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایران جیسے شفاف جمہوریت کے حامل ملک کیخلاف ایک مسلمان خاتون امریکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہوکر سامراجی طاقتوں کو خوش کررہی ہے۔

  

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری