یمن کیخلاف سعودی اتحاد؛

حکومت پاکستان کا یوٹرن / راحیل شریف کو سعودی اتحاد کی سربراہی کی اجازت مل گئی

خبر کا کوڈ: 1363887 خدمت: پاکستان
راحیل شریف

پاکستان کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ سعودی حکومت نے راحیل شریف کی سعودی اتحاد کی سربراہی کے حوالے سے حکومت پاکستان سے تحریری اجازت مانگی تھی جو اسلام آباد کی جانب سے دی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اعتراف کیا ہے کہ حکومت پاکستان نے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو سعودی اتحاد کی سربراہی کی اجازت دیدی ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان نے سعودی حکومت کو تحریری آگاہ کردیا کہ اس سلسلے میں پاکستان کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔

پاکستانی وزیر دفاع کے مطابق سعودی اتحاد سے متعلق صرف رسمی کارروائی باقی ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ اصولی طور پر راحیل شریف کے سعودی اتحاد کی سربراہی کے معاملات طے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک جنرل(ر) راحیل شریف کیطرف سےکوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔

خواجہ آصف کے مطابق راحیل  شریف کا اسلامی افواج کی قیادت سنبھالنا ذاتی نہیں بلکہ 2 حکومتوں کامعاملہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنرل(ر) راحیل شریف سعودی اتحاد کا فوجی ڈھانچہ ترتیب دیں گے۔

خواجہ آصف نے مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ رکن ممالک کی ایڈوائزری کونسل کا اجلاس مئی میں سعودی عرب میں متوقع ہے۔

واضح رہے کہ وزیردفاع خواجہ آصف کی جیونیوز کے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں سلیم صافی سےخصوصی گفتگو کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے عرصہ پہلے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کی مسلم عسکری اتحاد کی کمان سنبھالنے پر حکومت سے وضاحت طلب کی تھی۔

ایوان بالا کے اجلاس میں رضا ربانی نے وزیر دفاع خواجہ آصف سے کہا تھا کہ سابق آرمی چیف کی مسلم عسکری اتحاد کی کمان سنبھالنے کی اطلاعات ہیں۔

اس بارے میں وزیر دفاع کے بیان کی ترجمان وزیراعظم ہاؤس نے نفی کی ہے، اس اہم تقرری کے تناظر میں کسی بھی ریٹائرڈ افسر کی دوبارہ مدت ملازمت حاصل کرنے کے قواعدوضوابط سے ایوان کو آگاہ کیا جائے، بتایا جائے وہ مسلم عسکری اتحاد کے سربراہ کیسے بنے؟ اگر کوئی این او سی جاری کیا گیا ہے اور کس نے جاری کیا ہے  اس سے بھی ایوان کو آگاہ کیا جائے، کیا اس معاملے پر وفاقی حکومت کو اعتماد میں لیا گیا؟

چیئرمین سینیٹ نے وزیر قانون زاہد حامد کو ہدایت کی کہ مشیر خارجہ کو کہا جائے کہ وہ ایوان کو بتائیں کہ سابق آرمی چیف کی مسلم عسکری اتحاد کی کمان سنبھالنے کے خارجہ پالیسی اور اس معاملے پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت کی اختیار کردہ پوزیشن پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

یاد رہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ نے بھی یمن جنگ کے لئے پاکستانی فوج کی تعیناتی کی سختی سے مخالفت کی تھی تاہم اب دیکھنے میں آرہا ہے کہ سعودی عرب پاک فوج کے ریٹائرڈ افسران کو اپنی سرزمین کی حفاظت کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

 

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری