پیراگوئے: مشتعل مظاہرین نے توڑ پھوڑ کے بعد پارلیمان نذر آتش کر دی + تصاویر

خبر کا کوڈ: 1367633 خدمت: دنیا
پیراگوئے 1

پیراگوئے میں صدر کو دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے کی اجازت دینے سے متعلق ایک بل کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے ملک کی کانگریس کو ہی نذرِ آتش کر دیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق مجوزہ بل کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے چاردیواری اور کھڑکیوں کو توڑتے ہوئے پارلیمان کی عمارت پر دھاوا بول دیا۔

خیال رہے کہ پیراگوئے میں 35 برس کی آمریت کے بعد 1992 میں جو نیا آئین مرتب کیا گیا تھا اس کے مطابق صدر صرف ایک بار ہی پانچ برس کی معیاد کے لیے منتخب ہو سکتا ہے۔

لیکن موجودہ صدر ہوراشیو کارٹیز دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے کے لیے اس آئینی پابندی کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

ان کی معیاد 2018 میں ختم ہورہی ہے اور وہ دوباہ انتخاب لڑنا چاہتے ہیں۔

جمعے کی رات مظاہرین کو آسنسیون کی گلیوں میں پارلیمان کے باہر رکاوٹوں کو آگ لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔

ذرائع کے مطابق احتجاجی مظاہرین عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے اور وہاں اس بل کے حامیوں کے دفاتر میں پہلے تھوڑ پھوڑ کی اور پھر آگ لگا دی۔

پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیوں اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔

اس سے پہلے جب سینیٹ نے آئین میں ترمیم کے لیے اس بل کی منظوری دی تو اس کے خلاف بھی لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر مظاہرہ کیا۔

آئین میں ترمیم کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے اس بل کی منظوری ضروری ہے جہاں صدر کارٹیز کی پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔

اس دوران ایوان کے صدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس سلسلے میں جو اجلاس ہونے والا تھا وہ اب نہیں ہو گا اور اس پر فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ انھوں نے لوگوں سے پر امن رہنے کو بھی کہا۔

اس بل کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے ملک کے جمہوری ادارے کمزر پڑ جائیں گے۔

پیراگوئے 1945 سے لے کر 1989 تک آمر جنرل الفیرڈو سٹروزنیر کے ماتحت تھا جنھوں نے بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔

سنہ 1992 میں نئے آئین کے بعد جدید حکومت کا قیام عمل میں آیا لیکن سیاسی جماعتوں کے درمیان آپسی جھگڑوں اور کئی بارناکام بغاوتوں کے سبب ملک میں سیاسی استحکام نہیں آ سکا۔

 

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری