تحریر: فرحت حسین مہدوی

نام نہاد 39 ملکی سعودی اتحاد کی حقیقت

خبر کا کوڈ: 1367862 خدمت: پاکستان
سعودی اتحاد

پاکستانی کالم نگار نے 39 ملکی سعودی اتحاد کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم: پاکستانی کالم نگار نے 39 ملکی سعودی اتحاد کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

1۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اس اتحاد کا کوئی مرکز نہیں ہے، اس کا کوئی منشور نہیں ہے، اس کا آج تک کہیں کوئی اجلاس نہیں ہوا، اس کا موقف واضح نہیں ہے. 
دعوی کیا گیا ہے کہ اس اتحاد میں 39 ممالک شامل ہیں لیکن اس سلسلے میں مبینہ رکن ممالک کا موقف ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے بس یہ تمام ممالک کچھ ریالات وصول کرکے ہاں اور نہیں کے درمیان اٹکے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر اس کی کوئی رجسٹریشن نہیں ہوئی ہے اور اقوام متحدہ میں بھی اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے، سعودیوں نے اتحاد بنانے کا اعلان کیا ہے اور پھر کچھ ممالک کی فہرست جاری کردی ہے کہ یہ ہوا اتحاد۔۔۔ 

2۔ اس نام نہاد اتحاد کی تشکیل کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ، قرار دیا گیا ہے لیکن اس میں شامل ممالک ـ بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، ترکی وغیرہ ـ خود داعش اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کی تاسیس اور سرپرستی میں پیش پیش نظر آرہے ہیں، تو جو ممالک دہشت گردی کروا رہے ہیں وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کیونکر کرسکتے ہیں؟

3۔ شیعہ اکثریتی ممالک یا پھر تکفیری دہشت گردی کے خلاف سرگرم عمل ممالک "ایران، شام، عراق اور لبنان" عملی طور پر دہشت گردی اور داعش کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں لیکن یہ تمام ممالک سعودی مسلکی رجحانات کی بنا پر اس اتحاد سے دور رکھے گئے ہیں جس سے یہ حقیقت واضح سے واضح تر ہورہی ہے کہ یہ ایک فرقہ وارانہ اتحاد ہے۔

4۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے لیکن اس اتحاد کے سرکردہ ممالک پاکستان میں دہشت گردوں کی حمایت کررہے ہیں، انہیں مالی امداد اور تربیتی سہولیات فراہم کررہے ہیں۔
5۔ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ حیات ہے جو ستر برسوں سے بھارت کے قبضے میں ہے لیکن اس نام نہاد اتحاد میں مبینہ طور پر شامل ممالک ہر میدان میں بھارت کے ساتھ کھڑے نظر آرہے ہیں۔ 

6۔ دنیا بھر کے ممالک اور حالات پر آپ ان ممالک کا موقف دیکھ سکتے ہیں، خود خوفناک ترین استبدادی سلطنتیں ہونے کے باوجود لیبیا، یمن اور شام و عراق میں جمہوریت کے نام پر خونہ خرابہ کرنے میں ان کا کردار اظہر من الشمس ہے لیکن اسرائیل کے خلاف ان ممالک کے دو لفظ بھی دیکھنے کو نہیں ملیں گے اور فلسطینی عوام اور غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے لئے ان کے دو بول بھی سنائی نہیں دیں گے جبکہ عالمی دہشت گردی کا اصل مرکز تل ابیب ہے، اور دوسرا مرکز ریاض ہے، ریاض اس اتحاد کا سربراہ ہے اور اسلام کا نام استعمال کرنے کے باوجود اسرائیل اس کا حامی اور امریکہ اس کا سرپرست ہے!!

7۔ نام اس نام نہاد اتحاد کا اسلامی ہے، دہشت گردی کے خلاف نبردآزما ممالک کو اس سے دور رکھا گیا ہے اور دنیا بھر میں کفر و شرک و استکبار کو فروغ دینے والے مغربی ممالک ـ امریکہ، برطانیہ، فرانس، کینیڈا وغیرہ نیز غاصب صہیونی ریاست "اسرائیل" اس کی نہ صرف حمایت کرتے ہیں بلکہ یمن پر ہونے والی سعودی جارحیت میں باقاعدہ طور پر شرکت کررہے ہیں، امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل نہ صرف یمن پر حملے کررہے ہیں بلکہ سعودی عرب میں ان کے فوجی مشیر موجود ہیں اور انھوں نے سعودیوں کے ساتھ مشترکہ کمانڈ روم تشکیل دیئے ہیں۔ جارحیت میں شامل سعودی عرب، قطر، بحرین، کویت اور امارات جو ہتھیار یمنی عوام کے خلاف استعمال کررہے ہیں وہ امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا سے آرہے ہیں۔ تو یہ کیسا اسلامی اتحاد ہے جس کے حامی یہود و نصاری ہیں اور اس کے حملوں میں کفر کے سرخیل شریک ہیں؟

8۔ اس اتحاد سے امت مسلمہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا، اس کے غیر مکتوب اہداف میں بھی اسرائیل کا مقابلہ شامل نہیں ہے بلکہ اس کا اصل ہدف تباہ حال یمن کی مزید تباہی ہے چنانچہ اس میں رکنیت یا کردار باعث فخر نہیں بلکہ شرمناک ہے۔

9۔ یہ اتحاد کسی بھی اسلامی مرکز یا کسی بھی اسلامی مقصد کا تحفظ شامل نہیں ہے بلکہ اس کا اصل مقصد ایک استبدادی اور آمر خاندان "آل سعود" کا تحفظ ہے اور آل سعود کو صرف صہیونی ریاست کے بچاؤ کے لئے زندہ رکھا جارہا ہے۔

10۔ خطے کے حالات پر نظر رکھنے والے بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے امریکہ اور اس کے حلیف مغربی ممالک کا خیال ہے کہ مسلسل دہشت گرد تنظیمیں بنانے پر روپیہ خرچ کرنے کے بجائے انہیں ایک کنٹرولڈ اور باضابطہ فوجی اتحاد کی ضرورت ہے جو دہشت گرد تنظیموں کا کردار بھی ادا کرے، دہشت گرد تنظیموں کی مزید ضرورت بھی نہ رہے اور اس کی چابی بھی واشنگٹن کے پاس ہو؛ یعنی جب بھی امریکہ چاہے اسے حرکت میں لائے اور جب بھی چاہے اس کی چابی گھمائے اور بیٹری الگ کرے اور روک لے؛ ان تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ اتحاد مغرب کی نگاہ میں دہشت گرد تنظیموں کا نعم البدل ہوگا اور پھر اسرائیل کے بچاؤ اور اسلامی مزاحمت تحریک کا مقابلہ کرنے میں اس کا کردار بھی زیادہ مؤثر ہوگا؛ تو جو اتحاد دہشت گردی کو رسمیت اور باضابطگی دے گا اس کا عقلی، شرعی، دینی اور اخلاقی جواز کہاں سے آئے گا؟

نوٹ:زیر نظر مضمون مصنف نے اپنے نقطہ نظر سے لکھا ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے، تو قلم اٹھائیں اور اپنے ہی الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس: tasnimnewsurdu@gmail.com  آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری