سعودی عرب میں ایران سے ٹکرانے کی ہمت نہیں، سید الحوثی

خبر کا کوڈ: 1367875 خدمت: دنیا
عبدالمالک الحوثی

انصار اللہ  کے رہنما کا کہنا ہے کہ  امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ان کے ایجنٹ حدیدہ پر حملے کرنے کا منصوبہ بنارہے رہیں، یمنی فوج اور قوم دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تسنیم نیوز ایجنسی کی مطابق انصارالله کے رہنما عبدالمالک الحوثی کا کہنا ہے کہ امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ان کے ایجنٹ حدیدہ پر حملے کرنے کا منصوبہ بنارہے رہیں؛ یمنی فوج اور قوم دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

الحوثی کا مزید کہنا ہے کہ یمن دشمن عناصر خاص کر امریکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات وغیرہ کی خواہش ہے کہ  ہمارے شہروں اور سمندری ساحل خصوصا باب المندب جوکہ  دنیا کے اہم سمندری گذرگاهوں میں سے ایک ہے، پر قبضہ کر لیں۔

ماہ رجب کے پہلے جمعہ کے مناسبت سے خطاب کرتے ہوئے الحوثی کا کہنا تھا کہ دشمن  ثقافتی یلغار کے ذریعے ہماری کمیونٹی میں شامل ہونا چاہتا ہے۔

دشمن یمنی قوم کو شکست دے کر یمن پر قابض ہونا چاہتا ہے مگر یمنی غیور قوم دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادے گی۔

سعودی اتحادیوں کو ہمارے خلاف اپنی جنگ میں بہت سی  دشواریوں کا سامنا ہے۔ یہ جنگ، سیاسی جنگ نہیں ہے بلکہ سعودی عرب سیمت دنیا کے بعض ممالک یمن پر غلبہ حاصل کرکے ہم کو اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم قیدیوں کے تبادلے کے لئے  تیار تهے لیکن سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے عدم تعاون کی وجہ سے قیدیوں کا تبادلہ نہیں ہوسکا۔

الحوثی نے سعودی اتحادیوں سے مخاطب ہوکر کہنا تھا کہ تم یمن میں جو کچھ کرتے ہواس کا سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل ہی کو پہنچ رہا ہے.

 الحوثی نے سعودی عرب کی ایران مخالف پالیسی کی طرف  اشارہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تہمارے ایران خلاف تبلیغات اور اقدامات سے اسلامی جمہوریہ ایران پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔

انہوں نے سعودی عرب کو مشورہ دیا کہ ایران کے ساتھ الجھنے کی کوشش ترک کردے ورنہ خطرناک نتائج برآمد ہونگے۔

سعودی عرب ایران سے سخت خوف زدہ ہے جس کی وجہ سے  عراق اور شام میں براہ راست ایران کا آمنا سامنا نہیں کرسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عرب ممالک کا اجلاس مردوں کا اجلاس تها جس میں کوئی روح نہیں تھی کیونکہ عرب اجلاس میں مسئلہ فلسطین کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔

یاد رہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق دو سالوں کے دوران یمن کے خلاف سعودی جنگ میں 10 ہزار 811 شہری شہید اور  7 ہزار 888 دیگر زخمی ہوئے اور ملک کے بنیادی ڈھانچے کو بری طرح نقصان پہنچ چکا ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں 649 خواتین اور 1002 بچوں سمیت 9 ہزار 160 مرد شامل ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری