سعودی الائنس میں پاکستان کی شمولیت کا فائدہ کس کو ملے گا


سعودی الائنس میں پاکستان کی شمولیت کا فائدہ کس کو ملے گا

ہم نے اس قبل تین مضامین کے ضمن میں جو کچھ عرض کیا تھا وہ آخرکار سچ ثابت ہوا اور مختلف قسم کی تردیدوں اور توجیہوں کے باوجود ہوا وہی جس کا فیصلہ "پاک سعودی" مشترکہ تزویر کے مطابق پہلے ہی ہوچکا تھا۔

تسنیم نیوز ایجنسی: ہمارے ایک پچھلے مضمون میں بھی سعودی اتحاد میں پاکستان کے کردار اور ایران اور پاکستان کے روابط کے سلسلے میں جنرل (ر) امجد شعیب صاحب کے موقف پر کچھ سوالات اٹھائے گئے تھے اور اب بھی انھوں نے نئے حقائق سامنے آنے پر بھی اسلام ٹائمز نے ان ہی حوالوں سے جنرل صاحب کے موقف کی عکاسی کی ہے۔

جنرل (ر) امجد شعیب ایک محب وطن جرنیل کی حیثیت سے عام طور پر اس طرح کے ناعاقبت اندیشی پر مبنی فیصلوں کے اندر سے کچھ مثبت نکات استخراج کیا کرتے ہیں لیکن ان کا موقف بہرصورت سرکاری موقف نہیں ہے، وہ جنرل راحیل یا جنرل باجوہ کے ترجمان نہیں ہیں اور حاضر سروس سپاہی بھی نہیں ہیں۔

وزارت خارجہ سے بھی ان کا کوئی تعلق کم از کم ہمیں نظر نہیں آرہا، چنانچہ ان کی تردیدیں، توجیہیں اور پیشن گوئیاں عام طور پر ان کی اور ہماری مشترکہ خواہشات ہی ہیں اور اس سے پہلے بھی ان کی پیشن گوئیاں آرزو اور قلبی خواہش ہی ثابت ہوئی ہیں تو اب بھی ہمارا یہی خیال ہے کہ ان کا موقف در حقیقت ہر پاکستانی کی آرزو ہے ایسی آرزو جس کے عمل جامہ پہننے کی کسی کو بھی امید نہیں ہے۔

ان کا موقف فٹبال یا کرکٹ کے شائقین اور بعض خاص کلبوں کے پرستاروں کی پیشن گوئیوں جیسا ہے جو اپنی منظور نظر ٹیم کی کمزوریوں کو یکسر نظرانداز کرکے ان کی کامیابی کی پیشن گوئی کرتے ہیں حالانکہ وہ در حقیقت پیشن گوئی نہیں ایک خواہش ہی ہوتی ہے۔

پاکستانی ذرائع نے لکھا ہے کہ دفاعی تجزیہ نگار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے پاکستانی فوجی قیادت کے ساتھ اپنے رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ:

"ایران کو جی ایچ کیو کی جانب سے بھی یقین دہانی کرائی گئی کہ اس پروپیگنڈے میں کوئی حقیقت نہیں کہ فوجی اتحاد کو ایران کیخلاف استعمال کیا جائے گا"۔

جنرل (ر) امجد شعیب ایک محب وطن جرنیل کی حیثیت سے عام طور پر اس طرح کے ناعاقبت اندیشی پر مبنی فیصلوں کے اندر سے کچھ مثبت نکات استخراج کیا کرتے ہیں لیکن ان کا موقف بہرصورت سرکاری موقف نہیں ہے، وہ جنرل راحیل یا جنرل باجوہ کے ترجمان نہیں ہیں اور حاضر سروس سپاہی بھی نہیں ہیں۔

وزارت خارجہ سے بھی ان کا کوئی تعلق کم از کم ہمیں نظر نہیں آرہا، گوکہ وہ ایک ریٹائرڈ جرنیل ہونے کے ناطے دفاعی تجزیہ نگار بھی ہیں، فوج سے قربت بھی رکھتے ہیں اور ٹی وی ٹاک شوز میں اسٹیبلشمنٹ کا دفاع بھی کرتے ہیں؛ چنانچہ ان کی تردیدیں، توجیہیں اور پیشن گوئیاں عام طور پر ان کی اور ہماری مشترکہ خواہشات ہی ہیں اور اس سے پہلے بھی ان کی پیشن گوئیاں آرزو اور قلبی خواہش ہی ثابت ہوئی ہیں تو اب بھی ہمارا یہی خیال ہے کہ ان کا موقف در حقیقت ہر پاکستانی کی آرزو ہے ایسی آرزو جس کے عمل جامہ پہننے کی کسی کو بھی امید نہیں ہے۔

جنرل صاحب کا موقف فٹ بال یا کرکٹ کے شائقین اور بعض خاص کلبوں کے پرستاروں کی پیشن گوئیوں جیسا ہے جو اپنی منظور نظر ٹیم کی کمزوریوں کو یکسر نظرانداز کرکے ان کی کامیابی کی پیشن گوئی کرتے ہیں حالانکہ وہ در حقیقت پیشن گوئی نہیں ایک خواہش ہی ہوتی ہے۔۔۔

"جنرل (ر) شعیب کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کے دورۂ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے نتیجے میں ماضی قریب کی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں بھی مدد ملی ہے"۔

ہم پوچھتے ہیں کہ جنرل باجوہ نے کن غلط فہمیوں کے ازالے کی خاطر ریاض اور ابو ظہبی کا دورہ کیا جنہیں راز میں رکھا جارہا ہے؟ کیا ان دوروں کا مقصد ایک نئے معاہدے پر دستخط نہیں کرنے تھے جس کی بنیاد پر پہلے مرحلے میں جنوبی سعودی عرب میں پاکستانی افواج کے ایک بریگیڈ کی تعیناتی کی خبر میڈیا کی زینت بنی؟

یا نہیں بلکہ اس کا مقصد جنوبی یمن میں سعودی اور امارات کے زیر قبضہ علاقوں میں ان دو ریاستوں کے درمیان مسلسل بڑھتے ہوئے تنازعات کو حل کرنا تھا اور اس سلسلے میں جناب باجوہ صاحب نے ثالثی کا کردار ادا کیا؟ کیا پاکستان کے آرمی چیف کا کردار یہی ہونا چاہئے کہ ایک برادر اسلامی ملک پر سعودی حملے کو کامیاب بنانے کے لئے دو حملہ آور اور جارح ممالک کے درمیان اختلافات کا ازالہ کریں؟ کیا اس سے پاکستان کی غیر جانبداری پر حرف نہیں آتا؟

"ایران کے حوالے سے جنرل (ر) شعیب کا کہنا تھا کہ ایرانی سفیر کو آرمی چیف کے ساتھ ہونے والی حالیہ ملاقات میں بتایا گیا کہ پاکستان کبھی بھی ایران مخالف فوجی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا؛ اسی طرح ایرانی سفیر کو یہ بھی بتایا گیا کہ ایران کو پاکستان پر بھروسہ کرنا چاہئے کہ پاکستان ایران مخالف کسی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا، بلکہ پاکستان ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کرے گا"۔

عرض کرتے ہیں کہ کیا اس حقیقت کا انکار ممکن ہے کہ آل سعود نے یمن میں ایران کے اثر و رسوخ کا دعوی کرکے اس ملک پر حملہ کیا تھا؟ یمن کا انفراسٹرکچر آل سعود نے مکمل طور پر تباہ کرکے رکھ دیا ہے اور وہاں 12000 افراد کو قتل کیا ہے، ہزاروں بچے بھی مقتولین میں شامل ہیں، یمنی قوم شدید قحط زدگی میں مبتلا ہے، اس کا چاروں طرف سے محاصرہ کیا جا چکاہ ہے، تو اب آل سعود کے پاس یہ وحشیانہ اور غیر انسانی جنگ جاری رکھنے کا کون سا بہانہ باقی ہے سوا اس کے وہ خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کے موہوم تصور کے خلاف لڑ رہا ہے۔

اس سلسلے میں اس کو اسرائیل اور امریکہ کی حمایت بھی حاصل ہے؟

ہم سب کی خواہش یہی ہے کہ پاکستان ایک بڑے اسلامی ملک کے طور پر عالم اسلام کے مختلف ممالک کے درمیان جاری تنازعات کے خاتمے میں کردار ادا کرے لیکن یہ بات کیا اظہر من الشمس نہیں ہے کہ سعودی عرب خطے کے مختلف ممالک میں اسرائیل مخالف اسلامی محاذ مزاحمت کو کمزور کرنے کے لئے اربوں ڈالر خرچ کررہا ہے۔

بحرین پر قبضہ کرچکا ہے، گذشتہ دو برسوں سے یمن پر قبضہ کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے ایران کے مفادات کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر روا نہیں رکھتا؟ تو ایسے میں غیر قانونی سعودی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت چہ معنی دارد؟

آل سعود کا نام نہاد 39 ملکی اتحاد یمن پر حملے کے لئے بنا ہے یا پھر اس کا پہلا ہدف یمن تھا اور اگلے اہداف یقینا وہ ممالک ہیں جو اس اتحاد میں شامل نہیں ہیں اور ایران ان ہی ممالک میں سے ایک ہے، گوکہ یہ ایک کاغذی اتحاد ہے اور ایران اور عراق و شام پر حملہ کرنا اس کے بس کی بات نہیں ہے لیکن سعودی حکمرانوں کے سپنوں میں اس طرح کے حملے بھی شامل ہیں تو پھر کیونکہ باور کیا جاسکتا ہے کہ ایران دشمن اور یمن دشمن اتحاد ایران اور یمن کو نقصان نہیں پہنچائے گا؟ اور اہم ترین سوال یہ کہ اس وقت یہ اتحاد یمن کی تباہی کو یقینی بنانے کے سوا اور کون سا تعمیری کردار ادا کررہا ہے۔

چنانچہ یہ عجیب موقف یا تو انتہائی خوش فہمی کا شاخسانہ ہے یا پھر سعودی الائنس کے قیام کے فلسفے کو نظر انداز کرنے کی نشانی ہے، یا پھر جنرل صاحب اپنی روش کے مطابق اس نہایت خطرناک تنظیم کے قیام کے اندر سے بھی مثبت پہلؤوں کے استخراج کے لئے کوشاں ہیں ورنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک اتحاد کسی ملک کو نشانہ بنانے کے لئے بنا ہو اور پھر وہ اتحاد کسی بھی معروضی سبب سے اسی ملک کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی کرائے اور اگر کرائے تو اس کا باور کیا جاسکے؟

"لیفٹیننٹ جنرل (ر) شعیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے 39 ملکی فوجی اتحاد میں شمولیت اور جنرل (ر) راحیل شریف کو اس کی قیادت کی اجازت دینا نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے مفاد میں ہے اور یہ کہ اس اتحاد کا بنیادی مقصد داعش کو نشانہ بنانا ہے"۔

عرض کرتے ہیں کہ اس اتحاد میں پاکستان کی شمولیت جنرل (ر) راحیل شریف کو اس کی قیادت کی اجازت دینا، نہ صرف عالم اسلام کے مفاد میں نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کے لئے بھی بہت ہی زیادہ خطرناک ہے اور یہ داعش یا کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے خلاف نہیں ہے؛ کیوں؟

عالم اسلام میں موجودہ تنازعات حل نہیں ہونگے بلکہ ان میں مزید اضافہ ہوگا۔

سعودی اتحاد کے فرقہ وارانہ تشخص کی رو سے مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو مزید ہوا ملے گی۔

پاکستان کی غیرجانبدارانہ ساکھ مجروح ہوگی اور وہ ثالثی کا کردار ادا کرنے کے بجائے علاقائی تنازعات میں فریق بنے گا کیونکہ سعودی عرب نے پورے عالم اسلام کو نشانے پر رکھا ہے اور آل سعود اس وقت اسلامی دنیا کی توجہ اسرائیلی اور امریکی مظالم اور جارحیتوں سے سے ہٹانے کے لئے مسلمانوں کو مسلسل خانہ جنگی میں مبتلا رکھنے کا مغربی مشن سنبھالا ہوا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس اتحاد میں شمولیت سے پاکستان کی تنہائی دور نہیں ہوگی بلکہ اس کے دو ہمسایہ ممالک ـ جو اتحاد کے رکن نہیں ہیں ـ پاکستان سے دور ہونگے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ممالک میں بھی پاکستان سے بد ظن ہونگے۔

جنرل صاحب کا پروفائل نئی ملازمت کے لئے پیش کیا جائے گا تو پاکستان کے اہم قومی عسکری اور جوہری راز برملا ہونگے اور سعودی ـ اسرائیلی روابط کی بنا پر ان رازوں کے تحفظ کی ضمانت دینا ممکن نہ ہوگا۔

یمن کی تباہ کاریوں میں پاکستان کا سعودی موافق کردار سیاہ ستمبر 1970 کی یاد تازہ کرے گا جو پاکستان کے بارے میں امت کے اندر مزید بدگمانیوں کا سبب ہوگا کیونکہ سیاہ ستمبر کے دوران سابق پاکستانی آمر اور پاکستان کو سعودی ریاست میں بدلنے والے جنرل ضیاء الحق نے ـ جو اس وقت بریگیڈیئر تھا، ـ اردن میں 25000 فلسطینیوں کا قتل عام کیا تھا اور اسرائیل کی اس وقت کی حکومت نے کہا تھا اتنے فلسطینی تو ہم نے کئی عشروں میں بھی نہیں مارے جتنے کے پاکستانیوں نے کچھ ہی دنوں میں مار ڈالے۔۔۔

اس نام نہاد اتحاد کی تشکیل کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ، ہو ہی کیسے ہوسکتا ہے جبکہ اس میں شامل ممالک ـ بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر وغیرہ ـ خود داعش اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کے بانی اور سرپرست ہیں؟ تو جو ممالک دہشت گردی کروا رہے ہیں وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑیں گے؟

ایران، شام، عراق اور لبنان عملی طور پر دہشت گردی اور داعش کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں لیکن یہ تمام ممالک سعودی مسلکی رجحانات کی بنا پر اس اتحاد سے دور رکھے گئے ہیں، اگر اتحاد کا مقصد داعش اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے تو وہ جنگ تو اسی وقت لڑی جارہی ہے اور یہ جنگ ایران، شام، عراق، لبنان لڑ رہے ہیں، تو سعودی عرب اور اس کے حلیف ان ممالک  خلاف کیوں نبرد آزما ہیں، جبکہ ان ممالک کے خلاف بالواسطہ یا بلاواسطہ جنگ داعش اور دہشت گردی نیز امریکہ اور اسرائیل کے مفاد میں ہے؟

عالم اسلام کے مفاد میں ہے کہ فلسطین آزاد ہو، کشمیر آزاد ہو، برما کے مسلمانوں کو ظلم سے نجات ملے، عالم اسلام میں جاری خانہ جنگیوں کا خاتمہ ہو، اسلامی سرزمینوں پر قائم قابض قوتوں کی غیر قانونی ریاستوں کا خاتمہ ہو، جبکہ سعودی عرب اور اس کے حلیف ایسے کسی مقصد پر یقین نہیں رکھتے، وہ ان مقاصد کے حصول میں کردار ادا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو ان کے اتحاد میں شامل ہونے سے پاکستان بھی ان اہداف و مقاصد سے دور ہوجائے گا جو اس کے مفاد میں نہیں۔

واضح رہے کہ ایک عرب خاندان کے لئے ایک بڑے اور جوہری ملک کا مفاد داؤ پر لگایا جارہا ہے جبکہ اس خاندان کی حکومت کی بنیاد ہی اسرائیل کی تاسیس کے ساتھ ساتھ، برطانوی وزارت نوآبادیات [موجودہ وزارت خارجہ] نے رکھی تھی اور سعودی ریاست ـ صہیونی ریاست کو در حقیقت عالم اسلام کے قلب میں "قبلہ اور قبلۂ موجود" پر مسلط رہنے اور عالم اسلام کو مسلسل تقسیم در تقسیم رکھنے کی غرض سے، دو جڑواں ریاستوں کے عنوان سے معرض وجود میں لایا گیا تھا چنانچہ کہا جاتا ہے کہ اگر ان میں سے ایک ریاست زوال پذیر ہوئی تو دوسری کا بچاؤ ناممکن ہوجائے گا اور یہ کہ سعودی عرب اور اس کے حلیف عربوں نے کبھی بھی پاکستان اور بھارت کے تنازعے میں پاکستان کا ساتھ نہیں دیا ہے چنانچہ کوئی بھی ایسی دلیل نظر نہیں آرہی کہ صہیونیت و سعودیت کو بچانے کے لئے شروع کی جانے والی وسیع علاقائی جنگ ـ و خانہ جنگی ـ میں پاکستان جیسے بڑے ملک کی شمولیت اس ملک کے مفاد میں ہوسکتی ہے۔

جہاں تک یمنیوں کو شکست دینے کا سوال ہے اور کہا جاتا ہے کہ پاکستان کی شمولیت سے ننگے پاؤں لڑنے والے یمنی جنگجؤوں کو شکست دی جاسکے گی تو عرض کرتے ہیں کہ امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل پہلے سے ہی اس جنگ میں آل سعود کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں اور نہ صرف یمنیوں کو شکست نہیں دے سکے ہیں بلکہ اب تو مغرب سعودیوں کی طرف سے کسی بھی فتح سے مایوس ہوچکے ہیں۔

چنانچہ سعودی اتحاد اور یمن کی جنگ میں پاکستان کی شمولیت کا فائدہ امریکہ، یورپ اور اسرائیل کو پہنچے گا اور چونکہ جنگ کو آخر کار ختم بھی ہونا ہے، اور جب جنگ نہ ہوگی تو یمنی پاکستان کو دوستی کی نگاہ سے نہیں دیکھ سکیں گے حالانکہ قانون اور اخلاق نیز دین اسلام کی رو سے ہمیں مسلم اقوام کے ساتھ بھائی چارہ قائم کرنے کا سبق دیا گیا ہے تو اس فریضے کو ایک شاہی خاندان کے تحفظ پر کیوں قربان کیا جائے اور پھر کئی عشروں تک اندرونی بےچینیوں کا سامنا کیا جائے؟

افغانستان کی خانہ جنگی میں پاکستان کا طویل المدت کردار اور اس کے جاری و ساری عواقب و نتائج ہمارے سامنے ہیں۔

نوٹ: زیر نظر مضمون مصنف نے اپنے نقطہ نظر سے لکھا ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے، تو قلم اٹھائیں اور اپنے ہی الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس: tasnimnewsurdu@gmail.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری