2060 میں مسلمانوں کی تعداد مسیحیوں کے برابر ہوگی؛ امریکی ادارے کی رپورٹ

خبر کا کوڈ: 1371691 خدمت: دنیا
مسلمان

امریکہ کے ایک معروف تحقیقی ادارے نے رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ اگر آبادی میں اضافے کی موجودہ شرح برقرار رہی تو 2060 میں دنیا میں مسلمانوں کی تعداد 3 ارب تک جا پہنچے گی۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے امریکہ کے ایک معروف تحقیقی ادارے کی رپورٹ کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ 2060 تک دنیا میں مسلمانوں کی تعداد مسیحیوں کے برابر ہوجائے گی۔

پیو ریسرچ سروے کی جانب سے بدھ کو جاری کی جانے والی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں میں شرحِ پیدائش دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے کہیں زیادہ ہے جس کی وجہ سے ان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ اگر آبادی میں اضافے کی موجودہ شرح برقرار رہی تو 2060 میں دنیا میں مسلمانوں کی تعداد تین ارب تک جا پہنچے گی جو کل آبادی کا 31 فیصد ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق 2060 میں دنیا میں مسیحیوں کی تعداد 3 ارب 10 کروڑ کے لگ بھگ ہوگی اور کل آبادی میں ان کا تناسب 32 فیصد ہوگا۔

یاد رہے کہ 2 سال قبل بھی پیو ریسرچ سینٹر نے اپنی ایک تحقیق میں بتایا تھا کہ اسلام دنیا میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے اور امکان ہے کہ رواں صدی کے اختتام تک دنیا میں مسلمانوں کی تعداد مسیحیوں سے بڑھ جائے گی۔

پیو کے محققین اور ماہرین نے یہ رپورٹ دنیا کے مختلف ملکوں میں ہونے والی مردم شماری، جائزوں اور پیدائش اور اموات کے ریکارڈ کے ڈھائی ہزار سے زائد نمونوں کی مدد سے مرتب کی تھی۔

پیو کی 2015 میں سامنے آنے والی اس رپورٹ کے مطابق دنیا کی کل آبادی چھ ارب 90 کروڑ ہے جس میں عیسائیت کے ماننے والوں کی تعداد سب سے زیادہ (دو ارب 20 کروڑ یعنی دنیا کی کل آبادی کا 31 فی صد) ہے ۔

رپورٹ کے مطابق مسلمان دنیا میں تعداد کے اعتبار سے دوسرے نمبر (ایک ارب 60 کروڑ یعنی دنیا کی کل آبادی کا 23 فی صد) ہیں۔

بدھ کو جاری کی جانے والی تازہ رپورٹ کے مطابق 2060 تک دنیا کے دوسرے بڑے مذاہب کے ماننے والوں خصوصاً ہندو وں اور یہودیوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا لیکن یہ اضافہ دنیا کی کل آبادی میں ہونے والے مجموعی اضافے کے تناسب سے ہوگا جس کے باعث ان مذاہب کے ماننے والوں کی شرح پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2060 میں کسی بھی مذہب کو نہ ماننے والوں یعنی دہریوں کی تعداد میں کمی آئے گی جس کی بنیادی وجہ ان میں شرحِ پیدائش کم ہونا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری