تحریر: فرحت حسین مہدوی

پاراچنار پر بزدلانہ حملوں کا تسلسل (پہلی قسط)

خبر کا کوڈ: 1371905 خدمت: مقالات
پاراچنار

قائد اعظم والے پاکستان کو خیر باد کہنے والے ضیاء الحق والے پاکستان نے افغانستان کی خانہ جنگی میں مداخلت کی تو مرکزی حکومت کو یہ بھولا ہوا علاقہ یاد آیا جو پاکستان کے کسی بھی علاقے سے زیادہ کابل سے قریب تھا چنانچہ میرے علاقے سے افغانستان میں مداخلت کے لئے اس وقت بھی خوب خوب فائدہ اٹھایا گیا۔

خبر رساں اداری تسنیم: پاراچنار کے شینگک روڈ پر واقع زنانہ امام گاہ کے سامنے نماز جمعہ کے لئے آنے والے پاراچناریوں کو نشانہ بنانے کے لئے ہونے والے بم دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت سینکڑوں نہتے انسانوں کے قتل اور کسر پوری کرنے کے لئے احتجاجی نوجوانوں پر ایف سی کی فائرنگ اور مزید شہادتوں پر میں خود بھی لکھنا چاہتا تھا، کچھ بھائیوں نے بھی حکم دیا کہ پاراچنار میں ہونے والے کل کے بم دھماکے کے بارے میں کچھ لکھوں، لیکن حیرت اس قدر تھی اور ہے کہ قلم نے کام ہی چھوڑ دیا ہے چنانچہ انگلیوں پر جبر کرکے لکھنے لگا اب یہ الگ بات ہے کہ کیا حق ادا ہوتا ہے!

واضح رہے کہ مضامین کا یہ سلسلہ 1986میں مذہب شیعہ کو پاکستان کے لئے خطرناک قرار دیئے جانے اور شیعیان اہل بیت علیہم السلام کے خاتمے کا نانوشتہ قانون ضیائی پاکستان کی اسٹبلشمنٹ کے ایجنڈے پر آنے کے بعد کے واقعات سے تعلق رکھتا ہے جبکہ اس سے قبل 1956 کی ترخو جنگ، 1961میں صدہ کے تکفیریوں کی طرف سے وہاں کے مؤمنین کے جلوس عاشورا پر حملہ،1970میں منار مسجد کی جنگ، 1976میں جنگ کے منصوبے کی ناکامی، 1986میں صدہ کی دوسری جنگ، جس میں شش ماہہ بچوں تک کو قتال کرکے یزیدیت کی حقیقت کو بےنقاب کیا گیا، نیز 1983 اور 1987 کے درمیان جنگوں میں بھی حکومت ملوث رہی ہے یا یوں کہئے کہ یہ جنگیں بھی شیعہ اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی ریاستی سازشوں کی بنیاد پر لڑی گئی تھیں اور ان تمام جنگوں کی تفصیل بیان کرنے کے لئے باقاعدہ کتاب لکھنے کی ضرورت ہوگی۔

پاراچنار ایک جنت نظیر وادی ـ کرم ایجنسی ـ کا صدر مقام ہے۔

جو بھی گندی آنکھ اس پر پڑتی ہے، اس کو نظر لگ جاتی ہے اور سرزمین پاکستان کی یہ خوبصورت چڑیا بیمار پڑ جاتی ہے۔

اللہ کے غضب میں دائمی ابدی طور پر گرفتار خشک و بے آب و گیاہ صحراؤوں میں پلنے والے ـ یا شاید حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور سے ہانکے ہوئے ہٹ دھرم اسرائیلی ـ یہاں سے گذرتے ہوئے اس کو للچائی ہوئی آنکھوں سے دیکھتے ہیں،

اپنا بھی حال کچھ ایسا ہے کہ جو پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے انگریز مسلک ایوان ہائے اقتدار پر قابض ہیں، وہ اس قدر بےتشخص، بےحیثیت اور قومی و ذاتی غیرت سے عاری ہیں کہ کوئی بھی میرے اس خطے پر قبضے کا تقاضا کرے یہ بڑی آسانی سے اس کو قبضہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

قائد اعظم والے پاکستان کو خیر باد کہنے والے ضیاء الحق والے پاکستان نے افغانستان کی خانہ جنگی میں مداخلت کی تو مرکزی حکومت کو یہ بھولا ہوا علاقہ یاد آیا جو پاکستان کے کسی بھی علاقے سے زیادہ کابل سے قریب تھا چنانچہ میرے علاقے سے افغانستان میں مداخلت کے لئے خوب خوب فائدہ اٹھایا گیا۔

1987 میں افغانستان سے روس کے چلے جانے کے آثار نظر آئے تو ضیاء الحق کو امیرالمؤمنین کہنے والی سات افغان جماعتیں ـ پاکستان میں مختلف النوع دہشت پرور جماعتوں کے مشورے سے ـ اصرار کرنے لگیں کہ یہ خوبصورت خطہ ـ خودساختہ افغان جلا وطن حکومت کا ہیڈ کوارٹر بنانے کے لئے ـ ان کے سپرد کیا جائے تو عین ممکن ہے کہ سرکار نے ہمارے ہاں کے مشران قوم [زعماء] سے بھی بات چیت کی ہو اور ان کو خیانت کرکے مراعاتیں لینے کی پیشکش کی ہو لیکن اس وقت یہاں ایک باغیرت انجمن حسینی قائم تھی چنانچہ انہیں کوئی خاطرخواہ جواب نہیں ملا تو ضیائی پاکستان نے خیانت اور وطن دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنا ہی یہ خطہ انہیں دینے کی حامی بھر لی لیکن ان سے کہا کہ حملہ کرکے اس علاقے پر قبضہ کریں اور ضیائی ریاست نے ہزاروں خیمے تیار کرکے یہاں کے عوام کو پنجاب منتقل کرنے کا بندوبست کیا۔

پاراچنار کے لوگوں نے اتنی بڑی جنگ دیکھی ہی نہیں تھے، لیکن جب پاکستان، دنیائے عرب اور دنیائے مغرب کی مدد سے روس کے خلاف لڑنے والی افغان جماعتوں نے ضیاء الحق اور اس وقت کے امریکی صدر رونلڈ ریگن کی منظوری سے پاراچنار سمیت کرم ایجنسی کے تمام شیعہ علاقوں پر حملہ کیا تو افغان فوج کے آگے فتوحات حاصل کرنے والے افغانیوں کو پہلی مرتبہ یہاں کے نوجوانوں کے آگے ذلت آمیز شکست اٹھانی پڑی اور چھ دن کے اندر ہمارے سو کے قریب افراد شہید ہوئے لیکن انہیں پاکستان کی سرزمین پر بنے اپنے کیمپوں میں لشکر کے لشکر دفنانا پڑے۔

واضح رہے کہ اس علاقے پر حملوں میں وہ لوگ آگے آگے تھے جنہیں اس علاقے کے عوام نے پناہ دی تھی، زمین دی تھی، ان کی مدد کی تھی، انہیں علاج معالجے کی سہولتیں دی تھیں اور حتی کہ اپنے گھروں کی پکی روٹی بھی :: ان مہاجر بھائیوں :: کے درمیان تقسیم کی تھی :: انصار بن کر:: اور اب وہ حق ادا کررہے تھے نمک کا۔۔۔

بہر صورت کیمپوں کے لئے لائے گئے خیمے رکھے گئے اگلی جنگ کے لئے۔۔۔ یعنی یہ کہ ضیائی ریاست نے اپنا فیصلہ ابھی واپس نہیں لیا تھا۔۔۔ اور یہ خیمے 2009 میں ایک بار پھر سوات میں دکھائی دیئے اور معلوم ہوا کہ 2007 کی جنگ اس بار سرکار پاکستان نے اس علاقے پر مسلط کی تھی۔۔۔ [اگلی سطور میں اس جنگ کی طرف اشارہ ہوگا[

ٹھیک نو سال بعد جولائی 1996 میں پھر بھی افغانستان میں ضیائی پاکستان کے مفادات کی خاطر پاراچنار کی جنت نظیر وادی کو ایک بار پھر آگ میں جھونک دیا گیا اور افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضے کے لئے یہاں افواج کی منتقلی کی خاطر یہاں جنگ کا آغاز کیا گیا اور تقریبا 110 افراد شہید ہوئے۔ اس جنگ میں پہلی بار ایف سی نے دہشت گرد طالبان اور مقامی دہشت گردوں کے ساتھ تعاون کرکے کئی مقامات پر مدافعین پر گولے برسائے اور حتی کہ دہشت گرد ایجنسیوں سے آئے ہوئے ایف سی کے سپاہیوں نے فائرنگ کرکے کئی افراد کو شہید کیا اور ایف سے ہیڈ کوارٹر سے مدرسہ جعفریہ پر مارٹر گولے برسائے گئے۔ اچانک بڑی تعداد میں فوج کے آنے کی خبر پھیل گئی جنگ کسی بھی اعلان کے بغیر بند ہوئی۔ شہر پاراچنار اور اس کے اطراف میں تمام کی تمام سرکاری عمارتوں میں فوج کو رہائشی سہولت دی گئی اور عوام سوچنے لگے کہ گویا کوئی آپریشن کلین اپ وغیرہ کا انتظام ہے لیکن تین دن بعد فوج پاراچنار سے اس طرح لاپتہ ہوئی جس طرح کہ دراز گوش کے سر سے سینگ!!!

بعد میں معلوم ہوا کہ یہ جنگ ہی ریاست کی مسلط کردہ تھی اور ضیائی ریاست نے ایک بار پھر محب وطن پاکستانیوں کو اپنے ایک بیرونی ہدف کے حصول کے لئے قربان کردیا تھا؛ چنانچہ سرحدوں کے قریب واقع دیہی علاقوں کے لوگوں نے بتایا کہ ابتدائے شب سے لے کر انتہائے شب تک سینکڑوں فوجی گاڑیاں ـ جن پر افسر اور جوان سوار تھے یا ان پر گولہ بارود اور ہتھیار لادے گئے تھے ـ نیز دیو ہیکل توپ گاڑیاں تاریکی سے فائدہ اٹھا کر افغانستان میں داخل ہوئیں اور اگلی رات معلوم ہوا کہ کابل پر "طالبان" نے قبضہ کر لیا ہے۔

اور ہاں! طالبان کا قافلہ بھی افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ صحیح و سالم کابل پہنچ چکا تھا صرف طالبان کا ایک بڑا لیڈر "ملا بورجان" کو اسلام آباد کے مقاصد سے کچھ اختلاف کی وجہ سے جِنّات نے ہلاک کر دیا تھا اور ملا بورجان کے سوا باقی لوگ کابل پہنچ گئے۔۔

واضح رہے کہ 1996 جنگ کے لئے تکفیریوں نے پولیٹیکل انتظامیہ کی ایماء پر پہلے سے تیاری کررکھی تھی اور انجمن فاروقیہ کے شرپسند سرغنوں کے اشارے پر پاراچنار کے اس وقت کے واحد ہائی اسکول کے بورڈ پر محسن اسلام، حضرت عبد مناف بن عبدالمطلب [ابو طالب] علیہ السلام کی شان میں گستاخی پر مبنی کلمات لکھے گئے تھے جس کی وجہ سے وہاں جھگڑا ہوا اور پھر مسجد سے [جس کو مسجد ضرار کہنا زیادہ مناسب ہوگا] مارٹر گولے اسکول پر داغے گئے، متعدد نہتے طلبہ شہید اور زخمی ہوئے اور یوں پہلے سے تیار ایجنڈے کے مطابق تکفیری دہشت گردوں نے جنگ کا آغاز کیا تھا۔

ہمارا ایک المیہ یہ ہے کہ ہمارا دشمن ازل سے نامرد اور بزدل ہے چنانچہ

1996 کی جنگ کے بعد کچھ عرصے تک یہاں سے پشاور جانے والے نہتے مسافروں پر حملے کئے جاتے رہے اور متعدد افراد ان حملوں میں شہید ہوئے اور جب ان کی ایک گاڑی پر حملہ ہوا اور شاید ان کے 6 افراد مارے گئے تو حملے بند ہوئے۔۔۔ یہ بھی راقم کی نگاہ میں ایک سبق ہے!!

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری