تسنیم کی خصوصی رپورٹ/

سعودی وزیر مذہبی امور کا پاکستان دورہ/ کیا اس بار بھی معصوم عوام دہشتگردی کی نذر ہوں گے؟

خبر کا کوڈ: 1372441 خدمت: پاکستان
سعودی شیخ-1

سعودی وزیر مذہبی امور کے پاکستان دورے سے متعلق ماہرین کا خیال ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی پاکستان کی معصوم عوام دہشتگردی اور فرقہ وارانہ فسادات کی نئی لہر کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سعودی حکام انتہا پسند گروپوں کو مضبوط بنانے اور انہیں بڑی رقوم دینے کے لئے پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔

تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق نائب امام کعبہ شیخ صالح بن ابراہیم سعودی وزیر برائے مذہبی امور صالح بن عبدالعزیز آل شیخ کے ہمراہ پشاور پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا استقبال گورنر خیبر پختونخوا ظفر اقبال جھگڑا، جے یو آئی(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کیا۔

واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے کالعدم جماعتوں کیساتھ روابط کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور اس کی زندہ مثال کالعدم گروپ کے مسرور نواز جھنگوی کی اس پارٹی میں شمولیت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی انتہا پسند گروپوں کو بڑے بڑے رقوم دیکر معصوم پاکستانیوں کو دہشتگردی اور فرقہ وارانہ فسادات کی بھینٹ چڑھائیں گے۔

جیسا کہ مشاہدہ کیا جارہا ہے آئے روز مملکت خداداد کے مختلف حصوں میں معصوم پاکستانی دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں تاہم آل سعود کی نظر میں یہ قربانیاں کچھ کم لگ رہی ہیں بنابراین انتہا پسند گروپوں کو مزید تقویت بخشنے کیلئے آل سعود کو ایک مرتبہ پھر اپنے حکام پاکستان بھیجنے کی سوجھی۔

دوسری جانب کالعدم تنظیموں بالخصوص کالعدم لشکر جھنگوی کے بانی کے صاحبزادے مسرور نواز جھنگوی، سپاہ صحابہ کے احسان اللہ فاروقی وغیرہ کی طرف سے سرگرمیاں بھی تیز ہوگئی ہیں۔

ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ کیا اس بار بهی معصوم لوگوں کو قتل کرنے کا ایک نیا دور شروع ہوگا؟

واضح رہے کہ آل سعود دیوبندی مکتب فکر سمیت تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتی ہے تاہم اپنے سیاسی مفادات کی خاطر پاکستان میں صرف اور صرف دیوبندی مکتب فکر کےساتھ روابط قائم رکھے ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امام کعبہ جعمے کو خصوصی خطبہ بھی دیں گے اور نماز جمعہ کی امامت بھی کریں گے جبکہ علامہ شاہ سید شاہ تراب الحق کا تاریخی بیان کہ جس میں انہوں نے کہا: "اہلسنت کی نماز وہابی العقیدہ علماء کے پیچھے جائز نہیں"۔

یقینی بات ہے کہ اس تقریب کے بعد پاکستانی مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور ہمدلی پر شدید خدشه ظاہر کیا جائیگا کیونکہ اس اہم دورے کے بعد دہشتگردوں کو مزید تقویت بخشی جائے گی اور فرقہ وارانہ فسادات کے بڑھنے کا بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری