امام تقی علیہ السلام کے یوم ولادت کی مناسبت سے؛

خدا پر توکل ہر گرانقدر چیز کی قیمت اور بلندی کی طرف پہنچنے کی سیڑھی ہے

خبر کا کوڈ: 1373430 خدمت: مقالات
امام تقی علیہ السلام

امامت کے نویں تاجدار، فرزند رسول صلی علیہ وآلہ وسلم، امام محمد تقی علیہ السلام بتاریخ 10 رجب المرجب 195ھ یوم جمعہ بمقام مدینہ منورہ دنیا میں تشریف لائے۔

تسنیم نیوز ایجنسی: شیخ مفیدعلیہ الرحمة فرماتے ہیں چونکہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے کوئی اولاد آپ کی ولادت سے قبل نہ تھی اس لئے لوگ طعنہ زنی کرتے ہوئے کہتے تھے کہ شیعوں کے امام منقطع النسل ہیں، یہ سن کرحضرت امام رضا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اولاد کا ہونا خدا کی عنایت سے متعلق ہے، اس نے مجھے صاحب اولاد قرار دیا ہے اورعنقریب میرے یہاں مسند امامت کا وارث پیدا ہوگا چنانچہ آپ کی ولادت باسعادت ہوئی۔

امام جواد علیہ السلام اخلاق واوصاف میں انسانیت کی اس بلندی پر تھے جس کی تکمیل رسول اور آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا طرہ امتیاز تھی۔

ہر ایک سے جھک کر عاجزی سے ملنا، ضرورت مندوں کی حاجت روائی کرنا، مساوات اور سادگی کو ہر حالت میں پیش نظر رکھنا، غربا کی پوشیدہ طور پر خبر لینا، دوستوں کے علاوہ دشمنوں تک سے اچھا سلوک کرتے رہنا، مہمانوں کی خاطر داری میں انہماک اور علمی اور مذہبی پیاسوں کے لئے فیصلہ کے چشموں کا جاری رکھنا آپ کی سیرت حیات مبارک کے نمایاں پہلو تھے.

علماء نے لکھا ہے کہ ام الفضل بنت مامون الرشید اورسمانہ خاتون یاسری حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی بیویاں تھی.

امام علیہ السلام کی اولاد صرف جناب سمانہ خاتون جوکہ حضرت عمار یاسر رضی اللہ تعالی کی نسل سے تھیں، کے بطن مبارک سے پیدا ہوئے ہیں۔

آپ علیہ السلام کی اولاد کے بارے میں علماء کا اتفاق ہے کہ دو نرینہ اوردوغیرنرینہ تھیں، جن کے نام یہ ہیں۔ حضرت امام علی نقی علیہ السلام، جناب موسی مبرقع علیہ الرحمة، جناب فاطمہ اور جناب امامہ۔

آپ علیہ السلام کی تقریر بہت دلکش اور پر تاثیر ہوا کرتی تھی.

ایک مرتبہ زمانہ حج میں مکہ معظمہ میں مسلمانوں کے مجمع میں کھڑے ہو کر آپ علیہ السلام نے احکام شرع کی تبلیغ فرمائی تو بڑے بڑے علماء دم بخود رہ گئے اور انھیں اقرار کرنا پڑا کہ ہم نے ایسی جامع تقریر کبھی نھیں سنی۔

امام رضا علیہ السّلام کے زمانہ میں ایک گروہ پیدا ہوگیا تھا جو امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام پر توقف کرتا تھا یعنی آپ کے بعد امام رضا علیہ السّلام کی امامت کا قائل نھیں تھا اور اسی لئے واقفیہ کھلاتا تھا۔

امام محمد تقی علیہ السلام نے اپنے کردار سے اس گروہ میں ایسی کامیاب تبلیغ فرمائی کہ سب اپنے عقیدے سے تائب ہوگئے اور آپ علیہ السلام کے زمانہ ہی میں کوئی ایک شخص ایسا باقی نہ رہ گیا جو اس مسلک کا حامی ہو۔

بہت سے بزرگ مرتبہ علماء نے آپ سے علوم اہل بیت علیہ السّلام کی تعلیم حاصل کی.

آپ علیہ السّلام کے ایسے مختصر حکیمانہ اقوال کا بھی ایک ذخیرہ ہے جیسے آپ کے جدِ بزرگوار شیر خدا، خالق نہج البلاغہ، مولائے کائینات حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السّلام کے کثرت سے پائے جاتے ہیں.

جناب امیر علیہ السّلام کے بعد امام محمد تقی علیہ السّلام کے اقوال کو ایک خاص درجہ حاصل ہے.

علاوہ ازیں صبح قیامت تک انسان کی راہنمائی کے لئے الٰھیات اور توحید کے متعلق آپ علیہ السّلام کے بعض بلند پایہ خطبے بھی موجود ہیں۔

218 ہجری میں مامون کا انتقال ہوگیا اوراس کے بعد اس کا بھائی معتصم اس کی جگہ پر بیٹھ گیا۔

اس فاسق و فاجر نے 220 ہجری میں امام محمد تقی علیہ السلام کو مدینہ سے بغداد بلوایا تاکہ نزدیک سے آپ پر نظر رکھ سکے۔

بغداد کے قاضی ابن ابی دایود نے معتصم سے کہا کہ امام محمد تقی علیہ السلام وہ ہیں جن کو آدھے مسلمان خلافت کا مستحق اور تمہیں غاصب سمجھتے ہیں۔

معتصم پہلے ہی امام محمد تقی علیہ السلام سے بہت زیادہ دشمنی اور بغض رکھتا تھا لہذا ابن ابی دایود کی باتوں سے اور زیادہ مشتعل ہوگیا اور امام کو قتل کرنے کے متعلق چارہ جویی کرنے لگا اور آخر کار اس نے اپنے ارادہ کو مصمم کرلیا اور 29 ذی القعدہ 220ھ  امام علیہ السلام کو زہر دلوا کر شہید کر دیا۔

آپ علیہ السلام اپنے جدِ بزرگوار حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے پاس دفن ہوئے۔

آپ علیہ السلام ہی کی شرکت کا لحاظ کر کے عربی کے قاعدے سے اس شہر کا نام کاظمین (دو کاظم یعنی غصہ کوضبط کرنے والے) مشہور ہوا ہے اور وہاں کے اسٹیشن کوآپ علیہ السلام کے دادا کی شرکت کی رعایت سے ”جوادین“ کہا جاتا ہے۔

آج اہل ایمان کی بڑی تعداد کاظمین شریف میں زیارت سے فیضیاب ہوتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری