بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین 22 معاہدے طے پا گئے

خبر کا کوڈ: 1374139 خدمت: دنیا
مودی و حسینہ واجد

بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے دورہ بھارت کے موقع پر ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ دفاع‘ ایٹمی تعاون‘ سول سمیت 50 کروڑ ڈالر کے 22 معاہدوں پر دستخط کردئیے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق   بھارتی وزیرِاعظم نے بنگلہ دیش کو ہتھیاروں کی خریداری کے لیے الگ سے 50 کروڑ ڈالر قرض دینے کا بھی اعلان کیا۔

ہفتے کو نئی دہلی میں بنگلہ دیش کی وزیرِاعظم حسینہ واجد سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے کہا کہ ان کا ملک بنگلہ دیش کو توانائی اور دیگر ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کے لیے ساڑھے چار ارب ڈالر قرض دے گا۔

بھارتی وزیرِاعظم نے بنگلہ دیش کو ہتھیاروں کی خریداری کے لیے الگ سے 50 کروڑ ڈالر قرض دینے کا بھی اعلان کیا۔

اس رقم سے بنگلہ دیش اپنی فوج کے لیے بھارتی کمپنیوں سے ہتھیار خریدے گا۔

اپنے خطاب میں مودی کا کہنا تھا کہ بھارت بنگلہ دیش کے ساتھ روایتی شعبوں کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، خلائی ٹیکنالوجی، سول نیوکلیئر انرجی اور ہائی ٹیکنالوجی والے دیگر شعبوں میں بھی تعاون کا خواہاں ہے جس سے دونوں ملکوں کے نوجوان فائدہ اٹھاسکیں گے۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیش کی وزیرِاعظم حسینہ واجد 2 روز قبل چار روزہ دورے پر بھارت پہنچی تھیں جو 2014ء میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد نئی دہلی کا ان کا پہلا دورہ ہے۔

اپنے دورے کے دوران حسینہ واجد نے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے ہمراہ بھارت کے شہر کلکتہ اور بنگلہ دیش کے شہر کھلنا کے درمیان ٹرین سروس اور کلکتے اور ڈھاکے کے درمیان بس سروس کا بھی افتتاح کیا۔

ہفتے کو ملاقات کے بعد دونوں وزرائے اعظم نے دفاع اور سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے22 معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بنگلہ دیش اپنی فوج کے زیراستعمال 80 فی صد اسلحہ چین سے خریدتا ہے۔

بنگلہ دیش اور چین کے درمیان یہ قریبی دفاعی تعاون بھارت اپنے لیے چیلنج سمجھتا ہے اور گزشتہ کئی برسوں سے بنگلہ دیش کے ساتھ دفاعی تعاون میں اضافے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

اس ملاقات اور ملاقات کے نتیجے میں طے پانے والے معاہدوں کے نتیجے میں دونوں ہمسایہ ممالک ایک دوسرے کے مزید نزدیک آ گئے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں