چئیرمین سینیٹ رضاربانی نے جمیعت کے صد سالہ تقریبات کا میلہ لوٹ لیا + ویڈیو

خبر کا کوڈ: 1374174 خدمت: اسلامی بیداری
رضا ربانی

پیپلزپارٹی کے سینیئر رہنماء اور چئیرمین سینیٹ سینیٹر رضا ربانی نے جمیعت علماء اسلام (ف) کے صد سالہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام کو درپیش چیلنجوں کا ذکر کیا اور شام پر امریکی حملے کی مذمت کی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پیپلزپارٹی کے سینیئر رہنماء اور چئیرمین سینیٹ سینیٹر رضا ربانی نے جمیعت علماء اسلام (ف) کے صد سالہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام کو درپیش چیلنجوں کا ذکر کیا اور شام پر امریکی حملے کی مذمت کی۔

رضا ربانی نے پاکستان کے شام میں جاری جنگ کے بارے میں حکومت کو پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا پرزور مطالبہ کیا اور اقوام متحدہ میں امریکی سامراج کے سامنے کھڑا ہونے کی تاکید کی۔

رضاربانی نے کہا کہ "آج دنیا بھر میں اسلام کیخلاف ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سازش کی جارہی ہے۔ اور اس میں نہ صرف اسلام کو بدنام کرنا، اسلام کو ایک دہشتگرد مذہب ثابت کرنا شامل ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ درحقیقت مغربی قوتوں کی یہ کوشش ہے کہ وہ مسلم ممالک کے اندر ابتری پیدا کرے، مسلم ممالک کے اندر ایک دوسرے سے دست و گریباں کرے اور اس کے بعد ایک مسلم ملک کو دوسرے ملک کیخلاف کھڑا کرے۔ اس سازش میں بدقسمتی سے وہ ایک حد تک کامیاب ہو رہے ہیں"۔

یاد رہے حمص میں شامی فوج کے ٹھکانوں پر امریکی حملے تکفیری دہشتگردوں کیلئے ایک بڑا تحفہ ہے دوسری طرف مغربی دنیا  امریکہ کے انسانیت سوز جرائم کی پردہ پوشی کررہی ہے۔

روس سمیت ایران، بولیویا اور دیگر ممالک شام پر امریکی جارحیت کی مذمت کررہے ہیں اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں  ان ممالک کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اس طرح کی کاروائی کرکے داعش کیلئے شامی فوج کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کی راہ ہموار کی۔

رضاربانی ایسے وقت میں جمیعت کے صد سالہ تقریبات سے خطاب کررہے تھے جب سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور اور امام کعبہ شیخ صالح بن عبد العزیز بن محمد ال شیخ  بھی جمیعت علماء اسلام کے صد سالہ تقریبات میں شرکت کیلئے پاکستان میں موجود ہیں، اور صد سالہ تقریبات میں شامل ہزاروں مدارس کے طلباء اور مذہبی رہنماؤں اور  جم غفیر سے خطاب بھی کیا۔ سعودی عرب میں پانچ بندوں کے اکھٹا جمع ہونے پر پابندی ہے بلکہ سنگین جرم ہے اور اسی جرم کی پاداش میں سعودی عرب میں تیس ہزار کے قریب لوگ عقوبت خانوں میں ڈالے گئے ہیں۔ اور اسی جرم میں سعودی عرب کے شیعہ اکثریتی مشرقی صوبہ میں ہزاروں شیعہ پابند سلاسل ہیں اور کئی کو سزائے موت بھی دی گئی ہے جس میں صف اوّل کے شیعہ رہنماء شیخ باقر نمر النمر سرفہرست ہیں۔

رضا ربانی نے مسلمانوں کے اتفاق و اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "دنیا بھر کے مسلمان ایک ہیں اور دنیا بھر کے مسلمان اس گھناؤنی سازش کو اپنے عمل کے ساتھ اپنی محبت کے ساتھ اور اپنی اخوت کے ساتھ اس سازش کو ملیامیٹ کر دیں گے"۔

سینیٹر رضا ربانی نے شام پر امریکی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت کو واضح پیغام بھی دے دیا۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ "امریکی سامراج نے کل شام میں حملہ کیا ہے امریکی سامراج کے اس اقدام کا شدید طور پہ مذمت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ اپنی حکومت کو بھی متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ اب جب یہ مسئلہ اس نام نہاد، اس سامراج کے بوجھ تلے دھبی ہوئی یونائیٹڈ نیشنز کے سامنے جائے تو وہاں پر پاکستان کو بڑا سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا، یہ نہ ہو کہ پاکستان ماضی کی طرح امریکی سامراج کا کاسہ لیس بن کے اور اس کی حمایت میں کھڑا ہوجائے۔ کیونکہ اس کے بڑے خطرناک نتائج جو ہیں، سامنے آئیں گے۔ لہذا حکومت کو چاہئے کہ وہ مشاورت کریں، حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلائے جس میں  تمام مکتبہ فکر کی سیاسی جماعتیں اور قائدین موجود ہوں اور وہاں پر اس مسئلے پہ سوچ و بچار کی جائے اور وہ راستہ اختیار کیا جائے جو پاکستان کیلئے، پاکستان کے عوام کیلئے، پاکستان کی سالمیت کیلئے سب سے بہتر راستہ ہو"۔

یہ ایسے موقع پر ہے جب آل سعود اور آل یہود نے ایک ہی زبان استعمال کرکے شام پر امریکی حملے کی حمایت کی اور کہا کہ یہ حملہ درست اور دلیرانہ اقدام تھا۔

مولانا فضل رحمان نے سعودی عرب کی قیادت میں یمن حملے پر پہلے پاکستان حکومت کی شامل نہ ہونے کی حمایت کی تھی، جمیعت علماء اسلام کے سینیٹر حمداللہ نے سعودی عرب کی قیادت میں یمن حملے کو مسلمانوں کیخلاف سازش قرار دیا تھا اور اس سے امریکی اور اسرائیلی ایجنڈا قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا۔ اور اب ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کی قیادت میں اسلامی ملکوں کے فوجی اتحاد کا کھل کر حمایت کررہے ہیں جس سے اس کی دوغلی پالیسی واضح ہوجاتی ہے۔

جمیعت علماء اسلام(ف) کے رہنما اور ڈپٹی اسپیکر سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری نے دو دن پہلے دہشتگرد تنظیم تحریک طالبان کو جمیعت میں شامل ہونے کی باقاعدہ دعوت دی اور اس سے پہلے دہشتگرد تنظیم سپاہ صحابہ کے مسرور جھنگوی کو جمیعت میں شامل کرلیا ہے جو جھنگ سے صوبائی اسمبلی کے نشست پر انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔

یاد رہے مسرور جھنگوی سپاہ صحابہ کے بانی رہنما حق نواز جھنگوی کے بیٹے ہیں جن کے ہاتھ ہزاروں شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔ جبکہ مسرور جھنگوی جلسہ عام میں سب سے پہلے "کافر کافر شیعہ کافر" کے نعرے لگاتے رہے ہیں اور اس نعرے کو کلمہ حق سمجھتے ہیں۔

پاکستان کی سیاست پانامہ پیپر کیس اور راحیل شریف کی اسلامی فوج کی قیادت سمیت دہشتگردی کے خلاف جنگ کے گرد گھوم رہی ہے اور سعودی عرب کی حکومت نے وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں پاکستان کو سعودی عرب کے جھولی میں ڈالنے کی کوشش کی ہے تو وہیں پانامہ کا تلوار نوازشریف کے گردن پر لٹک رہی ہے جس کا اگلے ہفتہ سپریم کورٹ سے فیصلہ آنا متوقع ہے۔

    تازہ ترین خبریں