مقتدا الصدر نے شام میں نئے ویتنام بننے کی پیشگوئی کر دی/ امریکہ کو وارننگ

خبر کا کوڈ: 1374768 خدمت: دنیا
مقتدى الصدر

عراق کے صدر تحریک کے سربراه نے کہا: "مجهے لگتا ہے کہ ٹرمپ کا شام پر حملہ کرنے کا فیصلہ داعش کو تقویت پہنچانے کے لئے کیا گیا ہے"۔

تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق صدر تحریک کے سربراه مقتدا الصدر نے شام پر امریکی حملے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واشنگٹن کو شام میں نئے ویتنام بننے کے  بارے خبردار کیا ہے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا: "شام میں امریکہ کی فوجی مداخلت نقصان ده ہے"۔

ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن نے اعلان کیا ہے کہ عراق میں داعش کو مارا ہے لیکن ابهی تک عراق میں دہشتگردی موجود ہے۔

مقتدا الصدر کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کی مداخلت سے عراق کو بالکل فائده نہیں ہوا بلکہ مجھے تو لگتا ہے کہ ایسی مداخلت پورے خطے کے بدامنی کا سبب بنی ہے۔

صدر تحریک کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ کے صدر کے بیانات نہ صرف امریکہ کے لئے بلکہ دنیا کے تمام ممالک کی لئے نقصان ده ہے لہٰذا ان کو خیال رکهنا چاہئے اور غیرذمہ دار بیانات سے گریز کرنا چاہئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دوہرے معیار کی پالیسی غلط ہے۔ امریکہ نے موصل میں سینکڑوں کی تعداد میں معصوم شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ دوسری طرف شام میں کیمیائی حملے کا بہانہ کرکے واویلا کررہا ہے۔

صدر تحریک کے سربراه نے کہا: "مجهے لگتا ہے کہ ٹرمپ کے شام پر حملہ کرنے کا فیصلہ داعش کو مضبوط بنانے کے لئے لیا گیا ہے کیونکہ امریکہ واضح طور پر دہشتگردی کی حمایت کرتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ حملہ بدھ کو ہونے والے حملے کے بعد ہوا ہے جو مبینہ طور پر کیمیائی حملہ تھا۔ اس حملے میں 89 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔

شامی فوج اس الزام کو مسترد کر رہی ہے کہ حملے میں کیمیائی مواد استعمال نہیں ہوا جبکہ شام کے اتحادی روس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں باغیوں کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا جہاں وہ کیمیائی ہتھیار رکھتے تھے۔

امریکہ نے شام کے الشعیرات ائیربیس پر 59 کروز میزائل فائر کئے تھے جس کی عالمی سطح پر بھرپور مذمت کی گئی ہے۔

    تازہ ترین خبریں