روس نے پاکستان میں افغان طالبان کیساتھ اپنے وفد کی ملاقات کو مسترد کردیا

خبر کا کوڈ: 1374912 خدمت: دنیا
مسکو

روسی وزارت خارجہ نے شمالی وزیرستان میں قائم افغان طالبان کے تربیتی کیمپ اور افغانستان کے سرحدی علاقوں کے دورے سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق روسی وزارت خارجہ نے شمالی وزیرستان میں قائم افغان طالبان کے ترتیبی کیمپ سمیت افغانستان کے سرحدی علاقوں کے دورے سے متعلق خبروں کو مسترد کردیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بعض ذرائع ابلاغ نے رپورٹ دی تھی کہ روسی اور پاکستانی جرنیلوں نے حقانی نیٹ ورک کے کمانڈروں سے خوست، پکتیا اور ننگرہار کے سرحدی علاقوں میں ملاقات کی ہے۔

افغانستان کے سیکورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ روسی اور پاکستانی جرنیلوں نے حقانی نیٹ ورک کے کمانڈروں کیساتھ سرحد پار افغان علاقوں گومل، سپیره اور ننگرہار میں 11 دنوں تک قیام کیا۔

روسی وزارت خارجہ کے بیان میں آیا ہے کہ روسی فوج کے وفد نے پاک فوج کیساتھ مشاورت کے لئے راولپنڈی کا دورہ کیا۔

اس بیان کے مطابق پاکستانی حکام نے اپنے ملک کی سیکورٹی صورتحال اور آپریشن ضرب عضب کے نتائج سے آگاہ کرنے کیلئے وزیرستان کا دورہ کرایا تھا۔

بعض ماہرین اور افغان حکام کا کہنا ہے کہ روس داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو روکنے کی خاطر افغانستان میں طالبان کی حمایت کرتاہے۔

یہ الزام امریکہ پر بھی عائد ہے کہ وہ افغانستان کے شمالی علاقہ جات کو روس کی بدامنی کی خاطر استعمال کرتا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری