امجد صابری کے اہلخانہ پر پاکستان کی زمین تنگ ہو گئی، ملک چھوڑنے کا فیصلہ

خبر کا کوڈ: 1376285 خدمت: پاکستان
امجد صابری

گزشتہ برس کراچی میں دہشتگردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں جان کی بازی ہارنے والے معروف قوال امجد صابری کے اہلخانہ نے خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہوئے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق کراچی میں پچھلے سال جون میں دہشتگردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں جان بحق ہونے والے معروف قوال امجد صابری کے اہلخانہ نے خود کو پاکستان میں غیر محفوظ تصور کرتے ہوئے وطن چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

امجد صابری کے بھائی عظمت صابری نے بتایا کہ وہ اور ان کے اہلخانہ پاکستان چھوڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا 'ہم خود کو اب یہاں محفوظ تصور نہیں کرتے، ہمارا پورا خاندان برطانیہ منتقل ہونا چاہتا ہے، لندن میں ہمارا ایک بھائی موجود ہے'۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں اور ان کے اہلخانہ کو برطانیہ منتقل ہونے میں مدد فراہم کی جائے، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا 'ہم کل ہی یہاں سے جانے کو تیار ہیں اگر ہمیں ویزا دے دیا جائے'۔

واضح رہے کہ سابق جسٹس افتخار محمد چوہدری نے مرحوم امجد صابری کے اہلخانہ سے تعزیت کے لیے ان کے گھر کا دورہ کیا تھا۔

اس موقع پر مرحوم امجد صابری کی والدہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بیٹوں کی حفاظت کے لیے کافی فکر مند ہیں اور خاندان کے لوگ ملک چھوڑ کر باہر جانے پر غور کررہے ہیں، جس کے لیے حکومت ان کی مدد کرے۔

یاد رہے کہ پچھلے سال 22 جون کو امجد صابری کو پاکستان کے شہر کراچی لیاقت آباد کے مصروف علاقے میں موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

جس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حکیم اللہ محسود گروپ نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

واضح رہے کہ مجد صابری کا شمار پاکستان مایہ ناز قوالوں میں ہوتا تھا، وہ مشہور قوال غلام فرید صابری کے بیٹے تھے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری