احتجاج، فائرنگ، شہادتیں، ہڑتالیں؛ مقبوضہ کشمیر کے انتخابات ملتوی

خبر کا کوڈ: 1376323 خدمت: دنیا
بھارتی فوج در کشمیر

مقبوضہ کشمیر میں کشیدہ صورت حال کے باعث بھارتی الیکشن کمیشن نے اننت ناگ میں 12 اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخاب کو ملتوی کردیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی حکومت کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخاب کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا جو اب 12 اپریل کے بجائے25 مئی کو ہوگا جبکہ یکم جون کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔

خیال رہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن کی جانب سے لوک سبھا کی کشمیر کی نشست کا ضمنی انتخاب ایک ایسے وقت میں ملتوی ہوا ہے جب دو روز قبل بڈگام میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں جھڑپوں کے دوران 12 افراد کو مارا گیا تھا جبکہ 100 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔

بھارتی سیکیورٹی فورسز کی ان پرتشدد کارروائیوں کے بعد وادی کے حالات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ حریت رہنماؤں نے مقبوضہ کشمیر میں دو روز قبل ہونے والے ضمنی انتخاب کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا جبکہ احتجاجی مظاہروں کے دوران بھارتی سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 12 افراد شہید جبکہ 100 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ ادھر پاکستان نے بھارتی بربریت کے خلاف احتجاج کیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے کہا کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارتی مظالم فوری رکوائیں۔

بھارتی فائرنگ سے کشمیری نوجوانوں کی شہادت پر اظہار مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کے قتل عام میں ملوث عناصر کو کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری و انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارتی مظالم فوراً رکوائیں‘ مقبوضہ کشمیر میں مبصرین کا وفد بھیجا جائے۔

علاوہ ازیں مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھارتی فائرنگ سے کشمیری نوجوانوں کی شہادت کی شدید مذمت کی اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جولائی 2016ءسے بھارتی جارحیت عروج پر ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

دوسری جانب مودی سرکار نے کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے 20 ہزار اضافی فوجی تعینات کئے ہیں۔

اس دوران قابض فوج نے سید علی گیلانی، میر واعظ اور یاسین ملک سمیت حریت قیادت کو گھروں میں نظر بند رکھا ہوا ہے۔

    تازہ ترین خبریں