تحریر: سید دلاور جعفری

شام پر امریکی جارحیت؛ دہشت گردوں کے پشتیبان کھل کر سامنے آگئے/ اقوام عالم کے موقف

خبر کا کوڈ: 1376866 خدمت: مقالات
فرمانده ارتش سوریه الشعیرات

الشعیرات ایئربیس پر امریکی حملے کے فوری بعد سب سے پہلے اسرائیل اور سعودی عرب نے اس کی حمایت کی جس سے یہ ظاہر ہوگیا ہے کہ یہ دونوں ممالک دنیائے اسلام کے خلاف تمام ترسازشوں کا حصہ ہیں اور انہی کی مد د سے ہر سو تباہی و بربادی ہورہی ہے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: 7اپریل کوامریکہ نے 6برسوں سے دہشت گردی کے شکار عرب ملک شام کے ایک فضائی اڈے کو ٹوما ہاک میزائلوں سے نشانہ بناکر اپنے ناپاک مقاصد واضح کردئے۔ یہ وہی "امریکہ بہادر" ہے جو صہیونی اور سعودی لابی کی مدد سے اس سے پہلے افغانستان، عراق اور لیبیا جیسے مسلم ممالک پر لشکر کشی کرکے ان کی اینٹ سے اینٹ بجاچکا ہے۔ اب اس کا نشانہ پچھلے کئی برسوں سے مملکت شام ہے جس کی تباہی کیلئے پہلے تو دنیا بھر سے دہشت گرد اکھٹے کرکے انہیں مہلک ہتھیاروں سے لیس کرکے شام بھیجا گیا اور جب یہ نسخہ کامیاب ثابت نہ ہوسکا تو صہیونی ریاست اسرائیل، سعودی عرب اور دیگر وہابی پرست ریاستوں کو خوش کرنے کیلئے کیمیائی حملے کی سازش رچا کر خود میدان میں کود گیا۔

اگرچہ امریکہ مزید حملے کرنے کی حماقت نہیں کرے گا کیونکہ اس کا سامنا روس اور ایران سے ہوسکتا ہے جو پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوگا اور نیوکلیئر جنگ بھی چھڑسکتی ہے لیکن اس حملے کے بعد کے رد عمل کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ کون اسلام دشمنی پر اتر آیاہے اور کون اس وقت حق پرستوں کا ساتھ دے رہا ہے۔

حملے کے فوری بعد سب سے پہلے اسرائیل اور سعودی عرب نے اس کی حمایت کی جس سے یہ ظاہر ہوگیاکہ یہ دونوں ممالک دنیائے اسلام کے خلاف تمام ترسازشوں کا حصہ ہیں اور انہی کی مد د سے ہر سو تباہی و بربادی ہورہی ہے۔ امریکی حملے پر جتنے خوش اسرائیل اور سعودی عرب ہیں اتنا شاید خود امریکہ بھی نہیں ہوگا۔

اس حملے کے بعد ان دونوں ممالک کا اتحاد بے نقاب ہوگیا ہے اور یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ان کا ایک جیسا ہدف اور ایک جیسا موقف ہے جو اسلام دشمنی پر منتج ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب حال ہی میں شامی فوج نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اس پر اسرائیلی حکومت خوفزدہ ہو کر اچھل کود کررہی ہے۔

تاہم جہاں کچھ ممالک نے اس کارروائی پر امریکہ کی پیٹھ تھپتھپائی وہیں کچھ نے اس کی بھرپورمخالفت بھی کی۔ یہاں تک کہ روس اور ایران نے امریکہ کو نتائج بھگتنے کا انتباہ بھی دیا۔

آیئے دیکھتے ہیں کہ حملے کے بعد کس نے کیا کہا۔

اسرائیل

اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے حملے کے بعد کہا کہ وہ اس حملے کی پوری طرح سے حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: "صدر ٹرمپ نے الفاظ اور ایکشن سے ایک مضبوط اور واضح پیغام دیا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال یا ان کے پھیلاؤ کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی"۔

سعودی عرب

سعودی بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے شام میں فوجی اڈے پر میزائل حملوں کی مکمل تائید اور حمایت کی۔ انہوں نے شہریوں پر مظالم کی روک تھام کے لئے جوابی کارروائی کی ضرورت سے اتفاق کیا ہے۔ امریکا کا بھی اس بارے میں یہی موقف ہے۔

جمعہ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں میزائل حملے کے بعد سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو ٹیلیفون کرکے اس کی تفصیلات بتائی تھیں۔ اس موقع پر شاہ سلمان نے امریکی حملے کو بروقت اور جرأت مندانہ قرار دیتے ہوئے اس کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔

ترکی

ترکی نے شام کے خلاف امریکی حملے کو مثبت پہلو قرار دیا اور کہا ہے کہ عالمی برادری کو شامی حکومت کی بربریت کے خلاف اپنے موقف کو مستقل برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

ترکی کے نائب وزیراعظم نعمان قرت المعاون نے ترکی میں فاکس ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر بشار الاسد کو عالمی سطح پر پوری طرح سے سزا دینا چاہئے اور شام میں امن کے عمل کو تیز تر کرنے کی ضرورت ہے۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ "شام کے فضائی اڈے پر امریکی حملہ خوش آئند پیشرفت ہے اور ترکی ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرے گا جس سے شامی حکومت کا احتساب ہو سکے"۔

دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے ترجمان نے شام کے اوپر نو فلائی زون اور سیف زون کے قیام کا مطالبہ کیا۔

نیٹو

امریکی اور یورپی ممالک کے فوجی اتحاد نیٹو کی سیکرٹری جنرل جینس سٹولٹین برگ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "اس حملے کی تمام ذمہ داری شامی حکومت پر عائد ہوتی ہے"۔

انھوں نے کہا کہ "کیمیائی ہتھیار کا استعمال قطعی قابل قبول نہیں اور اس کی سزا ملنا ضروری ہے اور ان حملوں کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ضروری ہ"۔‘

جرمنی

 جرمن چانسلر آنگیلا میرکل کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے شام میں حملہ جنگی جرائم، معصوم عوام کی مشکلات اور سلامتی کونسل میں رکاوٹوں کے تناظر میں قابلِ فہم ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ساتھ ہی ساتھ میں آج پہلے سے کہیں زیادہ زور دیتی ہوں کہ یہ درست اور اہم ہے کہ توجہ سلامتی کونسل اور جینیوا میں ہونے والی بات چیت پر مرکوز رکھی جائے تاکہ شام کے مسئلے کا سیاسی حل نکل سکے"۔

برطانیہ

برطانیہ کی لیبر پارٹی میں امریکہ کا شام پر حملے کے حوالے سے اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔

لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربین نے امریکہ پر تنقید کی ہے جبکہ جماعت کے نائب ٹام واٹسن کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا یہ براہ راست اور متناسب جواب ہے۔

شیڈو وزیر خارجہ ایمیلی تھورنبری نے کوربین کے موقف کی حمایت کی ہے۔ تاہم لیبر جماعت کے جان وڈ کاک کا کہنا ہے کہ لیبر پارٹی کو امریکی کارروائی کی مکمل حمایت حاصل ہونی چاہیے۔

روس

شام کے فضائی اڈے پر امریکی حملے کے تناظر میں روس نے امریکہ کے ساتھ شام میں فضائی تحفظ کے معاہدے کو معطل کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان کیا گیا تھا تاکہ دونوں ملکوں کی فضائیہ شام کی حدود میں ایک دوسرے کو نشانہ نہ بنائیں۔

روس نے کہا ہے کہ یہ حملہ زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئے اور 59 میں سے صرف 23 میزائل فضائی اڈے تک پہنچ سکے اور باقی 36 میزائل کہاں گرے ہیں معلوم نہیں۔

روسی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ الشعیرت فضائی اڈے پر امریکی میزائل حملے کے بعد شام کے فضائی دفاع کو مضبوط کیا جائے گا۔

ترجمان اورکوناشینکوو نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شام کے انتہائی حساس مقامات اور اڈوں کو محفوظ بنانے کے لیے مختلف اقدامت لیے جائیں گے تاکہ ان کی قابلیت اور صلاحیت میں بہتری آسکے۔

روس کے صدر ولاد میر پیوٹن کے ترجمان دیمتری پیسکووف نے شام کی شعیرات ایئر بیس پر حملے کو ایک خود مختار ملک کے خلاف جارحیت قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر پیوٹن اس حملے کو عراق میں امریکی کارروائی میں ہونے والی شہریوں کی ہلاکتوں سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش قرار دیتے ہیں اور اس سے امریکہ اور روس کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

چین

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ’اب اس بات کی ضرورت ہے کہ حالات کو مزید بگڑنے سے بچایا جائے۔ ہم کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے مکمل خلاف ہیں چاہے وہ کوئی بھی ملک، ادارہ یا انفرادی حیثیت میں کوئی شخص کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کرے۔

ایران

ایران نے امریکی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے شدت پسندوں کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے شام اور خطے میں حالات کو مزید پیچیدہ کر دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس یکطرفہ حملے کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ ان حملوں سے شام میں دہشت گردوں کو پروان ملے گا۔

سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی تقریر میں صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکہ کے دفتر میں اس وقت جو شخص بیٹھا ہوا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف لڑنا چاہتا ہے۔ مگر آج شام میں موجود تمام دہشت گرد امریکی حملے پر جشن منا رہے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ آپ نے دہشت گرد گروہوں کی پہلے ہی قدم پرمدد کیوں کی؟ ایران کے صدر نے شام میں ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ شام اور یمن میں امریکہ، داعش اور القاعدہ ایک ہی صفحہ پر ہیں اور ان کا ایک ہی مقصد ہے۔

شام

شام کے صدر بشار الاسد کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے شامی فضائی اڈے پر حملہ احمقانہ اور غیر ذمہ دارانہ ہیں۔ میزائل حملے کا فیصلہ امریکہ کی حماقت اور غیر ذمہ داری کا ثبوت ہے اور اس سے ان کی سیاسی اور عسکری بصارت میں کمی کا احساس ہوتا ہے کہ انھیں زمینی حقائق کا علم تک نہیں ہے۔

ریڈ کراس

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کی ترجمان نے کہا ہے کہ ایک ملک کی طرف سے بغیر دوسرے ملک کی رضا مندی کے فوجی کارروائی انٹرنیشنل آرمڈ کانفلکٹ یعنی بین الاقوامی مسلح تصادم کے زمرے میں آتی ہے۔

معلومات کے مطابق امریکہ نے شامی فوجی تنصیب پر حملہ کیا اور یہ بین الاقوامی مسلح تصادم کے زمرے میں آتا ہے۔

اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اور امریکی حملے نے ان کے اس یقین کی تائید کی ہے کہ شام کے بحران کا حل صرف سیاسی طور پر نکالا جا سکتا ہے۔

حملے اوراس کے بعد سامنے آنے والے رد عمل نے دنیا کو تو دو حصوں میں منقسم کرہی دیا لیکن مسلم امت کیلئے سمجھنے والی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے ٹھیکیدار بننے کا خواب دیکھنے والے کچھ ممالک کھلے عام اسرائیل سے جاملے ہیں۔

ان ممالک کو اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر تو کوئی مظالم نظر نہیں آرہے لیکن شام میں انسانی حقوق کی پامالیاں دکھائی دیتی ہیں۔

یمن میں انسانی المیہ دکھائی نہیں دیتالیکن عراق میں داعش کو بچانے کیلئے بغداد حکومت پر دباﺅ بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

بحرین اور سعودی عرب کے مشرقی صوبوں میں بزور طاقت شہریوں کو کچلنا نظرنہیں آتامگر شامی حکومت قاتل نظر آتی ہے۔

موجودہ وقت میں حق و باطل کی پہچان صاف ہوگئی ہے اور سعودی عرب سرعام اسی راہ پر چل پڑاہے جس راہ پر مسلمانوں کا دشمن اول یعنی اسرائیل اور اس کا پشتیبان امریکہ چل رہے ہیں۔

شام کا مستقبل کیا بھی ہو لیکن اس جنگ نے اسلام دشمن کو ننگا کردیاہے۔

خطے میں حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہاجاسکتاہے کہ اس وقت امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب اور ترکی انہی مقاصد کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں جو مقاصد خونخوار درندوں داعش، النصرہ فرنٹ، القاعدہ اور دیگر دہشت گردوں کے ہیں۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ اقوام عالم کے سامنے ان گروہوں کی پہچان دہشت گردوں کے طور پر ہے اور ان کے پشتیبان ممالک کی شناخت کرناعالمی قوانین کے خلاف ہے۔

    تازہ ترین خبریں