تحریر: فرحت حسین مہدوی

پاراچنار پر بزدلانہ حملوں کا تسلسل (دوسری قسط)

خبر کا کوڈ: 1377386 خدمت: مقالات
پاراچنار

پاراچنار کیخلاف ہونے والی سازش کے تحت جعلی ڈومیسائل اور شناختی کارڈ کی فیکٹریاں لگاکر ہزاروں افغان باشندوں کو پاکستان کی شہریت دیتے ہوئے قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں اور شیعہ قوم نے تہذیب یافتہ قوم کی حیثیت سے تمام مسائل قانونی راستوں سے حل کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن اٹل ریاستی فیصلہ ٹل نہ سکا۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: 2007 عیسوی تک بھی سازشیں اور عداوتیں رکی نہیں بلکہ مختلف روشوں سے شیعہ آبادی پر عرصہ حیات تنگ کیا جاتا رہا، سرکاری فنڈز اقلیتی آبادی کے لئے صرف ہوتے رہے، افغان سرحد کو سیل کرکے عوامی معیشت کو نشانہ بنایا گیا، کسی درخت سے پتا بھی گرا تو شیعہ آبادی پر کروڑوں کے جرمانے عائد کرکے عوام کو غربت کی دلدل میں دھکیلا جاتا رہا، شیعہ اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش کرکے علاقہ غیر کو سینٹرل کرم کے طور پر ایجنسی میں شامل کیا گیا، ایجنسی کے وسائل ایف آر پر خرچ کئے جانے لگے؛ اسی سازش کے تحت جعلی ڈومیسائل اور شناختی کارڈ کی فیکٹریاں لگاکر ہزاروں افغان باشندوں کو پاکستان کی شہریت دیتے ہوئے قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں اور شیعہ قوم نے تہذیب یافتہ قوم کی حیثیت سے تمام مسائل قانونی راستوں سے حل کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن اٹل ریاستی فیصلہ ٹل نہ سکا۔

اس دوران سابق گورنر افتخار حسین شاہ اور ان کے بعد طالبان کمانڈر کے نام سے شہرت پانے والے وقت کے گورنر ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل علی محمد جان اورکزئی مرکزی حکومت کو رپورٹ کرتے رہے کہ "پاراچنار پاکستان کا پرامن ترین علاقہ ہے" اور یہ بات ان کی صحیح تھی۔

حکمرانوں کی حکمرانی اور ریاست کی رٹ چیلنج ہونے کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو تو تب ہی اس طرح کی رپورٹ دی جاسکتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ان اوصاف سے متصف ہونے کے باوجود پاراچنار کو بدامنی میں دھکیلنا مقصود و مطلوبِ ریاست کیوں ہے؟ بہر اس بار بھی گویا 1987 اور 1996 کے واقعات کی طرح، علاقے کے امن کو افغانستان سے متعلق مسائل پر قربان کرنے کا منصوبہ تھا اور اس بار بھی ہمارے افغان میزبانوں کو اس جنت نظیر خطے کی ضرورت پڑی تھی جس کی حقیقت بعد میں پاکستان کے کچھ اصول پسند صحافیوں نے طشت از بام کردی اور واضح ہوا کہ یہاں تو جنگ سے پہلے پاراچنار کی مسجد ضرار میں حقانی نیٹ ورک کے ملا سیف الرحمن منصور کی کرم ایجنسی کے امیر کے طور پر دستار بندی بھی ہوئی تھی جو امارت کا دستار سر پر رکھنے کے چند ہی روز بعد مدافعین کی گولی کا نشانہ بن کر ہر شیئے کا حساب رکھنے والے مالک کے پاس چلا گیا (إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیباً (نساء / 86))۔

اس دوران پاکستان بھر میں سرگرم عمل دہشت گرد ٹولوں کو بھی پاراچنار کی فتح کے سبز باغ دکھائے گئے۔

عید نظر ـ جو دیگر تکفیری سرخیلوں کی طرح جرائم پیشہ شخص سمجھا جاتا ہے اور یزید نظر کہلوانا پسند کرتا ہے ـ کو وفاقی وزارت داخلہ کی منظوری سے فاروقیہ انجمن کا سرغنہ مقرر کیا گیا جس پر یہاں کی اکثریتی آبادی نے احتجاج کیا اور ریاستی نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ علاقے کو آگ میں جھونکے جانے سے بچانے کی غرض سے اس کو اس عہدے سے ہٹایا جائے لیکن سرکار پر ان مطالبات کا کیا اثر ہوسکتا تھا جو خود ایک منصوبے کے تحت یہ سب کرچکے تھے؛ چنانچہ تکفیری ـ ریاستی منصوبے کے تحت کسی بھی قسم کی کاروائی نہیں ہوئی اور ادھر یہ شخص اور اس کے تکفیری معاونین نے شیعہ افسروں کو ایجنسی بدر کرنے، اور ہیڈکوارٹر کو صدہ منتقل کرنے نیز پاراچنار میں اقلیتی آبادی کے لئے الگ اسکول اور کالج بنانے جیسے مطالبات بھی کرنا شروع کئے۔ 

یزید کہلوانے پر فخر کرنے والوں نے طالبان کے ساتھ جنگ کا آغاز مارچ ہی سے کیا تھا جب انھوں نے شابک کے مقام پر ایوب نامی شخص کو کئی شیعہ اور سنی مسلمانوں کے ہمراہ بےدردی سے قتل کردیا اور کچھ دن بعد ایک سنی شخص کو شیعیان آل رسول(ص) کے ساتھ دوستانہ تعلق کی بنا پر ذبح کیا جو کرم ایجنسی کی تاریخ میں شاید انسانوں کو ذبح کرنے کا پہلا واقعہ تھا جس کی تصاویر اور ویڈیو بھی نشر کی گئی اور پھر ششو کے مقام پر ایک شخص کو اسی الزام میں ذبح کیا گیا۔

اپریل 2007 کے آغاز میں کرم ایجنسی میں سیلاب آیا تو صوبہ سرحد کے اس وقت کے گورنر لیفٹننٹ جنرل (ر) علی محمد جان اورکزئی نے بروز پیر 2 اپریل، کرم ایجنسی کے ہنگامی دورے کے دوران موقع پر موجود افراد سے بات چیت کرتے ہوئے سیلاب اور اس سے پیش آمدہ مسائل اور نقصانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ "یہ ایک قدرتی آفت تھی لیکن جو آفت آنے والے دنوں میں نازل ہورہی ہے اس کے سامنے یہ ہیچ ہے۔ انھوں نے در حقیقت کچھ ہی دن بعد 7 اپریل کو ہونے والے ہمہ جہت تکفیری حملے کی طرف اشارہ کیا تھا اور ایک ذمہ دار حکمران اور گورنر سرحد کی حیثیت سے ان کی اس بات کا بڑا سادہ سا مفہوم یہی ہے کہ اس 2007 میں شروع ہونے والی جنگ کا انتظام بھی ریاست نے ہی کیا تھا کیونکہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پاکستان کی سرزمین پر حکومت پاکستان کی مرضی کے بغیر کوئی گڑبڑ کی جاسکتی ہے یا کوئی خاص ٹولہ باقاعدہ لشکرکشی کرکے عسکری کاروائی کرسکتا ہے۔

ابتدائے سال میں انجمن فاروقیہ پر مسلط ہونے والے سول اور ملٹری اسٹبلشمنٹ سے وابستہ دہشت گردوں کے سرغنوں نے پولیٹیکل انتظامیہ کی ایماء پر بےحیائی کی انتہا کرتے ہوئے شیعہ اکثریت کی طرف سے محرم الحرام اور پھر اربعین حسینی کے موقع پر دائمی دائمی ابدی حریت پسندانہ اور استبداد شکن اسلامی نعرے "حسینیت زندہ باد اور یزیدیت مردہ باد" پر شدید رد عمل ظاہر کیا اور سرکاری مشینری نے بھی ان کے ساتھ اپنی مکمل ہمآہنگی کا ثبوت دیتے ہوئے متعدد شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کرکے جیل میں منتقل کیا اور 12 ربیع الاول کو ـ میلادیوں کو کافر کہنے والوں نے ـ دل آزار نعرے لگائے، شان اہل بیت اور بطور خاص فرزند رسول (ص) امام حسین علیہ السلام کی شان میں گستاخی کی؛ یا یوں کہئے کہ نانا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کی یاد میں جلوس نکال کر فرزندان محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کی شان میں تاریخی گستاخی کی گئی اور "شہادت حسین مردہ باد اور یزیدیت زندہ باد کے نعرے لگائے گئے جبکہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرکے اپنے زمانے ایک حیلہ گر سیاستدان اور جابر حکمران کا بھائی قرار دیا گیا اور یہ سب مشترکہ منصوبے کا حصہ تھا!

فطری طور پر شیعہ نوجوان مشتعل ہوئے اور شیعہ عمائدین نے شرانگیز افراد کے خلاف سرکاری کاروائی کا مطالبہ کیا مگر حکومت نے تو بڑی آفت کے منصوبے کا پیشگی اعلان کردیا تھا تو ایسے میں حکومتی مشینری سے کیا توقع کی جاسکتی تھی؟

مقامی آبادی کی طرف سے شرپسندوں پر ہاتھ ڈالنے کے مطالبے اور سرکاری کارندوں اور پولیٹیکل ایجنٹ اور اس کے معاونین کی طرف سے لیت و لعل کا یہ سلسلہ جاری رہا حتی کہ 17 ربیع الاول سنہ 1428 ہجری کی تاریخ آن پہنچی جو خاندان رسالت علیہم السلام کی روایت کے مطابق حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی تاریخ ولادت ہے۔

اس دن مرکزی امام بارگاہ پاراچنار میں میلاد سرور کائنات (ص) اور ہفتۂ وحدت مسلمین منانے کا اہتمام کیا گیا تھا اور ایک سنی عالم دین تقریب کی صدارت کررہا تھا کہ اسی اثناء میں کچھ معترض نوجوانوں نے مسجد ضرار کی طرف جاکر 12 ربیع الاول کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی ولادت کے دن فرزند رسول(ص) کی توہین کے سلسلے میں احتجاجی نعرے لگائے تو مسجد سے بم پھینکا گیا اور آرمی کے اہلکاروں نے فائرنگ کی، چار نوجوان موقع پر شہید ہوئے جس کے بعد مسجد ضرار پر اذان کی غرض سے بنے ہوئے منار نیز مسجد اور ملحقہ عمارتوں میں پہلے سے مورچہ بند قبائلی، پاکستانی اور غیر ملکی دہشت گردوں نے امام بارگاہ، مسجد، مدرسہ جعفریہ اور شہر کی عام آبادی پر فائرنگ کھول دی جبکہ مسجد کے اندر سے اندھادھند مارٹر گولے پھینکے جانے لگے جبکہ فوجی مسجد میں موجود تھی۔

کئی گھنٹوں تک یکطرفہ فائرنگ جاری رہی، شہداء کی لاشیں بکھری رہیں جبکہ زخمیوں تک رسائی اور انہیں اسپتال منتقلی ممکن نہ تھی، جس کے بعد مدافعین نے شہر کا کنٹرول سنبھال لیا لیکن جنگ منصوبے کے تحت شہر کے ساتھ ساتھ کرم ایجنسی کے تمام دیہی علاقوں میں چھڑ گئی۔ سینکڑوں درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوئے اور اربوں کی املاک کو نقصان پہنچا۔

چار سال تک جارہی رہنے والی اس جنگ کا ابتدائی مرحلہ ایک ہفتے تک جاری رہا اور شہداء کی تعداد 61 تک جا پہنچـی اور فریق مقابل کو بھی کانٹے دار مقابلے کا سامنا کرنا پڑا چنانچہ ان کے جانی نقصانات حملہ آور تکفیری لشکروں کے تناسب سے کچھ زیادہ ہی رہے۔

حکومت اور افواج نے اس جنگ میں حملہ آور فریق کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے درجنوں شیعہ زخمیوں کو زمین پر پڑے چھوڑ کر فساد کے سرغنے عید نظر کو ہیلی کاپٹر میں پشاور منتقل کیا جو شیعہ اکثریت پر حملے کے دوران کسی مدافع کی گولی سے زخمی ہوچکا تھا؛ اس کے بچانے کا اصل مقصد یہ تھا کہ مستقبل میں بھی اگر فساد کرانا ہو تو اس کے وجود سے فائدہ اٹھایا جاسکے اور یہ جتانا بھی مقصود تھا کہ مقامی شیعہ آبادی کے خلاف ہونے والی جنگ میں ان کا اصل فریق تکفیری ہی نہیں بلکہ ان کے سرکاری سرپرست انہیں کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

حکومت نے اس مرحلے میں جنگ بندی کا اعلان اس وقت کیا جب جب ریاستی مشینری کو تکفیریوں کی دال گلتی نظر نہ آئی۔

شیعیان اہل بیت(ع) نے ہمیشہ کی طرح اپنے مطالبات کے لئے قانون کا دامن تھاما لیکن مقامی انتظامیہ نے فریقین کے کچھ افراد ـ یعنی گنہگاروں کے ساتھ بےگناہوں کو بھی ـ گرفتار کرکے کچھ دن بعد بےگناہ قرار دے کر رہا کردیا!

اپریل کی اس جنگ کے کچھ دن بعد ٹانگئے کے یوسف حسین کو اپنی گاڑی سمیت صدہ سے اغوا کیا گیا، اور پھر وزیرستان سے ایف سی کے 100 شیعہ اہلکاروں کے جنازے آئے جن میں دوسرے مکاتب کا ایک فرد بھی نہ تھا جو خود سوالیہ نشان ہے۔ یہ لوگ ملکی سرحدوں اور سرحدی علاقوں میں ریاستی مفادات کے لئے تعینات تھے؛ اور ان شیعہ اہلکاروں کی لاشیں مسخ ہوچکی تھیں، کئی افراد ذبح کئے جاچکے تھے اور ان کے جسموں پر درندگی کے نشانات صاف دکھائی دے رہے تھے۔ وطن کے ان محافظوں کے درناک اور مشکوک قتل عام کے بارے میں نہ تو کسی نے کچھ پوچھا اور نہ ہی کسی نے وضآحت کو ضروری سمجھا۔

بعدازاں ایک نوجوان شیعہ محافظ وطن شہید لائق حسین کو نہتا کرکے شہید کیا گیا اور ظاہر ہے کہ ان کا جنازہ سرکاری افواج ہی کے ہاتھوں پاراچنار منتقل ہوا لیکن ان کے جنازے کے ساتھ ایک ویڈیو سی ڈی بھی موجود تھی جس میں دین دشمن دہشت گردوں کے زیر سرپرستی بچوں کے ہاتھوں ان کا گلا کاٹنے کی تصویر کشی کی گئی تھی۔

یوں گورنر علی محمد جان اور سول اور ملٹری حکام نے عوام کو مشتعل کرکے وطن کے امن کو ایک بار پھر سبوتاژ کرنے کا راستہ ہموار کیا؛ وہ حکومت سرحد اور افواج پاکستان اور طالبان دہشت گردوں کے درمیان ہونے والی جنگ کو کرم ایجنسی منتقل کرکے ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتے تھے اور اس مقصد کے حصول کے لئے وطن دشمن تکفیریوں کے مذہبی جذبات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا منصوبہ بنائے ہوئے تھے۔

حکومت اور ایف سی نے لائق حسین کی شہادت کی سی ڈی گھر گھر تک پہنچانے کا اہتمام کیا اور پھر وزیرستان، سوات، خیبر اور اورکزئی سمیت مختلف قبائلی اور بندوبستی علاقوں سے طالبان کے لشکر کرم ایجنسی منتقل کرنے کی راہ ہموار کی گئی تاکہ شیعیان کرم پر ایک فیصلہ کن جنگ کو ممکن بنایا جاسکے۔

اس دوران کشمیر میں دہشت گردی پر مامور اور ایجنسیوں سے "میجر" کا لقب پانے والے ایک شخص نے پشاور میں دہشت گرد ٹولے کالعدم سپاہ صحابہ کے اجلاس سے خطاب کرکے کہا کہ پاراچناریوں کو اس بار کشمیر میں لڑنے والے مجاہدین کا زور دکھایا جائے گا یہ الگ بات ہے کہ پنجاب میں کرمی عوام کے لئے کیمپوں کا انتظام کرنے والے ملک پر مسلط ملک دشمنوں کی سازشوں کا ایک بار پھر ناکام ہونا، مقدر تھا اور یہاں کے لوگ اپنی تاریچ اور اپنے اعزازات کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ کے لئے تیار نہ تھے۔

کرم ایجنسی میں مقامی شیعہ آبادی کے لئے ایک چاقو لینے پر تو قدغن ہے لیکن راکٹوں سے لیس دہشت گردوں کو دندناتے پھرنے کی اجازت دی گئی اور فوج اور ایف سی کی چیک پوسٹوں پر پہنچ کر ان کے لئے پھاٹک کھول دیئے جاتے تھے جبکہ مقامی آبادی پر سختی کی جاتی تھی۔

کرم کے پرامن عوام نے ایک بار پھر مقامی، صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے بار بار مطالبہ کیا لیکن گلے شکوے بے سود رہے اور مختلف علاقوں سے آئے ہوئے طالبان دہشت گردوں نیز القاعدہ جیسی عالمی دہشت گرد تنظیم میں سرگرم دنیا بھر کے کئی ممالک کے دہشت گردوں کو مسجد ضرار سمیت مقامی تکفیریوں کی املاک، ہوٹلوں اور گھروں میں تعینات کیا گیا اور مقامی شرپسند خاندانوں کی عورتوں اور بچوں کو خاموشی سے شہر سے دور کیا گیا۔

یہاں آئے ہوئے دہشت گردوں کا اظہار ان کے مالکانہ احساس پر مبنی تھا چنانچہ انھوں نے شہر کے تمام سیاسی، سماجی، انتظامی، تعلیمی اور طبی معاملات میں ٹانگ اڑانا شروع کیا۔

شہر پاراچنار میں مسجد ضرار، اور اس سے ملحقہ املاک اور میراجان کالونی، بوشہر، بوغرہ، ، سنگ بست، شلوزان تنگی، پیواڑ تنگی، تری منگل، مقبل، ششو، مروخیل، بگزئی، وغیرہ کے مقامی اور آبادکار تکفیریوں نے طالبان اور القاعدہ نیز پاکستان کی دہشت ساز فیکٹریوں میں پروان چڑھنے والے تکفیری دہشت گردوں کے ساتھ مشترکہ اجلاسوں میں شرکت کرکے کرم کے شیعہ عوام پر فیصلہ کن جنگ مسلط کرنے کی سازش تیار کردی اور ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اس سلسلے میں انہیں اس وقت کے گورنر علی محمد جان کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی اور انھوں نے ریٹائرڈ فوج افسر کے طور پر طالبان کمانڈروں کو اس جنگ کے سلسلے میں بریفنگ دی تھی۔

اس کے بعد اسی سازش کے تحت 4 اگست 2007 کو عیدگاہ مارکیٹ کے قریب فلائنگ کوچ اڈے میں پہلا خودکش بم دھماکہ ہوا جس میں گیارہ افراد شہید اور 60 زخمی ہوئے؛ حکومت اور تکفیریوں کو اس دھماکے کی پیشگی اطلاع تھی چنانچہ اس دن مقامی اور آبادکار تکفیری گھروں میں رہے، ان کی دکانیں بند رہیں یہاں تک کہ سرکاری ملازمین بھی ڈیوٹی سے غیرحاضر رہے لہذا صرف شیعہ افراد شہید اور زخمی ہوئے۔ بعض اطلاعات کے مطابق خودکش کار بم کو سرکاری نگرانی کے اندر پہنچایا گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق، اس سے پہلے اے پی اے اقبال خٹک کو خبردار کیا گیا تھا کہ پاراچنار کے مان سنگھ دروازے کا رہائشی اور پاڑہ چمکنی کے سور ملا کا بیٹا اور محرر محمد افضل کا بھتیجا غیور چمکنی سفید کرولا گاڑی میں خودکش دھماکہ کرنے والا ہے؛ اے پی اے سے مسلسل مطالبہ کیا جاتا رہا کہ اس حملے  کا سد باب کرے لیکن دھماکے کا انسداد منصوبے کے مقصد سے متصادم ہونے کی بنا پر کوئی انسدادی اقدام نہیں ہوا؛ پھاٹک کھلے رہے۔

خودکش دہشت گرد، اس کا پورا خاندان، دھماکے کا ماسٹر مائنڈ سب معلوم ہونے کے باوجود، ریاستی اداروں نے کوئی بھی اقدام ضروری نہیں سمجھا۔ مسجد ضرار میں خودکش قاتل کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی اور پی اے کرم صاحبزادہ انیس نے پریس بریفنگ کے دوران یہ بھی بتا ڈالا کہ خودکش حملہ آور کے حملے کا نشانہ کوئی اور مقام تھا ـ گویا پی اے کرم کو اس کا پہلے سے علم تھا لیکن  منصوبہ کامیاب نہیں رہا تھا کیونکہ دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی موقع پر موجود دوسری گاڑی سے ٹکرانے کے نتیجے میں پھٹ گئی تھی۔ 

یہاں بھی عوام نے اپنی محب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے ـ مسجد ضرار میں دہشت گرد کے لئے نماز جنازہ پڑھانے جانے کے باوجود ـ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر بدلہ لینے کے بجائے ایک بار پھر حکومت سے چارہ جوئی کی اور مسلمانوں کا اتحاد پارہ پارہ ہونے اور اپنے ہی گھر [کرم ایجنسی] کو تباہی سے بچانے کی بھرپور کوشش کی اور صبر و تحمل کا دامن تھام کر وقتی طور پر علاقے کے خونریز جنگ سے بچا لیا۔ لیکن سازش کرنے والے اپنی سازش پر بضد تھے اور یہ دھماکہ بھی بہر کیف صہیونی ـ وہابی افکار کے پیروکار ـ تکفیریوں کی طرف سے بھرپور جنگ کے آغاز کے لئے ہونے والی سازش کا حصہ تھا۔ 

نوٹ: زیر نظر مضمون مصنف نے اپنے نقطہ نظر سے لکھا ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے، تو قلم اٹھائیں اور اپنے ہی الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس: tasnimnewsurdu@gmail.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری