کلبوشن پھانسی؛

کلبوشن بھارت کا بیٹا ہے، سشما  / کوئی دباو قبول نہیں، نواز شریف

خبر کا کوڈ: 1377946 خدمت: پاکستان
نواز سشما

پاکستان میں بھارتی جاسوس کلبوشن یادیو کو پھانسی کی سزا کا فیصلہ سنانے کے بعد بھارت اور پاکستان کے رہنما بھی اپنا اپنا موقف لئے میدان میں اتر آئے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق بھارتی جاسوس کلبوشن یادیو کو سزائے موت سنائے جانے پر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ کلبوشن بھارت کا بیٹا ہے، اسے بچا نے کیلئے ہر حد تک جائیں گے، ہمسایہ ملک کا پھانسی کی سزاء سنانے کا اقدام دو طرفہ تعلقات کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ پاکستان نے پھانسی دی تو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

سشما سوراج کا کہنا تھا کہ پاکستانی سزا کے فیصلے سے نمٹنے کے لیے بہترین وکیل فراہم کیے جائیں گے اور کلبھوشن یادیو کی حفاظت کے لیے جس فورم پر لڑنے کی ضرورت ہوئی، لڑا جائے گا۔

اسی طرح بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ نے کلبوشن یادیو کو موت کی سزاسنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت سے کلبوشن کے لیئے جو ہوسکے گا کرے گی۔

بھارتی وزیر داخلہ نے نئی دہلی میں کلبوشن کے حوالے سے لوک سبھا میں اپنے بیان میں کہا کہ کلبوشن یادیو کو پاکستان میں ایک جاسوس کے روپ میں پیش کیا گیا اور بعد ازاں انصاف کے تقاضے مدنظر رکھے بغیر اس کو سزائے موت کی سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا جس کی بھارتی حکومت شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور اور دیگر اراکین نے بھی کلبوشن کو سزائے موت سنائے جانے کی مذمت کی۔

لوک سبھا کے اجلاس میں دوسرے بھارتی رہنماؤں نے بھی پاکستان کے خلاف تقاریر کیں۔

جبکہ بھارتی اپوزیشن جماعت کانگرس کے رکن مانی شنکر نے مودی حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کلبوشن یادیو کا کیس لڑنے کیلئے پاکستان میں اعتزاز احسن یا عاصمہ جہانگیر جیسے وکلاء کی خدمات حاصل کی جائیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر بھارت کے پاس بھی کلبوشن یادیو جیسا قیدی ہو تو پاکستان سے ڈیل ہو سکتی ہے۔

ایک بھارتی اخبار کو اپنے حالیہ انٹرویو میں پاک بھارت مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہتا تو کلبوشن یادیو سزا سے بچ سکتا تھا ۔

دوسری جانب پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے 2 ٹوک انداز میں بیان دیا ہے کہ  کلبوشن یادیو نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا اعتراف کیا۔

بھارتی جاسوس کے معاملے پر کسی قسم کا بیرونی دباو قبول نہیں کریں گے اور معاملے کو دنیا بھر میں اٹھایا جائے گا۔

وزیراعظم نوازشریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کلبوشن کو قانون کے مطابق سزائے موت سنائی گئی، اس معاملے پر کوئی دباو قبول نہیں کیا جائے گا۔

پاکستان کے سابق صدر جنرل مشرف پرویز (ر) نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کو پھانسی کا فیصلہ قانون کے مطابق ہے۔

اسی طرح بھارت میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس بھارتی ایجنٹ کلبوشن یادیو کے خلاف جاسوسی اور بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے خاطر خواہ شواہد موجود ہیں اور پاکستان بھارتی حکومت کو بھی شواہد فراہم کرے گا۔

 عبدالباسط کا کہنا ہے کہ اس پر شفاف طریقے سے مقدمہ چلایا گیا ہے ۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے بھارتی جاسوس کلبھوشن کو پاکستان مخالف سرگرمیوں اور جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنائے جانے پر کسی قسم کا ردعمل دینے سے انکار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئٹریس کے ترجمان نے  کہا کہ ابھی ہم اس پوزیشن میں نہیں کہ اس معاملے پر اظہار خیال کرسکیں تاہم جہاں تک پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی بات ہے تو ہم نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ دونوں ملکوں کو اپنے تنازعات حل کرنے کیلیے اور خطے میں امن کیلیے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔

    تازہ ترین خبریں