جنرل سیکرٹری ایم ڈبلیو ایم:

ملت جعفریہ کے لاپتہ افراد کو بازیاب نہ کیا گیا تو ہم بھرپور احتجاج پر مجبور ہونگے

خبر کا کوڈ: 1378212 خدمت: پاکستان
علامہ راجہ ناصر عباس

مجلس وحدت مسلمین سندھ ضلع خیرپور کے زیر اہتمام عظمت علی و فاطمہ زھرا کانفرنس کنب کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقد کی گئی، جس میں ملت تشیع کی مختلف مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں سمیت شہداء کے لواحقین، علماء کرام اور بڑی تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق مجلس وحدت مسلمین سندھ ضلع خیرپور کے زیر اہتمام عظمت علی و فاطمہ زھرا کانفرنس کنب کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقد کی گئی، جس میں ملت تشیع کی مختلف مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں سمیت شہداء کے لواحقین، علماء کرام اور بڑی تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی۔

کانفرنس سے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ٹیلی فونک خطاب کیا، جبکہ مجلس وحدت مسلمین کی شورائے عالی کے رکن علامہ حیدر علی جوادی، سندھ کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی، مرکزی ترجمان علامہ مختار احمد امامی، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا نشان حیدر ساجدی، مولانا محمد نقی حیدری، مولانا سید ثمر نقوی، علامہ احمد علی طاہری، مولانا سجاد محسنی و آفتاب میرانی و دیگر نے خطاب کیا۔

کانفرنس سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ شہداء کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا، ملک سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ہم چین سے نہیں بیٹھں گے، شدت پسندی کے خلاف تمام معتدل جماعتوں سے مل کر جدوجہد جاری رکھی جائے گی، کالعدم جماعتوں اور انتہاء پسندوں سے حکومتی شخصیات کے دوستانہ روابط افسوسناک اور شہداء کے خون سے غداری ہے، پوری قوم اس منافقانہ طرز عمل پر سراپا احتجاج ہے، وطن عزیز میں قومی سطح پر دہشت گردی کا سب سے زیادہ نقصان ملت تشیع کو اٹھانا پڑا، ہمارے بہترین پروفیشنلز، ڈاکٹرز، وکلا، پروفیسرز اور اعلٰی تعلیم یافتہ افراد کو دن دیہاڑے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا، یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام کے بعد بھی ہمیں انصاف فراہم نہ ہوسکا، شیعہ کلنگ میں ملوث دہشت گردوں کے ساتھ لچک کا یہ مظاہرہ ملک میں رائج انصاف کے دوہرے معیار پر دلالت کرتا ہے۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مزید کہا کہ ہمارے بے گناہ نوجوانوں کو گھروں سے اٹھایا جاتا ہے اور کئی کئی ماہ تک عقوبت خانوں میں جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، انہیں نہ عدالتوں میں پیش کیا جا رہا ہے اور نہ ہی تحقیقاتی ادارے ہمارے لاپتہ افراد کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، حکومت کے یہ انتقامی حربے قانون و انصاف کا قتل اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے، اعلیٰ عدلیہ ان واقعات کا فوری نوٹس لے، تاکہ عوام کو تحفظ اور سکون میسر ہو۔ انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ہمارے لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب نہ کیا گیا تو پھر ہم احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر دیگر جماعتوں کی مشاورت سے پارلیمنٹ کے باہر بھرپور احتجاج بھی کیا جا سکتا ہے۔

علامہ حیدر علی جوادی کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک میں امریکہ کی مداخلت امت مسلمہ کی تنزلی کا بنیادی سبب ہے، اسلامی ریاستیں امریکی ڈالر کے استعمال پر پابندی لگا کر ٹرمپ کی ساری رعونت کو خاک میں ملا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے لبادے میں چھپ کر یہود و نصاریٰ کے مفادات کے لئے سرگرم نام نہاد مسلم حکمرانوں کو آشکار کرنے کا وقت اب آگیا ہے، داعش، النصرہ، طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کا تعلق اسلام سے نہیں صیہونیت سے ہے، روشن اسلامی تشخص کو داغدار کرنے کے لئے ان اسلام دشمن قوتوں کو متحرک کیا گیا، شام اور عراق میں ان دہشت گرد عناصر کی پسپائی پر عالمی طاقتوں کا واویلا تعلقات کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے کافی ہے، یہود و ہنود کے آلہ کار یہ تکفیری گروہ ہر اسلامی ریاست کے لئے خطرہ ہیں، ان کی بیخ کنی ہی عالمی امن کی ضمانت ہے۔

مرکزی ترجمان علامہ مختار امامی نے کہا کہ شیعہ سنی اتحاد ملک دشمن عناصر کے عزائم کی موت ثابت ہوگا، اس اتحاد کی تکمیل کے لئے ہر سطح پر بھرپور کوششیں کی جانی چاہیئے، جو عناصر شیعہ سنی اخوت و اتحاد میں رخنہ ڈالنا چاہتے ہیں وہ ملک و قوم کے دشمن ہیں، حلب میں داعش کی شکست کا نوحہ پڑھنے والے نام نہاد مذہبی رہنما اب موصل میں دہشت گردوں کی شکست پر آہ و بکا کرنے کے لئے تیار رہیں، شام سے بھاگنے والے دہشت گردوں نے اپنا رُخ پاکستان کی طرف موڑ لیا ہے، انہیں پاکستان میں داخل ہونے دینا ملکی سلامتی کو سنگین خطرات سے دوچار کرسکتا ہے، یزیدی فکر کے ان پیروکاروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے، ان کے ساتھ ہمدردی رکھنے والی کسی بھی سیاسی و مذہبی جماعت کو غدار وطن سمجھا جائے گا۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ ملت تشیع ملک کے قانون و آئین کی محافظ ہے، ملکی سالمیت و استحکام کے لئے ہم نے ہمیشہ ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے، حکمران ہمیں دیوار سے لگانے کا خیال دل سے نکال دیں، ہم اپنے حقوق کا دفاع کرنا بخوبی جانتے ہیں، سانحہ سیہون شریف کے مجرموں کو بے نقاب کیا گیا اور نہ ہی متاثرین کی مدد کی گئی، حکمرانوں کا منافقانہ رویہ اور دہشت گردوں سے ہمدردی، دہشت گردی کے خاتمہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ زائرین کے خلاف نواز حکومت کی پالیسی قابل مذمت ہے، اپنے ہی ملک میں این او سی طلب کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے، زائرین کے مسائل کے لئے بھرپور آواز اٹھائیں گے۔ علامہ نقی حیدری نے کہا کہ شیعہ قوم ملک کی سالمیت و بقاء کی ضامن ہے، ہم ملک دشمن عناصر کی سازشوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں گے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری