مالی سال 2016-17؛ پاک بھارت کے سرحد پر تعلقات کشیدہ جبکہ تجارتی توازن بھارت کے حق میں

خبر کا کوڈ: 1378510 خدمت: پاکستان
هند و پاکستان

پاک بھارت سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود رواں مالی سال کے آغاز سے ہی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں خاطرخواہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والی حالیہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 17-2016 کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران پاکستان سے بھارت کو جانے والی برآمدات میں اضافہ دیکھا گیا جبکہ درآمدات میں 23 فیصد کمی واقع ہوئی۔

واضح رہے کہ اس دوران تجارتی توازن بھارت کے حق میں رہا۔

دونوں ممالک کے تعلقات طویل عرصے سے کشیدگی کا شکار ہیں تاہم متاثر ہوتے سیاسی تعلقات کے باوجود پاکستان اور بھارت کے دوطرفہ تجارتی تعلقات پر اس کا اثر بہت کم ہے۔

14 فیصد اضافے کے بعد پاکستان سے بھارت جانے والی برآمدات جولائی سے فروری کے دوران 28 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز رہیں جبکہ بھارت سے آنے والی درآمدات 23 فیصد کمی کے بعد 1 ارب 24 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔

خیال رہے کہ بھارت سے اچھے تجارتی تعلقات کے خواہاں لوگوں کو پاکستان میں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ سرحد کے پار صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔

پاکستان سے بھارت برآمدات میں اضافے کی اہم وجہ ہمسایہ ملک میں سیمنٹ کی بڑھتی ہوئی مانگ ہے اور یہی وجہ پاکستان کی افغانستان اور جنوبی افریقا میں سیمنٹ کی برآمدات میں کمی کا باعث ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے حصے میں جنوبی افریقا اور افغانستان میں سیمنٹ برآمدات میں تنزلی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ 5 سال سے پاک-بھارت تجارت کا توازن بھارت کے حق میں رہا ہے اور پاکستان ہمسایہ ملک میں اپنی مصنوعات کے لیے مارکیٹ قائم کرنے میں ناکام ہوا ہے۔

رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں پاکستان کا بھارت کے ساتھ تجارتی خسارہ 67 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز رہا جبکہ گذشتہ سال اسی عرصے کے دوران اس خسارے کی شرح 99 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز تھی۔

مالی سال 16-2015 میں بھارت سے درآمدات کی شرح پاکستان کی برآمدات سے 4 گنا زیادہ تھی۔

گذشتہ پانچ سال میں دوطرفہ تعلقات کمزور ترین رہنے کے باوجود بھارت سے درآمدات میں اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ 16-2015 میں پاکستانی درآمدات 1ارب 80 کروڑ رہیں۔

    تازہ ترین خبریں