ویڈیو رپورٹ/

کیا امریکہ کا سب سے بڑا بم، "آچین" کی ایک لاکھ آبادی میں سے کسی کی موت کا سبب نہیں بنا؟

خبر کا کوڈ: 1379839 خدمت: دنیا
مادر بمب

امریکہ کی جانب سے جمعرات کی شب افغانستان میں داعش کے ٹھکانوں پر "سارے بموں کی ماں" کہلانے والے غیر جوہری بم کے حملے سے اب تک ہلاک ہونے والے داعشی جنگجوؤں کی تعداد 96 ہوگئی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق جمعرات کی شب افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ضلع آچین کی پہاڑیوں پر 11 ٹن بارودی دھماکا کرنے والے جی بی یو 43 نامی بم سے داعش کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

آچین کے ڈسٹرکٹ جنرل اسمعیل شنواری نے مذکورہ حملے میں اب تک داعش کے 96 دہشتگرد ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔

دوسری جانب ننگرہار کے صوبائی ترجمان عطااللہ خوگیانی نے اس حملے میں داعش کے 90 دہشتگرد ہلاک ہونے کی اطلاع دی ہے۔

واضح رہے کہ ابتدائی طور پر افغان حکام نے داعش کے 36 دہشتگردوں کے مارے جانے کی خبر دی تھی۔

پینٹاگون کے ترجمان ایڈم اسٹمپ کے مطابق امریکی فوج نے پہلی مرتبہ افغانستان میں نان نیوکلئیر بم کا استعمال کیا جس سے داعش کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

پینٹاگون کے مطابق نان نیوکلئیر بم کا مختصر نام ’’مدر آف آل بمز‘‘ ہے جب کہ فضائیہ میں اسے میسو آرڈیننس ایئر بلاسٹ بم کہا جاتا ہے۔

تاہم ہر ذی شعور انسان کے ذہن میں یہ سوال ضرور آتا ہے کہ ایک لاکھ آبادی پر مشتمل علاقے پر گرائے جانے والے 9۔1 میٹر لمبے اور 11ٹن وزنی بم کہ جس میں 464 کیلو دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا گیا ہو، عام شہریوں کی موت کا سبب نہیں بنے گا؟

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس بم کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔

گارڈین اخبار کا کہنا ہے کہ یہ بم زمین پر لگنے سے پہلے ہی پھٹ جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ بم اپنی تیز شعاعوں کے ذریعے کم سے کم ڈیڑھ کیلومیٹر تک علاقے کو مکمل طور پر نابود کرتا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری